سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے 

 سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے 
 سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد
قسط:108
 چند سال پہلے 1917 ءمیں روس میں بالشویک پارٹی نے زار شاہی کا تختہ الٹا دیا تھا۔ انقلاب روس نے کئی ہندوستانیوں کی سوچ پر گہرے نقوش مرتب کیے تھے۔بر طانیہ اور زارشاہی روس دونوں دنیا کی بڑی نو آبادیاتی طاقتیں تھیں جنہوں نے کئی ایک قوموں کو غلام بنا یا تھا اور ملکوں کی آزادی سلب کی تھی۔بالشویک پارٹی نے زار روس کی حکومت کا خاتمہ کر کے قوموں کے حق خودارادیت کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ہندوستان سمیت تمام نو آبادیاتی مقبوضات میں جدو جہد آزادی کی مدد کی جائے گی۔ انقلاب نے ایک طرف روس کو ایک مطلق العنان آمر سے نجات دلائی تھی اور دوسری جانب عام آدمی کو معاشی ا نصاف مہیا کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔ان تمام باتوں کا ان ہندوستانی نوجوانوں پر بڑا اثر ہوا جو نہ صرف ملک کو آزاد دیکھنا چاہتے تھے بلکہ ایک ایسے نظام کے متمنی بھی تھے جس میں محنت کش عوام کی بھلائی ہو۔اب تک کمیونسٹ نظریات کتابوں تک محدود تھے اور کئی ایک لوگ انہیں اچھے مگر ناقابل عمل خیالات تصور کرتے تھے۔ انقلاب روس کے بعد نظر آنے لگا کہ سوشلزم کے فلسفے کو عملی جامہ پہنانا عین ممکن ہے۔ 
تاہم زار شاہی کا خاتمہ کرنے اور بالشویک انقلاب برپا کرنے کے لیے جو راستہ اختیار کیا گیا تھا وہ کانگریس کی پر امن اور آئینی جدو جہد سے بالکل مختلف تھا۔ کانگریس ایک کھلی سیا سی پارٹی تھی جو اپنی تمام تر سرگرمیوں کو پر امن آئینی حدود میں رکھنے اور عدم تشدد کی پالیسی پر عمل کرنے کی حامی تھی۔ اسی لیے مہاتما گاندھی نے چورا چوری کی خونریزی کے نتیجہ میں عدم تعاون کی تحریک کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔روس میں حکومت نے آئینی جدو جہد کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی تھی۔ زار شاہی کی مخالفت اور جمہوری نظام کے قیام کی جدو جہد کی کوشش میں کئی سیا سی کارکنوں کو کو سزائے موت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جمہوری سیاست کرنے والی جماعتوں پر پابندی تھی۔ ان حالات میں کمیونسٹ پارٹی کے لیے خفیہ طریقہ سے کام کرنے اور ریاستی تشدد کا انقلابی تشدد سے مقابلہ کرنے کے سوا اور کوئی راستہ موجود نہیں تھا۔روس کے مخصوص حالات نے ثابت کر دیا تھا کہ پارٹی کا فیصلہ درست تھا اور اسی لیے وہ کامیابی سے ہمکنار ہوئی تھی۔
خود ہندوستان کے اندر پر تشدد تحریکوں کی تاریخ موجود تھی۔ انیسویں صدی کے اوائل میں بنگال کے اند ر تشدد کا راستہ اختیا رکرنے والے گروپوں نے جس بے جگری سے بر طانوی راج کی مزاحمت کی تھی اس کی یاد ابھی تازہ تھی۔ پنجاب کے انقلابیوں کی بہادری کے کارنامے بھی لوگوں کو نہیں بھولے تھے۔سو روس کا پرتشدد انقلاب کئی ایسے ہندوستانیوں کے لیے بھی جو کمیونسٹ آئیڈیالوجی سے واقف نہیں تھے ایک رومانوی جاذبیت رکھتا تھا۔کچھ ایسے سیاسی کارکن بھی تھے جنہوں نے اس رومانویت سے نکل کر دہشت گردی کا راستہ ترک کیا اورانقلابی سیا سی جدوجہد کی راہ پر گامزن ہوئے۔ انہوں نے آگے چل کر ہندوستان میں کمیونسٹ پارٹی قائم کی۔
اس دوران مختلف صوبوں میں خفیہ تنظیمیں بننا شروع ہو گئیں جو برطانوی راج کا پر تشدذرائع سے خاتمہ کرنے اور اس کی جگہ آزاد اور خود مختار جمہوری ریاست قائم کرنے کی حامی تھیں۔ ان تنظیموں کے قائم کرنے والوں کا خیال تھا کہ ہند وستان میں جسے ”تاج برطانیہ کا ہیرا “ کہا جاتا تھا ۔ برطانوی مفادات اتنے مضبوط ہیں کہ نو آبادیاتی حکمران اسے پر امن طریقے سے چھوڑنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہونگے۔ ان میں سے ایک تنظیم کا نام ہندوستان ریپبلیکن ایسوسی ایشن تھا جس کا قیام 1923 ءمیں عمل میںآیا۔ اس کے آئین میں طے کیا گیا کہ تنظیم کا مقصد ” منظم اور مسلح انقلاب کے ذریعے فیڈریٹڈ ریپبلک آف یونائیٹڈ سٹیٹس آف انڈیا کا قیام ہے“۔ہندوستان کی آزادی کے لیے اسلحہ حاصل کرنے کی ضرورت تھی جس کے لیے سرمایہ درکار تھا۔ سو طے کیا گیا کہ فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے سرکاری خزانے کو بھی لوٹا جائے۔پہلی ڈکیتی کا ہدف وہ ٹرین بنی جو لکھنؤ جا رہی تھی۔ڈکیتی سے جو رقم حاصل ہوئی وہ کل4679 روپے تھی۔انقلابیوں کی نا تجربہ کاری کی وجہ سے جلد ہی مخبری ہو گئی اور انہیں گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا۔جسے کاکوری سازش کیس کا نام دیا گیا۔ کاکوری سازش کیس کی جب سماعت شروع ہوئی تو اسے ہندوستان بھر میں شہرت ملی۔اور اس میں پکڑے جانے والوں کو آزادی کے متوالے قرار دیا گیا۔ 4 ملزموں کو پھانسی کی سزا دی گئی۔5کو کالے پانی بھیج دیا گیا۔اور 11 کو مختلف مدت کے لیے جیل بھگتنا پڑی۔ پھانسی کی سزا پانے والوں میں رام پرشاد بسمل بھی شامل تھا جس سے یہ شعر منسوب ہے:
سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے 
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے 
چند سال بعد تنظیم کا نام تبدیل کر کے ہندوستان سوشلسٹ ریپبلیکن پارٹی رکھ دیا گیا۔1928 ءکی پارٹی کانفرنس میں سائمن کمیشن کا بائیکاٹ کرنے اور کمیشن ارکان کی ٹرین پر بم پھینکنے کا فیصلہ کیا گیا۔یہ بھی طے کیا گیا کہ بم سازی کی فیکٹریاں قائم کی جائیں گی ارکان کو بم بنانے کی تربیت دی جائے گی۔مخبروں کو ٹھکانے لگایا جائے گا اور انقلابیوں کو جیلوں سے چھڑالیا جائے گا۔ ( جاری ہے ) 
نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -