بلاول بھٹو کی عملی سیاست کا آغاز

بلاول بھٹو کی عملی سیاست کا آغاز
بلاول بھٹو کی عملی سیاست کا آغاز

  

میری طرح اور بھی بہت سے لوگوں کو، خواہ وہ پیپلزپارٹی کے حامی ہوں یا مخالف!بلاول زرداری کی پیپلزپارٹی کے ناراض کارکنوں سے معذرت یا معافی مانگنے نے حیران کردیا۔ پہلی بات تو یہی ہے کہ بلاول بھٹو کن سے اور کیوں معافی کے طلب گار ہیں ؟آخر اس نوخیز سیاست دان نے کیا کیا ہے۔ ابھی تو سیاست میں ان کا کھاتہ بھی نہیں کھلا، اسے اچھے یا برے نام سے یادکرنے کا فی الوقت کوئی جواز بھی نہیں۔ اس ملک میں پیپلزپارٹی کی سیاست اور اقتدار کے تین ادوار ہیں۔ ستر سے ستتر تک اس کے نانا بلاشرکت غیرے پاکستان کے اس حصے پر برسر اقتدار رہے جو دشمن کی دستبردسے محفوظ رہا۔ اس سارے کھیل میں معصوم بلاول اور ان کی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے والد گرامی کا کوئی قصور نہیں، بلاول تو خیر سے پیدا ہی اس آدھے پاکستان میں ہوئے، جسے پورا ملک ماننے پر قوم مجبور ہوئی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو ابھی تعلیم کے مراحل سے گزررہی تھیںاور آصف علی زرداری کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں تھا کہ وہ بھٹو خاندان کا کسی طورپر حصہ بن سکتے ہیں ،محترمہ بے نظیر بھٹو کے اقتدار کے دونوں ادوار میں کیا ہوا کیا نہیں ہوا، اس کی ذمہ داری کسی طورپر بلاول زرداری پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ البتہ آصف علی زرداری کا معاملہ جدا ہے۔ قانونی اور آئینی طورپر اقتدار کا حصہ نہ ہونے کے باوجود ان کا ذکر خیر جس انداز میں ہوتا رہا اسے مثبت قرار دینا ممکن نہیں ،جبکہ پیپلزپارٹی کے چوتھے دور میں بھٹو صاحب تھے نہ محترمہ بے نظیر بھٹو ،سو کسی اچھے برے کام کی تحسین یا مذمت میں ان دونوں کو ملوث کرنا دیانت کی بات نہیں۔ یہاں بھی بلاول زرداری دور کے تماشائی تھے اور الزامات کی تردید کو ہی حق سچ سمجھنا ان کا حق بھی اور ان کے اس رویے کو نہ درست کہنے والوں کو کسی طورپر سچا قرار نہیں دیا جاسکتا۔

سچی بات یہ ہے کہ باپ کا علم اگر بیٹے کو ازبر ہوتو میراث پدر کا جائز وارث ہونے سے انکار کی گنجائش نہیں، البتہ باپ کی غلطیوں ،کوتاہیوں یا سراسربے جا اعمال کا ذمہ دار بیٹے کو قرار دینا انصاف سے بعید بات ہے۔ جہاں تک محترمہ بے نظیر بھٹو کا تعلق ہے وہ دیانت اور سلطنت سے آگہی، اقتدار کے حصول کے طریقوں اور ذریعوں سے شناسائی غرض ہرطرح اپنے والد کا جانشین ہونے کی مستحق تھیں اور اس معاملے میں بھی اپنے والد کا نقش پیکر تھیں کہ بہت سے اقدامات اور حربوں کے مضمرات اور نتائج کا بعدازوقت انہیں ادراک ہوتا تھا۔ نتائج مختلف کیسے ہوسکتے تھے۔ اب محترمہ بے نظیر بھٹو اس دنیا میں نہیں، اپنے خالق کے حضورجاچکیں اور اب کسی تحسین و تنقید سے بے نیاز ہیں۔ اب کہا نہیں جاسکتا کہ نوجوان بلاول کتنا ذہین، کتنا معاملہ فہم اور امور مملکت کا کتنا ادراک رکھنے والا ہے۔

اپنی والدہ کی جرا¿ت اور اپنے والد سے کتنی ذہانت اس کے حصے میں آئی ہے؟ کاش اسے کوئی یہ بات سمجھا سکتا کہ زمانہ بدل گیا ہے۔ سیاست کے تیور کچھ اور ہیں۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو اس ملک کی تاریخ کا حصہ ہیں ،ان کی خوبیوں اور خامیوں کی بنیاد پر سیاست کے میدان میں کچھ بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ سیاست کی بنیاد خواہ خاندان کی دستار فضیلت پر ہی رکھی جائے، مگر اس کا مستحق بننے کے لئے صرف دستار کی ملکیت کافی نہیں، یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ہے کہ بلاول زرداری کے دائیں اور بائیں کندھے پر دو الگ الگ وراثتوں کا بوجھ ہے، ہرچند کہ عزیزم بلاول اپنی ددھیال سے کسی رغبت کا اظہار نہیں کررہے اور طرز کلام انداز سیاست اور بدن بولی کے ذریعے خود کو ذوالفقار علی بھٹوکا حقیقی وارث باور کرانے میں لگے ہیں، مگر انہیں یہ سب کچھ بذریعہ زرداری ملا ہے ،اس متضاد انداز فکر میں توازن بھی ضروری ہے۔ کسی ایک طرف ضرورت سے زیادہ جھکاﺅ کے علیحدہ علیحدہ فوائد اور نقصانات ہیں۔

