پسند کی شادی کرنیوالوں میں طلاق کے رجحان میں خوفناک حد تک اضافہ

پسند کی شادی کرنیوالوں میں طلاق کے رجحان میں خوفناک حد تک اضافہ
 پسند کی شادی کرنیوالوں میں طلاق کے رجحان میں خوفناک حد تک اضافہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 لاہور(رپورٹ:کامران مغل)فیملی اور گارڈین کورٹس میں گزشتہ5برسوں میں پسند کی شادی، خلع،خرچہ اور بچوں کی حوالگی سے متعلق1 لاکھ44ہزار سے زائدکیس دائر ہوئے،جن میں سے تقریباً40فیصد کے فیصلے ہوئے جبکہ60فیصد تاحال زیرسماعت ہیں۔

پسند کی شادی کرنیوالی لڑکیوں میں خلع لینے اور لڑکوں میں طلاق دینے کے رجحان میں خوفناک حد تک اضافہ کووکلاء اورنفسیاتی ماہرین بے جوڑ رشتے، خود سری، اناء پرستی، معاشرتی نا ہمواری، عدم برداشت قراردے رہے ہیں۔ فیملی اور گارڈین کورٹس میں کیسوں کی شرح میں دن بدن اضافہ  ہوتا جارہاہے،ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سال2018ء میں فیملی کورٹ میں 19217خلع اور خرچہ وغیرہ اور گارڈین کورٹ میں بچوں کی حوالگی کے6058،اسی طرح2019ء میں فیملی کورٹ میں 21876اورگارڈین کورٹ میں 6762، سال 2020ء میں فیملی کورٹ میں 21118جبکہ گارڈین کورٹ میں 6292، سال2021ء میں فیملی کورٹ میں 24471جبکہ گاڑین کورٹ میں 8282اور رواں سال 2022ء میں فیملی کورٹ میں 22545 جبکہ گارڈین کورٹ میں 7887کیس دائرہوئے۔فیملی کورٹس سے زیادہ تر طلاقیں پسند کی شادی کرنے والی ایسی لڑکیوں نے حاصل کیں جن کی شادی کو 1 برس بھی نہیں گزرا تھا.

اس حوالے سے قانونی وآئینی ماہرین سابق کوآرڈنیٹر پاکستان بارکونسل مدثر چودھری،غلام مجتبیٰ چودھری، مجتبیٰ حیدر، متین چودھری،اسامہ بن راشد، زمان منظور، علی عثمان،خاور چودھری اور میڈیم سعدیہ نے روزنامہ "پاکستان" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ماں باپ کی مرضی کے خلاف پسند کی شادی کرنے والی لڑکیاں جب طلاق لینے کے لئے عدالت آتی ہیں تو اپنے دعوؤں میں شوہروں پر وحشیانہ تشدد، نشہ کرنے، پہلے سے شادی شدہ ہونے، خرچہ نہ دینے،ازدواجی حقوق پورے کرنے کی اہلیت نہ کرنے سمیت دیگر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتی ہیں جبکہ شادی سے قبل ماں باپ سے بحث کرتے اور عدالتوں میں شادی کے حق میں بیان دیتے ہوئے اسی لڑکے کو دنیا کا بہترین مرد قرار دیتی ہیں،اکثرلڑکیاں مبینہ طور پر گھروں سے بھاگ کر شادی کرتی ہیں۔

ججز، وکلاء، ماہر نفسیات اور سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے خواتین کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی اہمیت اپنی جگہ مگر معاشرتی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی بھی ضرورت ہے جس کیلئے مصالحتی نظام کو مؤثر  بنایا جائے۔