کاشتکاروں کے لیے گرین ٹریکٹر کا تحفہ

کاشتکاروں کے لیے گرین ٹریکٹر کا تحفہ
 کاشتکاروں کے لیے گرین ٹریکٹر کا تحفہ

  



زراعت ہماری ملکی معیشت مےں ریڑھ کی ہڈی کی حےثےت رکھتی ہے۔ مجموعی قومی پیداوار میں اس شعبے کا حصہ 21 فیصد ہے۔ قومی برآمدات میں زراعت کا حصہ 60 فیصد ہے۔ اگرچہ گزشتہ برسوں کے دوران صوبہ پنجاب مےں معےشت کے چند دےگر شعبوں مےں بھی ترقی ہوئی ہے تاہم اب بھی زراعت ہماری معیشت کا سب سے بڑا شعبہ ہے جسے اقتصادی نمو اور ترقی میں کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ صوبہ کے شہری علاقوں کے 45 فیصد جبکہ دیہی علاقوں کے65 فیصد سے زیادہ لوگوں کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے۔ یہی شعبہ ملکی آبادی کےلئے خوراک اور روزمرہ کی ضروریات فراہم کرنے کے ساتھ صنعت کے لئے خام مال مہیا کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ ان وجوہات کی بنا پرحکومتِ پنجاب کی ترجےحات مےں زرعی ترقی کو اوّلیت حاصل ہے۔

 حکومت پنجاب نے ہمیشہ کسانوں کا ساتھ دیا ہے اور مشکل ترین حالات کے باوجود کاشتکاروں کے لیے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سے اظہار یکجہتی کیا ہے گرین ٹریکٹر سکیم بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے-و زیر اعلی پنجاب کی گرین ٹریکٹر سکیم 2012-13ءکے تحت مرد و خواتین کاشتکاروں کو 2لاکھ روپے فی ٹریکٹر سبسڈی پر 10ہزارٹریکٹروں کی فراہمی کے لیے صوبہ بھر میں کمپیوٹررائز قرعہ اندازی کا عمل بلا تفریق اور سیاسی وابستگی کے بغیر شفاف طریقے سے مکمل ہو چکا ہے اور موجودہ حکومت کے چار سالہ دور میں اب تک کاشتکاروں کو30 ہزار ٹریکٹرز فراہم کیے گئے ہیں جس پر 6ارب روپے کی خطیر سبسڈی دی گئی ہے جو حکومت پنجاب کا اہم کارنامہ اور کاشتکاروں کے لیے خوبصورت تحفہ ہے جسے تادیر یاد رکھا جائے گا-اڑھائی ایکڑ سے 25ایکڑ آبپاش اور 50ایکڑ بارانی علاقوںمیںزرعی زمین کے مالک 18سے 35سال کے نوجوان مرد و خواتین کاشتکاروں کو گرین ٹریکٹر سکیم کے لئے اہل قرارد یا گیاتھاجس کے تحت صوبہ بھر سے 2لاکھ 57ہزار درخواستیں تحصیل کی سطح پر اسسٹنٹ کمشنرکے دفاتر میں موصول ہوئیں۔ اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں تحصیل کمیٹیوں نے مکمل چھان بین کے بعد 2لاکھ 21ہزار درخواستوں کو قرعہ اندازی کے لئے اہل قرار دیا۔ صوبے کے تمام اضلاع میںکاشتکاروں،تحصیل کمیٹیوںکے ممبران اور میڈیا کی موجودگی میں کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے تمام عمل کو شفاف طریقے سے مکمل کیا گیا ہے- وزیر اعلی پنجاب مشینی کاشت کو فروغ دے رہے ہیں تا کہ کاشتکاروں کی تقدیر کو بدلا جا سکے-

وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی طرف سے2ارب روپے کی لاگت سے ” زراعت و لائیو سٹاک کی مصنوعات کے لئے سپلائی چین مینجمنٹ میں بہتری کے منصوبہ “ کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔اس منصوبہ کے ذریعے تین سالوں میں زرعی اور لائیو سٹاک فارمز کی گلوبل گیپ ، سپلائیرز اور لاجسٹک کمپنیز کی انٹرنیشنل فیچرڈ سٹینڈرڈز (IFS) سرٹیفیکیشن کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی جس کے نتیجہ میں پھل ، سبزیاں ، چاول ، گوشت اور اس سے تیار کردہ غذائی اشیاءکو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل ہو سکے گی ۔اس پروگرام کے تحت تجارتی پلیٹ فارمز/کولیکشن سنٹرز کے قیام کے ساتھ کاشتکاروں کو ملکی و بین الاقوامی ریٹیل سنٹرز کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے تاکہ زرعی برآمدات میں اضافہ ہو اور زرعی شعبہ کو اور زیادہ منافع بخش بنایا جا سکے ۔حکومت پنجاب نے رواں سال جنوری میں جرمنی کے شہر برلن میں بین الاقوامی نمائش "انٹرنیشنل گرین ویک" ±میں تاریخی شمولیت کے ذریعے صرف سات ماہ کے قلیل عرصہ میں 20مکمل طور پر قابل شناخت زرعی و لائیو سٹاک مصنوعات بین الاقوامی سطح پرمتعارف کرائیں۔ حکومت پنجاب نے سپلائی چین مینجمنٹ میں بہتری اور سٹار فارم نیٹ ورک میں شمولیت سے زراعت ولائیو سٹاک کی مصنوعات کی برآمدات کو مجموعی طور پر 4 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا عزم کیا ہے۔