اب بلاول بھٹو کی معافی یا معذرت پر بات ہو جائے۔ اس معافی کا مخاطب جو مخلوق ہے ۔اول تو سرے سے اس کا وجود نہیں، کب کی اپنے خالق کے حضور پہنچ چکی اور جو دوچار مخلص نظریاتی حضرات بقید حیات ہیں، زندگی کے اس مرحلے میں ہیں جہاں سارے جذبے، ساری توانائی، نظریات سب کچھ رخصت ہوجاتا ہے۔ سوائے ایک خواہش ناتمام کے!زندگی محض الزام بن کر رہ جاتی ہے، اللہ سلامت رکھے معراج محمد خان ، ڈاکٹر غلام حسین ، آغاریاض، رشید میر، باجی نصرت رشید وغیرہ کو جناب بھٹو نے ناکارہ سمجھ کر دھتکار دیا کچھ محترمہ بے نظیر بھٹو کی ناپسندیدگی کا شکار ہوئے۔ بہت سے محترم زرداری کے معیار پر پورے نہ اترے۔ اب نہ ان میں نظریات کا بوجھ اٹھانے کی سکت ہے ، نہ آپ ان نظریات اور اصولوں سے پاسداری کا کوئی علاقہ رکھتے ہیں۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو کی زبان میں جو تاثیر اور شخصیت میں جو رچاﺅ تھا، کوئی اس کے عشر عشیر بھی میدان میں موجود نہیں ہے ،مگر ان کے تمام نعرے سب وعدے عمل کی میزان پر مات کھاگئے۔ اب روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے میں کوئی کشش ہے نہ جمہوری سماعت ، سوشلزم معیشت اور طاقت کا سرچشمہ عوام کے منشور کی کوئی وقعت ، تمام حجاب اٹھ چکے، سب چہرے بے نقاب ہوئے ،تمام حقیقتیں عیاں ہوچکیں، تلخ بات یہ ہے کہ قیادت کے دعویدار عوام کی مرضی کے طلب گار ہیں اور عوام ہرایک سے پوچھتے ہیں کہ جائیں کدھر کو ہم ؟

آپ جس جنس نایاب کی تلاش میں ہیں، اول تو حیات نہیں اور جو حیات ہیں وہ جسم وجاں کی سکت کھوچکے ۔ اگر کسی کو سیاست کا عجائب گھر بنانے کی توفیق ہوتو اس کی زینت بن سکتے ہیں، البتہ روٹھے ہوﺅں کو منانے اور ہم سفر بنانے میں آپ سنجیدہ ہیں تو اس کا آغاز گھر سے کیجئے، اپنے ”شہید“ ماموں کے گھر جائیے، اپنی بیوہ ممانی محترمہ غنویٰ بھٹو کے دروازے پر دستک دیجئے ، اس کی خدمت میں ادب سے سلام کیجئے، محترم مرتضیٰ بھٹو کے یتیم بیٹے ذوالفقار جونیئر کو گلے لگائیے ،اپنی عم زاد محترمہ فاطمہ بھٹو کے سرپر ہاتھ رکھئے۔ اپنی خالہ محترمہ صنم بھٹو کو وطن واپس لانے کی کوشش کیجئے ، آپ کی سب سے زیادہ توجہ کے مستحق تو یہی ہیں۔ ایسا ہو تو آپ کی یہ خواہش مبنی برحقیقت تسلیم کرنے سے کون انکار کرسکتا ہے۔ اگر بھٹو مرحوم کے حقیقی وارث، لاوارث ہیں تو کون احمق ہوگا جو وقت کی گرد میں گم مخلوق کی آرزو پر یقین کرے گا۔ آغاریاض الاسلام تو جیالوں کی صف کا وہ فرد تھا کہ ضیاءالحق کے دور میں راولپنڈی کا میئر بن سکتا تھا، مگر اس نے پیپلزپارٹی سے وابستگی کو ترجیح دی اور میئر ہاﺅس کے بجائے جیل جانا پسند کیا۔ تو تلاش کیجئے کہ اب آغاریاض الاسلام کہاں ہے ؟

 زمانہ بدل گیا ، اقدار بدل گئیں، پرانے نعرے اپنا تاثر کھو چکے۔ سرحد (خیبر پی کے) اور بلوچستان کے عوام نے بھٹو صاحب کی زندگی میں کبھی پلٹ کر پیپلزپارٹی کی طرف نہیں دیکھا۔ پنجاب بھی نئی کروٹ لے چکا ۔ حنیف رامے رہے نہیں، افتخار تاری چودھری ارشاد، ملک سلیمان، نصراللہ دریشک، لغاری خاندان ، خورشید حسن میر، نعیم کھوکھر ، ناصرہ کھوکھر خداجانے کن اندھیروں میں گم ہوگئے۔ بس راکھ ہے، شعلہ ہے، نہ چنگاری ہے اور آپ کے گرد جو مخلوق گھیرا ڈالے ہوئے ہے یہ سیاست کے ایسے کانچ کے گلاس ہیں جن کا اپنا کوئی رنگ نہیں ،جہاں سے جس درسے جس دربار سے جو رنگ ڈال دیا جائے، چند لمحوں کے لئے اسی رنگ میں رنگے جاتے ہیں۔ ذرا ماضی قریب ،بلکہ بالکل قریب کی تاریخ پر نظر تو ڈالئے ۔ یہ سید یوسف رضا گیلانی، یہ قمرزمان کائرہ ،یہ عبدالرحمان ملک ،رانا تاج احمد نون ان جیسے اور بہت سے آپ کو نظر آئیں گے۔ بھٹو صاحب کی پھانسی کے وقت کیا یوسف رضا گیلانی نامزد شوریٰ کے رکن نہیں تھے اور بے چارے عبدالرحمن ملک کی تو بساط ہی کیا، اس نے تو چودھری ظہورالٰہی کی عنایت سے گریڈ16 کی ملازمت حاصل کرلی تھی۔ اعتراز احسن، بابر اعوان کہاں کہاں سے ہوکر آپ تک پہنچے؟ یہ بھی قابل ذکر بات نہیں۔

 شاہ محمود قریشی کئی نسلوں سے ”جو جیتے اس کے ساتھ“ کا رویہ رکھتے ہیں اور خود آپ کے والد گرامی کی پیپلزپارٹی سے وابستگی اتنی پرانی نہیں کہ انہیں جیالا کہا جاسکے، البتہ ان کی ذہانت اور معاملہ فہمی کی داد دی جاسکتی ہے۔ مگر یہ بھی ہے کہ نصف صدی قبل کے نعرے تواب متروک ہوچکے ، پیمانہ وساغر کتنے بھی پرانے ہوں ،مشروب سیاسی نیا ہونا ضروری ہے ،جس کا ذائقہ بھی من کو بھائے ، اب 18اکتوبر کے جلسے سے اپنی عملی سیاست کا آغاز کرنے جارہے ہیں ،لہٰذا ان کی خواہش ہے کہ اس جلسے میں بہت بڑی تعداد میں لوگ شرکت کریں، اس کے لئے کراچی میں پیپلزپارٹی کے پانچوں ڈویژن کے عہدیدار دن رات تیاریوں میں مصروف ہیں، جبکہ پنجاب، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے بھی کارکنان کی ایک بڑی تعداد کی آمد متوقع ہے۔ 18اکتوبر کو بلاول بھٹونے جو تقریر کرنی ہے، اس کو آخری شکل دی جارہی ہے، یہ تقریر تمام مشیروں کی معاونت سے تیار کی گئی ہے۔ اس میں 11مئی کے الیکشن کے موقع پر کراچی میں ہونے والی دھاندلی کا بالخصوص اور ملک بھر میں کی گئی انتخابی دھاندلی کا بالعموم ذکر کیا جائے گا۔ پارٹی چیئرمین کی جانب سے مخالفین کو بھرپور جواب دینے کی حکمت عملی بھی طے کر لی گئی ہے۔

بلاول بھٹو کی ذاتی دلچسپی کے سبب مسئلہ کشمیر کا ذکر تقریر میں رکھا گیا ہے ،تاہم کشمیر اور مودی کے حوالے سے بلاول بھٹو کے بیان پر بھارت کا جو ردعمل سامنے آیا ہے، اس کو دیکھتے ہوئے تقریر میں کشمیر کا ذکر بڑھا دیا گیا ہے۔ عید کے اجتماع میں خطاب کے دوران بلاول بھٹو نے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انکل اگر آپ نے اپنے نامعلوم افراد کو نہ سنبھالا تو پھر مَیں آپ کا جینا حرام کردوں گا اور آپ لندن پولیس کو بھول جائیں گے۔ اس سخت بیان کے بعد متحدہ صوبائی حکومت سے علیحدگی کی دھمکی دے سکتی تھی ،تاہم بلاول بھٹو کے اس بیان کے بعد عبدالرحمن ملک نے حسب سابق الطاف بھائی کا غصہ ٹھنڈا کردیا۔ ٭

مزید :

کالم -