ہسپتالوں میں ادویات اور سرجیکل سامان کی خریداری میں خورد برد

ہسپتالوں میں ادویات اور سرجیکل سامان کی خریداری میں خورد برد

لاہور(جاویداقبال)محکمہ صحت نے صوبائی دا ر الحکومت کے ٹیچنگ اورضلعی ہسپتالوں میں ادویات او ر دیگرسازوسامان کی خریداری میں بے ضابطگیوں کی چھان بین کا فیصلہ کیا ہے۔محکمہ صحت یہ چھان بین وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پرشروع کروارہا ہے۔وزیراعلیٰ کے نوٹس میں لایا گیا تھا کہ بعض ہسپتالوں نے بلک پرچیز کی خریداری نہیں کی اورمن پسند کمپنیوں کولوکل پرچیز کے ٹھیکے دے کرمہنگے داموں خریداری کی ہے۔جبکہ بعض ہسپتالوں نے لوکل پرچیز اوربلک پرچیز میں انتہائی غیرمعیاری ادویات اورسرجیکل کاسازوسامان خرید کر قومی خزانے کوناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ بعض ہسپتالوں نے ایسی کمپنیوں کو سالانہ کنٹریکٹ جاری کر دیے جو ٹیکنیکل کمیٹیوں کے پہلے مرحلے میں ’’ان فٹ‘‘ اورنااہل قراردی گئیں اوربعد میں ان کمپنیوں سے اندرخانے’’مک مکا‘‘ کرکے انہیں اہل قراردے دیا گیااوران کو ادویات اوردیگرسازوسامان کے ٹھیکے جاری کردیے گئے اوربعض کمپنیوں نے ’’پورا‘‘ سامان لیا ہی نہیں اور’’کاغذوں‘‘ میں سامان کی خریداری اوروصولی ظاہر کرکے انہیں کروڑوں روپے کی ادائیگی کردی گئی جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کیلئے ایک ہسپتال جس کے بارے زیادہ شکایات تھیں اس کی انکوائری کیلئے سپیشل سیکرٹری صحت کو انکوائری آفیسر مقررکیا گیا ہے۔دیگر ہسپتالوں میں پرچیز کی تحقیقات کیلئے الگ سے تین کمیٹیاں تشکیل دی جارہی ہیں اس حوالے سے سیکرٹری صحت جوادرفیق ملک کا کہنا ہے کہ جن ہسپتالوں کے بارے شکایات ملی ہیں کہ وہاں ادویات اوردیگر سازوسامان کی سالانہ خریداری میں گھپلے ہوئے ہیں اورمن مانیاں کی گئی ہیں ،اے سی نہیں چلائے گئے اورادائیگیاں کردی گئیں وہاں تحقیقات کا آغاز کیا جارہا ہے۔اورگھپلے سامنے آنے پر سخت ایکشن لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جن ہسپتالوں نے خلاف قانون ایل پی کے ٹھیکے دیے ہیں ان کی بھی چھان بین کا آغاز کر دیا گیا ہے ان کے ٹھیکے منسوخ کرکے دوبارہ ری ٹینڈر کرانے کا تحریری حکم جاری کیا گیا ہے ۔سیکرٹری صحت نے کہا کہ جو بھی ذمہ دارہوئے انہیں نشان عبرت بنائیں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1