وہ ٹھنڈا ہو گیا لیکن آنکھیں اپنے دشمن سے نہیں ہٹائیں

 وہ ٹھنڈا ہو گیا لیکن آنکھیں اپنے دشمن سے نہیں ہٹائیں
 وہ ٹھنڈا ہو گیا لیکن آنکھیں اپنے دشمن سے نہیں ہٹائیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف : اپٹون سنکلئیر
ترجمہ :عمران الحق چوہان 
 قسط:80
وہ ٹھنڈا ہو گیا لیکن اس نے آنکھیں اپنے دشمن سے نہیں ہٹائیں۔ وہ اب تک زندہ تھا، یہ بہت مایوسی کی بات تھی لیکن پھر بھی اسے یوں پٹیوں میںلپٹا دیکھ کر اسے سکون ملا۔ کونر اور کمپنی کے وکیلوں نے جج کے قریب نشستیں سنبھال لیں۔ اگلے ہی منٹ میں کلرک نے یورگس کا نام پکارا تو پولیس مین نے ایک جھٹکے سے اسے کھڑا کیا اور اس ڈر سے کہ کہیں وہ باس پر حملہ نہ کر دے،مضبوطی کے ساتھ بازو سے پکڑ کر جج کے سامنے پیش کر دیا۔ 
کونر نے گواہوں کے کٹہرے میں داخل ہو کر حلف اٹھایااور اپنی کہانی بیان کی۔ قیدی کی بیوی اس کے شعبے کے قریب ہی ملازمت کرتی تھی جسے بد تمیز ہونے کی وجہ سے نوکری سے نکال دیا گیا۔ آدھ گھنٹے بعد ہی اس پر مجرمانہ حملہ کیا گیا جس میں اس کی جان لینے کی کوشش کی گئی۔ اس کے پاس واقعے کے گواہ بھی تھے۔۔۔
” ان کی شاید ضرورت نہیں پڑے گی۔ “ جج نے کہا پھر وہ یورگس سے مخاطب ہوا، ” تم مدعی پر حملے کا اقرار کرتے ہو ؟ “ اس نے سوال کیا۔
” اس پر ؟ “ یورگس نے باس کی طرف اشارہ کر کے پوچھا۔
” ہاں۔ “ جج نے کہا۔
” میں نے اسے مارا تھا جناب۔ “
” یور آنر کہو۔“ پولیس افسر نے اس کا بازو زور سے دبا کر کہا۔
” یور آنر۔“ یورگس نے دوہرایا۔ 
” تم نے اس کا گلا دبانے کی کوشش کی تھی ؟ “ 
” جی جناب، یور آنر۔“
” پہلے کبھی گرفتار ہوئے ہو ؟ “ 
” نہیں جناب۔ یور آنر۔“ 
” اپنے حق میں کچھ کہنا ہے ؟ “ 
یورگس ہچکچایا، اسے کیا کہنا تھا ؟ ان اڑھائی برسوں میں اس نے کام کے لائق انگریزی بولنی سیکھ لی تھی لیکن اس میں یہ عدالتی بیان دینا شامل نہیں تھا کہ کسی نے اس کی بیوی کو ڈرا کر بہکا یا تھا۔ اس نے ہکلاتے ہوئے ایک دو بار بولنے کی کوشش کی جس سے جج ناراض ہوگیا، وہ پہلے ہی کھاد کی بدبو سے بےزار تھا۔ آخر قیدی کو اندازہ ہوگیا کہ اس کے پاس بات کہنے کے لیے مناسب الفاظ نہیں ہیں۔ یہ دیکھ کر ایک خوش لباس نوجوان، جس نے مونچھوں کو موم لگا کر بل دے رکھا تھا، آگے بڑھا اور اس سے کہا کہ جو زبان بھی اسے آتی ہے وہ اس میں بیان دے سکتا ہے۔
یورگس نے بیان دینا شروع کیا۔ اس کا خیال تھا کہ اسے بات کرنے کا پورا وقت دیا جائے گا۔ اس نے وضاحت کی کہ باس نے کس طرح اس کی بیوی کی نوکری کا فائدہ اٹھایا اور کس طرح اسے ڈرا دھمکا کر مجبور کیا۔ مترجم نے اس کا جواب جج کو سنایا۔ جج کے پاس پہلے ہی کام کا بوجھ بہت زیادہ تھا اور اس نے اپنی گاڑی کو آنے کا وقت بھی دے رکھا تھا لہٰذا اس نے مترجم کو ٹوکا ، ” اچھا سمجھ گیا۔ اب یہ بتاو¿ اگر اس نے تمھاری بیوی کی عزت لوٹنے کی کوشش کی تھی تو تمھاری بیوی نے سپرنٹنڈنٹ کو شکایت کیوں نہیں کی یا وہ نوکری کیوں نہیں چھوڑی ؟“ 
یورگس کو یہ سن کر جھٹکا سا لگا۔ اس نے وضاحت دینا شروع کی کہ وہ بہت غریب ہیں۔۔۔ کام کا ملنا بہت مشکل ہے۔۔۔
” میں سمجھ گیا۔“ جسٹس کالاہان نے کہا، ” تو تم نے سوچا کہ اسے مارا جائے۔ “ اس نے مڑ کر مدعی کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ ” اس کہانی میں کوئی سچائی ہے مسٹر کونر ؟ “
” ایک ذرّہ بھی نہیں، یور آنر۔“ باس نے کہا، ” بہت برا محسوس ہوتا ہے۔ آپ جب بھی کسی عورت کو نوکری سے نکالیں یہی کہانی سنائی جاتی ہے۔۔۔ “
” ہاں، میں جانتا ہوں۔“ جج نے کہا، ” میں نے بہت دفعہ یہ سب سنا ہے۔ اس آدمی نے تمھارے ساتھ کافی برا سلوک کیا ہے۔ 30 دن قید مع جرمانہ۔ اگلا مقدمہ بلاو¿۔“( جاری ہے ) 
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -