والٹیر نے کہا تھا” اس بات کے لیے اپنی جان تک دےدوں گا کہ آپ کو آزادی رائے کا حق حاصل رہے“

والٹیر نے کہا تھا” اس بات کے لیے اپنی جان تک دےدوں گا کہ آپ کو آزادی رائے کا ...
والٹیر نے کہا تھا” اس بات کے لیے اپنی جان تک دےدوں گا کہ آپ کو آزادی رائے کا حق حاصل رہے“

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تحریر: ظفر سپل
قسط:37
 ”جو کچھ آپ کہتے ہیں، مجھے اس کے ایک حرف سے بھی اتفاق نہیں، لیکن میں اس بات کے لیے اپنی جان تک دے دوں گا کہ آپ کو آزادی رائے کا حق حاصل رہے“
یہ ہیں وہ الفاظ جو والٹیر نے اپنے ہم وطن اور ہم عصر روسو کے لیے کہے اور یہی الفاظ اس کی نفسیاتی ترکیب کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جس کے تحت اس نے ساری زندگی گزاری۔
وہ 21نومبر1694ءکو پیدا ہوا اور 30مئی 1778ءمیں فوت ہوا ------یہ اٹھارویں صدی ہے۔ اٹھارویں صدی عیسوی جو اس روشن خیالی کے فروغ کی صدی تھی، جس نے بالآخر پورے یورپ کو بدل کررکھ دیا، اجتماعی زندگی کلیسا کے جبر سے آزاد ہو گئی اور نتیجتاً انسان کی آزادی، عقل کی بالادستی اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے دور کا آغاز ہوا۔ ظاہر ہے، یہ سب کچھ ایک طویل جدوجہد اور نسلوں کی اجتماعی کوششوں کا ثمر تھا، لیکن جو افراد تبدیلی کے اس عمل کو مہمیز کر رہے تھے، ان میں والٹیر اور روسو کے ناموں کو فراموش کر دینا ناممکن ہے۔ والٹیر لگ بھگ60 برسوںتک مسلسل پرانی دنیا اور اس کو قائم رکھنے والی قوتوں کے خلاف ہر محاذ پر لڑتا رہا۔ وہ آخری لمحوں تک نہ تھکا، نہ ہارا۔ اور جب وہ مرا تو کہنہ اور فرسودہ زندگی کے نقوش مٹ چکے تھے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ :
”جب وہ میدانِ جنگ میں گِرا ہے تو فتح اسے نصیب ہو چکی تھی“
فرانکوئیس ماری آروٹ(Francois Marie Arouet) پیرس میں ایک کامیاب وکیل فرانکوئیس آروٹ کے گھر پیدا ہوا۔ اس کی ماں ماری مارگریٹ دامرد(Marie Marguerite Daumard) کا تعلق فرانسیسی اشرافیہ سے تھا۔ وہ5 بہن بھائیوں میں آخری نمبر پر ہے۔۔۔اس سے پہلے 3بھائی اور1 بہن۔ 2 بڑے بھائی اس کی پیدائش سے پہلے بچپن میں انتقال کر گئے۔ جب وہ پیدا ہوا تو اس کا بھائی آرمنڈ (Armand) 9 سال کا اور بہن مارگریٹ کیتھرین(Marguerite Catherine)7 سال کی تھی۔ 
وہ کہا کرتا تھا:”میں مردہ پیدا ہوا تھا“۔۔۔اور وہ سچ کہتا تھا۔ اس لیے کہ جب وہ پیدا ہوا تو حقیقتاً نیم مردہ تھا اور ادھر جو جہاں دیدہ اور تجربہ کار نرسیں تھیں ، وہ اس کے ننھے سے چہرے پر ہلکی ہلکی چپتیں لگا کر اسے زندگی کی طرف واپس لانے کی کوششیں کرتی تھیں۔ ڈاکٹروں نے اس کے والد کو بتا دیا تھا کہ یہ بچہ بچے گا نہیں، بس دو چار دنوں کا مہمان ہے۔ یہی صورت حال بپتسمہ دینے کے وقت پیش آئی۔ اس قدر کمزور بچے کو گرجا گھر لے جانا خطرے سے خالی نہ تھا اور یہ رسم گھر پر ہی ادا کی گئی۔۔۔لیکن یہ جسمانی طور پر کمزور بچہ اپنے اندر نہایت طاقتور روح اور عظیم قوتِ ارادی لے کر آیا تھا۔ اس نے میڈیکل سائنس کی تمام پیش گوئیوں کو غلط ثابت کیا۔ وہ 84 سال تک زندہ رہا !
10 سال کی عمر میں اسے ”لوئیس لی گرینڈ کالج “(College Louis-Ie-Grand) میں داخل کرایا گیا۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق تعلیم پر مذہبی طبقوں کی اجارہ داری تھی۔ یہ مدرسہ بھی رومن کیتھولک فرقے نے قائم کیا تھا۔ وہ یہاں 1704ءسے 1711ء یعنی7 سال تک رہا اور الٰہیات، فن خطابت، کلاسیکی شاعری اور لاطینی زبان کے اسباق لیتا رہا۔ 
وہ ذہین و فطین طالب علم تھا، حافظہ قابل رشک تھا، کتابوں سے عشق تھا اور اس مدرسے کے یسوعی اساتذہ کو شاید ہی کبھی ایسے شاگرد سے پالا پڑا ہو، جو سب کچھ جاننے اور سیکھنے کے لیے بے قرار ہو۔ 
یہ تو خیر ایک بات ہے۔۔۔مگر وہ عجیب تضادات بھری زندگی اور شخصیت ساتھ لے کر آیا تھا۔ پیدا ہوا تو مرے ہوئے کے برابر، پر جو زندگی گزاری وہ نہایت ہیجان انگیز، گویا توانائی کی پوٹ۔ یورپ کی تاریخ میں شاید ہی کوئی اس درجہ ذہنی توانائی کا حامل شخص گزرا ہو۔ دوستوں کا معاملہ ہو تو انتہا درجے کا ہمدرد، ہمیشہ مدد کے لئے آمادہ اور روپیہ پیسہ پانی کی طرح بہانے کے لیے تیار۔ دشمن کا معاملہ ہو تو ایسا سرگرم کہ تباہ کرنے پر تُل جائے۔ ہاں، اگر بڑے سے بڑے دشمن کی طرف سے بھی مصالحت کی پیشکش ہو تو ایک دم ٹھس، بالکل بے ضرر گویا نہتا کر دیا گیا ہو۔(جاری ہے )
نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -