جیلوں میں قیدیوں کا سردی سے ٹھٹھر کرمرنا معمول بن گیا ، گھروں سے کمبل یا رضائی منگوانے کی بھی اجازت نہیں

جیلوں میں قیدیوں کا سردی سے ٹھٹھر کرمرنا معمول بن گیا ، گھروں سے کمبل یا ...
جیلوں میں قیدیوں کا سردی سے ٹھٹھر کرمرنا معمول بن گیا ، گھروں سے کمبل یا رضائی منگوانے کی بھی اجازت نہیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 لاہور (یونس باٹھ سے)صوبہ بھر کی تمام جیلوں میں کھلے جنگلوں، مناسب انتظامات نہ ہونے اور شدید سردی کے باعث ہر سال قیدیوں کا ٹھٹھر کر مرنا معمول بن گیا،قیدیوں کوگھروں سے کمبل یا رضائی منگوانے کی اجازت نہیں اور جیل انتظامیہ بھی فراہم کرنے کو تیار نہیں،ہر سال متعدد قیدی اور حوالاتی شدید سردی کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں،قیدیوں اور حوالاتیوں کے اہل خانہ نے پنجاب حکومت اور آئی جی جیل سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جیلو ں میں فراہم کیے جانے والے کمبلوں کی تعداد10 ہزار سے کم ہے جبکہ کم ازکم1 لاکھ سے زائد کمبل مہیا ہونے چاہیئں،پنجاب کی 43 جیلوں میں سے صرف1 جیل میں کمبل تیار ہوتے ہیں وہ بھی انتہائی غیر معیاری ہوتے ہیں. مخیر حضرات کی جانب سے بھجوائے جانے والے کمبل انتظامیہ قیدیوں،حوالاتیوں کو فراہم کرنے کی بجائے مبینہ طور پر آپس میں تقسیم کرلیتی ہے، پنجاب کی جیلوں میں اس وقت قیدیوں اور حوالاتیوں کی تعداد 55 ہزار سے زائد ہے،گنجائش سے زیادہ ہونے کے باعث ہر سال متعدد اسیران کو ٹھنڈے فرش پر سونا پڑتاہے۔

جیل ذرائع کے مطابق ایک قیدی، حوالاتی کے پاس کم ازکم5کمبل ضرور ہونے چاہیئں۔ تاکہ وہ 2کمبل زمین پر بچھا سکے اور 3 کمبل اوپر اوڑھ کر سو سکے کیونکہ یہ کمبل انتہائی باریک اور غیر معیاری ہوتے ہیں سردی روکنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ جیل قوانین کے مطابق بھی ایک قیدی حوالاتی کے لیے2کمبل فراہم کرنا ضروری ہیں،جہاں تک سردی کو روکنے کے لیے احکامات ہیں جیلوں میں موجود کھلے جنگلوں پر پولی تھین شیٹ لگانا ضرور ی ہے لیکن یہ انتظامات بھی ناکافی اور نہ ہونے کے برابرہیں۔جہاں تک جیلوں میں اپنے کمبل  لے جانے یا منگوانے کی بات ہے وہ بھی انتظامیہ کی طرف سے اجازت نہیں ہے۔ اگر اسیران یہ کہتے ہیں کہ لواحقین سے وہ اپنے لیے کمبل یا رضائی منگوا لیتے ہیں تو جیل انتظامیہ کمبل کو ڈبل پلائی کہہ کر غیر قانونی قرار دے کر روک دیتی ہے۔جبکہ روئی سے بنی ہوئی کوئی بھی چیز مثلاً تکیے وغیرہ جیلوں میں لے جانے کی اجاز ت نہیں ہے۔

ذرائع نے دعویٰ کیاہے کہ کمبل رکھنے والے قیدیوں،حوالاتیوں کو2ہزار روپے سے لے کر 10 ہزار تک ماہانہ اد ا کرنا پڑتے ہیں . ساہیوال جیل کے علاو ہ دیگر جیلوں پر کمبل تیار کرنے کے لیے پلانٹ نہ ہونے کی وجہ سے سارے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ اگر باقی سنٹرل جیلوں پر بھی جہاں فیکٹریاں تو موجود ہیں مگر وہاں کمبل تیار کرنے والے پلانٹ لگادیئے جائیں تو  ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے اور قیدیوں کی جانیں بچائیں جا سکتی ہیں ۔