ایک لاکھ 20ہزار ایکڑ رقبہ پر ڈرپ و سپرنکلر ایریکیشن ٹیکنالوجی کی تنصیب و فروغ اور 9ہزار آبپاش کھالوں کی اصلاح و پختگی کے لیے 36ارب روپے کا منصوبہ منظور کیا گیا ہے اور موجودہ مالی سال کے دوران اس پروگرام پر عمل درآمد جاری ہے۔ یہ منصوبہ چھ سالوں میں مکمل کیا جائے گا۔تھل کے چھ اضلاع میں2ہزار ایکڑ رقبہ پر144ملین روپے کی لاگت سے ڈرپ اریگیشن سسٹم کے تحت کپاس کی کاشت کا پروگرام متعارف کرایا گیا جس کے ذریعے کاشتکاروں کو 72ہزار روپے فی ایکڑ سبسڈی دی گئی۔حکومت پنجاب نے گریٹر تھل کینال کے علاقے میں ساڑھے تین لاکھ ایکڑ رقبہ کے لئے نہری پانی کی فراہمی کے لیے ایک نیا منصوبہ شروع کیا ہے جس کے تحت 876ملین روپے کی لاگت سے 725کھالہ جات کی تعمیر و پختگی کا کام جاری ہے۔اس پروگرام کے تحت کاشتکاروں کو 3لاکھ روپے فی کھالہ جبکہ ہمواری زمین کے لئے لیزر یونٹ کی خرید پر 2لاکھ روپے تک مالی اعانت دی جا رہی ہے۔حکومت پنجاب نے گذشتہ دو سال کے عرصے میں چھوٹے کاشتکاروں کو گرین ٹریکٹر سکیم کے تحت 2لاکھ روپے فی ٹریکٹر سبسڈی پر 20ہزار ٹریکٹر فراہم کئے جن پر مجموعی طور پر 4ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔محکمہ زراعت حکومت پنجاب کی طرف سے فوڈ سیکیورٹی پروگرام کے تحت گذشتہ دو سالوں کے دوران چھوٹے کاشتکاروں کو سبسڈی پر زرعی مشینری کی فراہمی کے لیے مجموعی طور پرقریباً 90کروڑروپے فراہم کئے گئے ہیں۔صوبہ پنجاب میں ٹنل ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے گذشتہ دو سالوں کے دوران مجموعی طور پر 31کروڑ 57لاکھ 40ہزار روپے کی سبسڈی پر2654ٹنلز فراہم کی گئی ہیں۔حکومت نے کاشتکاروں کی سہولت کے لیے بلڈوزروں کا کرایہ1400/-روپے سے کم کرکے 560/-روپے فی گھنٹہ بشمول ڈیزل مقرر کیا جس کے نتیجے میں گذشتہ دو سالوں کے دوران قریباََ27کروڑ روپے کی سبسڈی دی گئی اور قریباََ 13 ہزار ایکڑ سے زیادہ زمین ہموار کی گئی۔اس کے علاوہ گند م کے بھوسے کے لیے 260چوپر کی فراہمی کے لیے 55لاکھ روپے سبسڈی دی گئی ہے۔

حکومت پنجاب کی جانب سے کاشتکاروں کو 1000بائیو گیس پلانٹ 50ہزار روپے فی پلانٹ سبسڈی پر فراہم کیے جا رہے ہیںجن پر مجموعی طور پر 5کروڑ روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے ۔ہر سال 120ارب روپے مالیت کی کپاس کی 3ملین گانٹھیںCLCVکے حملہ کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہیں ،اس مسئلہ کے حل کے لیے حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے چنانچہ پار ب نے 2منصوبوں کے لیے 41ملین روپے فراہم کیے ہیں۔ ان منصوبوں کے ذریعے کپاس کی CLCVکے خلاف مدافعت رکھنے والی اقسام دریافت کی جائیں گی۔مختلف بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے تجربہ کارسائنسدان/پروفیسرز بھی ان منصوبوں میں تعاون اور مدد کر رہے ہیں۔پانی کی قلت سے زراعت بری طرح متاثر ہورہی ہے اس لیے ضرور ت اس امر کی ہے کہ تحقیق کے ذریعے گندم، دھان ،گنا اور کپاس کی ایسی اقسام دریافت کی جائیں جو کم پانی سے زیادہ پیداوار دیں ۔ اس مقصد کے تحت تحقیقاتی منصوبوں کے لیے 110ملین روپ فراہم کئے گئے اور بین الاقوامی ادارے مثلاََ ٹوکیو یونیورسٹی ،سری لنکن شوگر کین ریسرچ انسٹیٹیوٹ، انٹرنیشنل رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ فلپائن ان منصوبوں کے ذریعے اہداف کے حصول میں مدد کر رہے ہیں۔

کاشتکاروں کو سٹوریج سہولیات کی فراہمی اور مڈل مین و آڑھتیوں کے استحصال سے بچانے کے لیے زرعی مارکیٹنگ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے عمل کا ا ٓغاز کر دیا ہے۔اس مقصد کے حصول کے لیے سٹوریج کی سہولیات میں اضافہ کے لیے سرکاری، نجی شعبہ کے اشتراک سے منصوبو ں کی حوصلہ افزائی کی جار ہی ہے۔حکومت پنجاب کی جانب سے ماڈل زرعی فارم کے ذریعے اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے زرعی ویٹرنری اور فارسٹری گریجوایٹس کو 73ہزار ایکڑ سرکاری زمین½ 12ایکڑ اراضی فی کس کے حساب سے پانچ سال کے لیے لیز پر الاٹ کی گئی ہے۔15جولائی کو اسلام آباد میں "پنجاب مینگو فیسٹیول2012“ کی نمائش منعقد کی گئی جس میں 30سے زائد ممالک کے سفارتکاروں وکمرشل کونسلرز اورغیر ملکی مندوبین کے علاوہ آم کے کاشتکاران ، سپلائرز ، پراسیسرز اور ٹریڈرزنے بڑی تعداد میں شرکت کی-محکمہ زراعت پنجاب نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر رمضان المبارک کے دوران صوبہ بھر میں 322ایگریکلچر فیئر پرائس شاپس کا انعقاد کیا جس کی بدولت لوگوں کو مہنگائی سے ریلیف ملا۔

پنجاب حکومت کی جانب سے پنجاب ایگریکلچرل ریسرچ بورڈ کو1ارب روپے کے وسائل مہیا کرنے کے ساتھ ریسرچ انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے دوگنی رقم مختص کی گئی ہے تاکہ زرعی ترقی کی رفتار تیز کی جا سکے ۔زرعی تحقیقاتی بورڈ اب تک کمیٹیٹیوگرانٹ سسٹم (CGS)کے تحت ڈیمانڈ ڈریون ریسرچ کے 53اہم منصوبوں کے لیے ایک ارب روپے فراہم کر چکا ہے۔2008ءسے اب تک موجودہ حکومت کے دور میں پنجاب سیڈ کونسل نے اہم فصلات کی 80نئی اقسام عام کاشت کے لیے منظور کی ہیں جو پہلے سے موجود اقسام کی نسبت زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل ہونے کے ساتھ کیڑوں اوربیماریوں کے خلاف بھرپور قوت مدافعت رکھتی ہیںجن میں کپاس کی 27 ، گندم کی11اوردیگر فصلات کی 42نئی اقسام شامل ہیں جبکہ گذشتہ حکومت کے پانچ سالہ دور میں 49نئی اقسام منظور کی گئی تھیں۔

زراعت کی ترقی کے بغیر پاکستان کی معیشت کو مستحکم نہیںبنایا جاسکتاہے ۔ خصوصاً جس شعبے کا 95 فیصد خام مال صنعتی ترقی کے لئے استعمال ہو رہا ہو اور جس شعبے کی بدولت 60فیصد زر مبادلہ ملک کو میسر آرہا ہو اس کے ساتھ وفاقی حکومت کی جانب سے سو تیلی ماں جیسا سلوک سمجھ سے بالا تر ہے ۔ وفاقی حکومت کی زراعت کش پالیسیوں کی بدولت ملک میں کھاد کی صنعت نہ صرف شدید ترین متاثر ہو رہی ہے بلکہ کسانوں کو کھاد انتہائی مہنگے داموں خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔ کھاد انڈسٹری کے پاس 48لاکھ ٹن سے بڑھ کر 60لاکھ ٹن کھاد پیدا کرنے کی گنجائش ہے تاہم گیس کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے مہنگے داموں کھاد درآمد کی جا رہی ہے جس کا خمیازہ کسانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ حکومتوں کے دور میں بلڈوزر کا کرایہ تقریباً1500 تا1600 روپے بنتا تھا جبکہ موجودہ حکومت میں کسانوںکی بھلائی کےلئے 560 روپے فی گھنٹہ کاشتکاروں کو یہ سہولت بہم پہنچائی جا رہی ہے جس کے ذریعے زیادہ سے زیادہ رقبہ زیر کاشت لایا جا رہا ہے۔پنجاب حکومت نے زرعی شعبے کی ترقی کےلئے خطیر وسائل مختص کئے ہیں ۔ موجودہ حکومت نے زراعت پر ٹیکس یا آبیانہ کی شرح میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ چھوٹے کسانوں کو استحصال سے محفوظ رکھا جا سکے۔   

مزید : کالم