آزادی کشمیر کا لمحہ

آزادی کشمیر کا لمحہ
 آزادی کشمیر کا لمحہ

  

ہمارے ”بڑے بھائی“ اور پڑوسی بھارت کے نئے وزیراعظم نریندر مودی کو کیا ہو گیا ہے؟ یا تو یہ عالم تھا کہ پاکستان کے وزیراعظم کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں شریک کرنے کے لئے بے قرار تھے اور بھائی بندی اور اپنے پڑوس میں قیام امن کی دہائیاں دیتے ہوئے تھک نہیں رہے تھے، مگر جب سے وائٹ ہاﺅس کی ہوا کھا کر لوٹے ہیں اس وقت سے اونچی ہواﺅں میں اُڑے جا رہے ہیں بلکہ موصوف ابھی وائٹ ہاﺅس کی چار دیواری کے اندر اور انکل سام کے سایہ ہی میں تھے کہ دہشت گردی کے نشے میں بے قابو ہو گئے، فوراً گجرات کا مسلم قتل ِ عام اور سمجھوتہ ایکسپریس والا اپنی دہشت گردی کا کرتوت اور اس کے مرتکب ہندو مجرموں کو تو پس پشت ڈال دیا اور ممبئی کا قصہ لے بیٹھے، بلکہ ایک قدم اور آگے بڑھے اور نہرو کی جارحانہ دہشت گردی، اقوام متحدہ کی عدالت میں کشمیر کا مقدمہ لے جا کر تمام دنیا کے سامنے یہ وعدہ کہ کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دیا جائے گا، یہ تو سب کچھ بھلا دیا اور یاد آیا تو ممبئی کا قصہ اور پون صدی سے کشمیریوں پر مظالم بھی بھول گئے، یاد آیا تو کنٹرول لائن کو عبور کرتے ہوئے کشمیری یاد آئے جو ہندو کی بنائی ہوئی ”دیوارِ برلن“ ختم کر کے استصواب رائے کے ذریعے آزاد ہو کر ایک ہونا چاہتے ہیں، لیکن بھارتی فوج کی دہشت گردی پون صدی سے ان کی راہ میں حائل ہے! بھارت نے کشمیریوں کا حق آزادی چھین رکھا ہے، ان کے اب پیدائشی حق کو بھارتی دہشت گردی کی توپوں نے ان کا حق دبا رکھا ہے۔ اس حقیقت کو جواہر لال نہرو نے تمام دنیا کے سامنے مانا ہوا ہے، اقوام متحدہ کی عدالت اس پر گواہ ہے، بلکہ کشمیریوں کو یہ حق دینے والوں میں شامل ہے! دنیا کی سب سے بڑی طاقت بھی اس وعدہ میں شریک ہے!

حیرت کی بات بلکہ شرمناک بات یہ ہے کہ ہماری نالائقی اور بزدلی بھی کشمیریوں کا یہ حق دلانے میں بُری طرح ناکام ہے، سب اپنی لوٹ مار میں لگے ہوئے ہیں۔ کشمیریوں کو حق دلانا کسی کو یاد نہیں ہے، قابل ستائش ہیں وہ کشمیری لیڈر،جو پون صدی سے بھارت کی قابض فوج سے اپنا حق چھین لینے کے لئے سرگرم جہادی آزادی کے جوش کو ٹھنڈا نہیں ہونے دے رہے، مگر ہم ہیں کہ اپنے بھائیوں کو ان کا مسلم حق دلانے کے بجائے ان سے ملنے کو بھی جرم سمجھتے ہیں! بھلا ہو ہمارے ہائی کمشنر جناب عبدالباسط کا جنہوں نے کشمیری لیڈروں سے ملاقات کر کے دنیا کو اور خود پاکستان کو اپنا صرف حق ہی نہیں، بلکہ فرض یاد دلایا جس پر ہزاروں گجراتی مسلمانوں کا قاتل اور اس وقت دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد جو زندہ ہے اور دنیا کے سامنے برسر اقتدار بھی ہے! وہی مودی جس کو امریکہ نے بھی دہشت گرد مان رکھا ہے، امریکہ میں اس کا داخلہ بھی بند کر رکھا تھا، مگر آج وہی مودی وائٹ ہاﺅس میں کھڑے ہو کر پاکستان کو دہشت گرد قرار دلوانے کی کوشش کر رہا ہے! دہلی میں ہمارے ہائی کمشنر عبدالباسط کے جرا¿ت مندانہ اقدام پر لرز جاتا ہے اور بات چیت کے لئے اپنے سیکرٹری خارجہ کو پاکستان آنے سے منع کر دیتا ہے اور پھر امریکہ جو پاکستان کا مہربان دوست اور نیچرل اتحادی ہونے کے دعوے بھی کرتا ہے،مگر اپنے مانے ہوئے دہشت گرد مودی کو گلے سے لگاتا ہے، بلکہ اپنے گھر میں اور اقوام متحدہ کے فورم پر اپنے مانے ہوئے دہشت گرد کو آزادی پسند کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دینے پر خاموش رہتا ہے! اور ہم بھی اپنی پرانی روش پر چپ سادھے ہوئے چلے جا رہے ہیں! پاکستانی وزیراعظم کا اقوام متحدہ کے فورم پر کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرنا ایک جرا¿ت مندانہ قدم اور اپنا فرض نبھانے کی کوشش بھی ہے! موجودہ حالات میں ہائی کمشنر عبدالباسط کی طرح میاں نواز شریف صاحب کی یہ حمایت بہت بڑی بات ہے! یہ حق کی تائید اور حمایت ہے، جو پاکستان کا فرض ہے! کشمیری حق پر ہیں! ان کی حمایت کرنا دراصل حق کی حمایت ہے! یہ کشمیریوں کا وہ حق ہے جسے اقوام متحدہ سمیت تمام دنیا مانتی ہے! آج تمام باضمیر اور بیدار دنیا سب اقوام کا یہ حق جانتی اور مانتی ہے! آج ہم بھی اپنے کشمیری بھائیوں کو یہ دلا سکتے ہیں صرف خاموشی اور بزدلی کے خول سے باہر آنا ہو گا!!

مودی صاحب امریکہ یاترا سے واپس آتے ہی یہ جھڑپیں کیوں کروا رہے ہیں؟ یہ دراصل ایک لوری ہے جو انکل سام نے ان کو سنائی ہے! ایسے حالات پیدا کر دیں کہ نہ صرف پاکستان کی ضرب عضب خدانخواستہ ناکام ہو جائے، بلکہ دہشت گردوں سے کہوٹہ کے لئے خطرہ کا بہانہ بھی مل جائے تاکہ بھارت اور اسرائیل سمیت سب امن دشمن اور پاکستان کے بدخواہ بھی سُکھ کا سانس لے سکیں؟ پاکستان کشمیریوں کا نام لینے کے قابل بھی نہ رہے!

ہمیں کسی غلط فہمی میں نہیں پڑنا چاہئے! نریندر مودی کچھ بھی کر سکتا ہے، لیکن پاکستان سے دوستی، جنوبی ایشیا میں قیام امن اور کشمیریوں کو آزادی دینا مودی صاحب کا ایجنڈا ہے ہی نہیں! امن کی آشا، پُرامن پاکستان دوستی اور جنوبی ایشیا کی تجارت اور خوشحالی سب خواب، فریب کاری ہے! اگر بھارت بات چیت نہیں کرتا نہ کرے! سو سال سے جو بات چیت ہو رہی ہے اس کا نتیجہ کیا ہے! اگر مزید سو سال بات چیت نہ ہوئی تو کون سی قیامت آ جائے گی؟ اس وقت ضرب عضب کا کامیاب ہونا پاکستان کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ یہ وقت دھرنوں اور انتشار کا نہیں ہے، بلکہ اپنی بہادر افواج کے ساتھ کندھے سے کندھے ملانے اور اپنے بہادر محافظوں کے لئے سب کچھ نچھاور کر دینے کا وقت ہے! یہ وقت ہے وطن کے دفاع کا! یہ وقت ہے کشمیریوں کو آزادی دلانے کا، آج کی دنیا تمام انسانوں کے حق خود ارادیت کو مان رہی ہے! آج حق مانگنے والوں کا تمام دنیا ساتھ دے رہی ہے! آج بُرا حق مانگنے والا نہیں، حق مارنے اور دبانے والا بُرا ہے! آج برطانیہ بھی حق خود ارادیت ان کو دے رہا ہے، جن سے کوئی وعدہ ہی نہیں تھا، کشمیریوں کے ساتھ بھارت، پاکستان، اقوام متحدہ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ آج ہم اپنے بھائیوں کو ان کا حق دلا سکتے ہیں! بشرطیکہ سشما سوراج جیسا ہمارے پاس بھی وزیر خارجہ اور مستقل وزیر دفاع ہو! آج تمام قومی رہنماﺅں کو سب کچھ بھول کر پاکستان کا دفاع کرنا ہے! یہ مناسب ترین وقت ہے کہ سب لیڈر صرف ضرب عضب کی کامیابی اور کشمیریوں کو ان کا حق دلانے کے لئے ایک ہو جائیں، سب پاکستان کے محافظ اور کشمیریوں کے سفیر بن جائیں! دشمن ان دونوں معاملات۔ دفاع وطن اور آزادی کشمیر کے معاملات میں ہمیں ناکام دیکھنا چاہتے ہیں! یہ لمحہ ہے کشمیر کی آزادی اور پاکستان کے تحفظ اور دفاع کا! یہ لمحہ فضول چونچلوں میں وقت ضائع کرنے کا نہیں ہے! اگر یہ لمحہ غفلت اور انتشار کی نذر ہو گیا تو پچھتانے کا وقت بھی نہیں ملے گا! ٭

مزید :

کالم -