دشمن کے لیے ناموزوں القاب استعمال کرنا مزاح کی کوئی اعلیٰ قسم نہیں

دشمن کے لیے ناموزوں القاب استعمال کرنا مزاح کی کوئی اعلیٰ قسم نہیں
دشمن کے لیے ناموزوں القاب استعمال کرنا مزاح کی کوئی اعلیٰ قسم نہیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی
قسط:54
شاعر انہ نثر کی ایک اور مثال ملاحظہ ہو:
”گردشِ ارضی نے بالآخر عروسِ شب کو الوداع کہا اورسپیدئہ سحر تمازت آفتاب سے کافور ہونے لگا لیکن طلوعِ آفتاب کے باوجود میری شبِ تار کی سحر نہ ہوئی میرے لیے ہوا اور روشنی پر وہی قدغن رہی جو رات بھر سے تھی میں لاچار و بے بس سیل میں بیٹھا اپنے ہی خیالات کے بوجھ تلے پستارہا اور ہر لمحے خونِ دل رستا رہا۔“ 
صدیق سالک بنیادی طور مزاح نگار ہیں قیدوبند کی صعوبتوں میں حسِ مزاح برقرار رکھنا بہت مشکل امر ہے کسی دوسرے شخص یا صورت واقعہ پر ہنسنایاہنسی کے پہلو تلاش کرنا بہت آسان ہے لیکن ایک ناہموار صورتحال سے گزرتے ہوئے اس ناہمواری پر ہنسنا مشکل کام ہے۔
موضوعی اعتبار سے دیکھیں تو سالک نے زیادہ تر ہندوستانی لوگوں کی خامیوں‘ تنگ نظری برے سلوک پر طنز آمیز لہجہ اختیار کیا ہے اس کے علاوہ قیدیوں کی حالتِ زار کو دکھ کے ساتھ مزاح کے پیرائے میں بھی بیان کیا ہے جیل جیسی محدود جگہ پر واقعاتی مزاح پیدا کرنے کے عناصر بھی کم تھے اس لیے زیادہ تر سالک نے لفظی مزاح سے کام لیا ہے ہندوستانی روئیے پر طنز کرتے ہوئے ان کا مزاح خفگی کی طرف مائل نظر آتا ہے مثلاً:
”اپنے نئے کاشانے میں پہنچ کر گردوپیش پر نگاہ ڈالی تو سب طرف سورہی سورنظر آئے (میری مراد اصلی سؤروں سے ہے) بھورے بھورے ‘ کالے کالے ‘ موٹے موٹے ‘ تازے تازے یہ ہمارے بلاک کے پیچھے گندے نالے میں محوِخرام تھے۔ میرے خیال میں ان کی وہاں موجودگی محض اتفاقی تھی۔ ان کا ہمارے استقبال سے کوئی تعلق نہ تھاکیونکہ اس کام کے لیے کوئی سوسواسو بھارتی سپاہی اور افسر موجود تھے۔“ 
دشمن کے لیے ناموزوں القاب استعمال کرنا مزاح کی کوئی اعلیٰ قسم نہیں پھر پہلے جملے میں جو ابہام کی خوبصورتی تھی اسے بھی اگلے جملے میں واضح کر کے عامیانہ پن کا شکار کر دیا ہے۔
لیفٹیننٹ کرنل گھن پتی کے متعلق جملے کا انداز ملاحظہ ہو:
”گھن پتی اپنی گھن سے لبریز زبان کو کتے کی دم کی طرح تیز تیز چلانے لگا۔
شخص مذکور کے نام کی نسبت سے ”گھن“ کا لفظ استعمال کیا ہے‘ لیکن صنعت تجنیس کی خوبصورتی ان کی نفرت کے آگے ماند پڑ جاتی ہے۔
لفظی مزاح میں صنعت تضاد کی مثال:
”اُس کانام شہباز تھا مگر وہ شکل و صورت سے ممولہ لگتا تھا۔“ 
”رعایت لفظی“ سالک کا مزاح پیدا کرنے کا پسندیدہ حربہ ہے۔
”میجر ملک کسی کو مکسچر اور کسی کوڈانٹ ڈپٹ پلا کر چلتا کر دیتا۔“
بشیر صاحب نے میری آنکھ کی مزاج پُرسی کی اور میجر ملک نے میری “
میجر اقبال کے ساتھ والی چارپائی پر ایک اور صاحب تھے جنہیں شاعری کے علاوہ بھی کوئی ذہنی مرض تھا۔“ ( جاری ہے ) 
نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )

مزید :

ادب وثقافت -