جہاز میں ایمرجنسی کی صورت میں دراصل کیا ہوتا ہے، پائلٹ کی سب سے اہم ذمہ داری کیا ہوتی ہے اور آپ کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟ وہ تمام باتیں جو ہر مسافر کو ضرور معلوم ہونی چاہئیں

جہاز میں ایمرجنسی کی صورت میں دراصل کیا ہوتا ہے، پائلٹ کی سب سے اہم ذمہ داری ...
جہاز میں ایمرجنسی کی صورت میں دراصل کیا ہوتا ہے، پائلٹ کی سب سے اہم ذمہ داری کیا ہوتی ہے اور آپ کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟ وہ تمام باتیں جو ہر مسافر کو ضرور معلوم ہونی چاہئیں

  


نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) یہ سوال آپ کے ذہن میں بھی اٹھتا ہو گا کہ کسی ہوائی جہاز میں ایمرجنسی کی صورت میں جہاز کے اندر کیا صورتحال ہوتی ہو گی۔ پائلٹ، جہاز کا عملہ اور مسافر ایسے میں کیا کرتے ہوں گے؟ یقینا یہ ایک خوفزدہ کر دینے والی صورتحال ہوتی ہو گی۔ بوئنگ 757اور 767کے کیپٹن کین ہوک نے ہوائی جہازوں میں ایمرجنسی صورتحال کی کچھ تفصیلات برطانوی اخبار ”ڈیلی میل“ کے ساتھ شیئر کی ہیں۔ آیئے آپ بھی جانیے۔

کیپٹن ہوک کا کہنا ہے کہ جہاز میں آگ لگنے، انجن فیل ہونے یا کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ مسافروں کو بااعتماد رہنا چاہیے کہ وہ کیپٹن اور جہازکے عملے کے محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور وہ انہیں نقصان نہیں پہنچنے دیں گے کیونکہ کسی بھی ہوائی جہاز کے سٹاف کو ڈیوٹی پر بھیجنے سے قبل ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سخت ٹریننگ دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سب سے پائلٹ کی طرف سے ردعمل سامنے آتا ہے اوروہ قریبی ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کرکے اسے صورتحال سے آگاہ کرتا ہے۔

کیپٹن ہوک نے کہا کہ ایمرجنسی صورتحال دو طرح کی ہوتی ہے۔ اگر جہاز میں آگ لگ جائے، دھواں اٹھنے لگے، انجن فیل ہو جائے یا ایندھن انتہائی کم رہ جائے تو پائلٹ اور عملے کو فوری طورپر کوئی فیصلہ کرنا ہوتا ہے بصورت دیگر عملہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے پورا وقت لیتا ہے اور جلدبازی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ کسی بھی قسم کی ایمرجنسی ہو، مسافروں کو اس سے لاعلم رکھا جاتا ہے۔ آگ لگنے کی صورت میں جہاز کا عملہ فوری طور پر گیس ماسک پہن لیتا ہے تاکہ دھوئیں سے متاثر ہوئے بغیر بہتر انداز میں مسافروں کو احتیاطی تدابیر کے متعلق بتا سکے اور ان کی حفاظت کے لیے اقدامات کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی میں جیسے ہی جہاز زمین پر اترتا ہے تمام ہنگامی دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور ان میں گیس سے پھولی ہوئی پھسلن سیڑھیاں لگا دی جاتی ہیں اور مسافروں کو اس سے اتارا جاتا ہے۔ یہ سیڑھیاں بہت عمودی ہوتی ہیں اور ان کی بلندی دو منزلہ عمارت جتنی ہوتی ہے اس لیے مسافر خوفزدہ بھی ہوتے ہیں۔ یہاں عملے کو اجازت ہے کہ وہ مسافروں کو زبردستی بھی ان سیڑھیوں سے اترنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔

کیپٹن ہوک نے چند احتیاطی تدابیر بتاتے ہوئے کہا کہ مسافروں کو جہاز کے ٹیک آف اور لینڈنگ کے وقت کبھی بھی سونا نہیں چاہیے۔ جہاز میں سوار ہو کر سیفٹی کارڈ کو احتیاط سے پڑھیں اور ہنگامی صورتحال میں جہاز کے عملے کی ہدایات غور سے سنیں اور ان پر عمل کریں۔ایسی صورتحال میں سب سے پہلی اپنے قریب ترین موجود ایمرجنسی گیٹ کا پتا چلائیں کہ کہاں ہے، اس طرح آپ کو اترنے میں آسانی رہے گی۔آگ لگنے کی صورت میں جہاز سے اترنے کے لیے مسافروں کے پاس صرف90سے 120سیکنڈز کا وقت ہوتا ہے۔ ایسے میں خوفزدہ ہوئے بغیر فوری طور پر پھسلن سیڑھی سے اتر جائیں تاکہ آپ کے پیچھے موجود مسافر بھی اتر سکیں۔ہنگامی صورتحال میں کبھی بھی اپنے سامان کو ساتھ لیجانے کی کوشش نہ کریں بلکہ سامان جہاز ہی میں پڑا رہنے دیں اور اپنی جان بچانے کی فکر کریں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس