توشہ خانہ کی گھڑی کا تنازعہ ، ڈیلر اپنے اڑھائی لاکھ ڈالر میں فروخت کے بیان سے مکر گیا لیکن حقیقت کیا ہے؟

توشہ خانہ کی گھڑی کا تنازعہ ، ڈیلر اپنے اڑھائی لاکھ ڈالر میں فروخت کے بیان سے ...
توشہ خانہ کی گھڑی کا تنازعہ ، ڈیلر اپنے اڑھائی لاکھ ڈالر میں فروخت کے بیان سے مکر گیا لیکن حقیقت کیا ہے؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے سابق وزیر اعظم عمران خان کو تحفے میں دی جانے والی گھڑی  فروخت کرنے والا ڈیلر  اپنے پہلے بیان سے مکر گیا۔

دبئی میں مقیم پاکستانی بزنس مین عمر فاروق ظہور نے کچھ روز پہلے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی دوست فرح گوگی سے سعودی ولی عہد کی طرف سے عمران خان کو تحفے میں دی گئی گھڑی 2 ملین ڈالرز میں خریدی تھی۔

اس ٹی وی پروگرام کے بعد گھڑی فروخت کرنے والے ڈیلر  سٹائل آؤٹ واچز نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرکے بتایا کہ انہوں نے یہ گھڑی" گراف مکہ ایڈیشن"  2019 میں اڑھائی لاکھ ڈالرز میں فروخت کی تھی اور یہ صرف ایک ہی گھڑی تھی اور اب ان کے پاس اس گھڑی کے ساتھ کی کوئی اور گھڑی نہیں ہے۔

روزنامہ" پاکستان" نے  واٹس ایپ پر سٹائل آؤٹ واچز سے رابطہ کیا اور اس گھڑی کے بارے میں معلومات حاصل کیں تو کمپنی نے تصدیق کی کہ انہوں نے یہ گھڑی اڑھائی لاکھ ڈالر میں ہی  فروخت کی تھی۔ ڈیلر نے روزنامہ" پاکستان" کی طرف سے کی گئی کال میں بھی تصدیق کی کہ انہوں نے ہی یہ گھڑی 2019 میں اڑھائی لاکھ ڈالر میں فروخت کی تھی۔  کمپنی کی طرف سے وضاحت عمر فاروق ظہور کے بیان کی نفی کرتی ہے کیونکہ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے یہ گھڑی 2 ملین ڈالر زکی خریدی تھی جب کہ ڈیلر خود بتا رہا ہے کہ گھڑی کی ویلیو صرف اڑھائی لاکھ ڈالر ہے۔

بعد ازاں جب اس گھڑی کا تنازعہ شدت اختیار کرگیا تو گھڑیوں کا ڈیلر اپنے پہلے بیان سے مکر گیا ۔ اس کے علاوہ سٹائل آؤٹ واچز نے ایک تردیدی بیان بھی جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ انہوں نے یہ گھڑی فروخت نہیں کی بلکہ 2019 ءمیں ایک ایسے شخص نے انہیں یہ گھڑی مارکیٹنگ کیلئے دی تھی جس کا نام وہ نہیں بتاسکتے، انہوں نے اس گھڑی کی تصاویر بنائیں ، انہیں اپنے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا اور گھڑی اس کے اصل مالک کو واپس دے دی۔ مالک نے یہ گھڑی کس کو فروخت کی اس سے ان کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ ڈیلر نے اپیل کی کہ انہیں سیاسی طور پر کسی بھی پارٹی کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔

سٹائل آؤٹ واچز کی طرف سے دو روز قبل دیے گئے اپنے بیان سے مکر جانے سے 2 باتیں سامنے آتی ہیں، یا تو یہ سفید جھوٹ بول رہے ہیں اور اس سارے تنازعے میں خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں یا پھر ان پر گھڑی خریدنے والے شخص نے دباؤ ڈال کر تردیدی  بیان جاری کروایا ہے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -