خوشگوار عاجزی کا پیکر : زمرد ملک (2)

خوشگوار عاجزی کا پیکر : زمرد ملک (2)
 خوشگوار عاجزی کا پیکر : زمرد ملک (2)

  

بی اے میں لازمی انگریزی کا ہمارا نصاب تین پرچوں پہ محیط تھا ۔ پیپر ’اے‘ میں نثر کی کتا بیں اور پیپر ’سی‘ میں پوئٹری اینڈ ڈرامہ۔ ان دونوں کے بیچ جنرل انگلش کا پیپر جس میں گرائمر ، مضمون نویسی اور متن کی تلخیص کے سوالات ہوتے ۔ پروفیسر زمرد ملک نے ، جو ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ تھے ، نثر کے پرچہ میں ہمیں افسانوی ادب پڑھانا شروع کیا ۔ اس کے علاوہ برنارڈ شا کا تین ایکٹ پر مشتمل کھیل ، جس کے عنوان کا اُردو ترجمہ تھا ’شیطان کا چیلا‘ ۔ ایک تو منفرد ڈرامائی تحریر کا تیکھا پن ، پھر غضب کے مکالمے ، کردار نگاری کے پیچ و خم اور پس منظر میں برطانیہ کے نو آبادیاتی تسلط سے نجات حاصل کرنے کی امریکی جدو جہد ، جو جنرل یحیی خان کے مارشل لاء کے دنوں میں ایک عجیب لذت سے سرشار کرتی ۔ خیر ، اگر ڈرامہ کی معنویت اجاگر ہوئی تو اس کا سہرا زمرد ملک کی تدریس کے سر ہے ۔معمول یہ تھا کہ ملک صاحب پہلے پیریڈ میں مسکراتے ہوئے کلاس روم میں داخل ہوتے ۔ ہلکے رنگ کی شرٹ اور کالی پتلون ، سردیوں میں ہائی نیک سویٹر ، اس کے اوپر کوٹ ۔ ایک ہاتھ میں چمڑے کا کالا بیگ ہوتا، جس میں اور کاغذات کے ساتھ عموماً فکشن کی کوئی زیر مطالعہ نئی کتاب ۔ لباس نے زیادہ قیمتی ہونے کا تاثر کبھی نہ دیا ، مگر صاف ستھرا ، جوتے چمکتے ہوئے اور بال بنانے میں ایک سلیقہ ، جو بناوٹ سے عاری تھا ۔ چال ڈھال میں نہ تو بہت تیزی ، نہ اتنی آہستگی جو سستی کی حدوں کو چھو رہی ہو ۔ کلاس میں آئے ، ٹیکسٹ بک نکالی اور چند سطریں اونچی آواز میں دل جمعی سے پڑھیں ۔ اہم الفاظ کا تلفظ بتایا ، الگ الگ سٹریس پیٹرن کی نشاندہی کی اور پھر ہمیشہ یوں لگا کہ لکھنے والے کی تخلیقی رو کی زد میں آ کر جو مزا خود لے رہے ہیں اس میں ساری کلاس کو شریک کر لینا چاہتے ہوں ۔

اس آرزو کی تکمیل آسان نہیں تھی ۔ اول تو طلبہ کے درمیان تعلیمی پس منظر کا انفرادی فرق جو ہر کالج ، یونیورسٹی میں ہوا کرتا ہے ۔ دوسرے ، مرے کالج سیالکوٹ کے مقابلہ میں ہمارے جناح اسلامیہ میں داخلہ لینے کی شرائط زیادہ کڑی نہیں تھیں ۔ بس ’جو آئے آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں‘ ۔ اس رعایت کا فائدہ دور و نزدیک کے دیہات کو خوب پہنچا ۔ ہمارے اپنے شہر اور کینٹ کے لڑکے تو تھے ہی ۔ پر کالج میں رونق اس دم ہوتی جب وزیر آباد اور نارووال سے آنے والی ٹرینیں دو مخالف سمتوں سے قریبی ریلوے جنکشن کی حدود میں داخل ہو چکتیں ۔ زمرد ملک کا کمال یہ ہے کہ اس متنوع ہجوم کو پڑھاتے ہوئے استاد کی اپنی انگریزی دانی راستے کا پتھر کبھی نہ بنی۔ اس کے برعکس ، کلاس روم میں ملٹی لنگوئیل اپرو چ کی بدولت طلبہ کے درمیان سکونتی ، طبقاتی اور تعلیمی فرق روز بروز کم ہونے لگا ۔

یوں بھی زمرد مرحوم مزاج کے معلم تھے ، ممتحن نہیں تھے ۔ چنانچہ پہلے ہی دن انہوں نے نہائت مہذب اور خوشگوار لہجہ میں ایک راز کی بات بتا دی جسے ان کا تدریسی منشور کہنا چاہئے ۔ فرمایا ’اگر آپ دس سال تک فیل ہوتے رہیں تو میں مائنڈ نہیں کروں گا ، لیکن اگر آپ نالائق ہوئے تو یہ بات مجھے پسند نہیں‘ ۔ پہلے پہل تو یہ باریکی میری سمجھ میں نہ آئی، لیکن صبح ہی صبح جب استاد محترم ایک کے بعد کوئی دوسرا دلچسپ نکتہ چھیڑتے تو یہ تاریخی حقیقت دلوں میں اُترنے لگتی کہ اسلام بر صغیر میں محمود غزنوی کے حملوں سے نہیں، صوفیا کے اس چلن کی بدولت پھیلا جسے بزرگان دین ادب اور تواضع کا نام دیتے ہیں ۔ تواضع کا یہ عمل کلاس ختم ہونے پر چائے کی محفل میں بھی جاری رہتا ،جس میں اب شاعرانہ مزاج کا میرا دوست اور سیالکوٹ کینٹ میں ملک صاحب کا پڑوسی جمیل کوثر بھی شامل ہو چکا تھا ۔

موسیقی کی اصطلاح برتوں تو کلاس روم میں ہونے والی گفتگو سر تال کے عین مطابق ہوتی ۔ شائد اس لئے کہ ملک صاحب مصوری کی طرح موسیقی کی مبادیات سے بھی واقف تھے ، لیکن وہ جو حضرت علیؓ نے کہا ہے کہ بولو ، تاکہ پہچان لئے جاؤ ۔ میرا استاد بات شروع کرتا تو کسی کو گمان نہ گزرتا کہ علم کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے ۔ کھرج نہ بہت اونچا ، نہ بہت نیچا ۔ یہ تو ممکن ہی نہیں تھا کہ خوامخواہ چلا کر بولیں اور آج کے ٹی وی اینکروں اور اینکرنیوں کی طرح آواز پھٹ جائے ۔ دیکھئے نا ، انسانی صدا جسم کے صوتی آلات کی دین ہوتے ہوئے آپ کی باطنی کیفیتوں کا عکس بھی ہے ۔ اس لئے ایک شخص بولے گا تو محسوس ہو گا کہ تھکا ہوا ہے ، دوسرے کی چہک سر سبز و شاداب لگے گی۔ انہی کیفیات کو معیار بنائیں تو اللہ کی قسم ، زمرد ملک کی آواز ایک خوش نیت اور انسان دوست آدمی کی آواز تھی ۔

نجی محفلوں میں طویل گپ شپ سے گریز نہیں تھا ، لیکن یہ کبھی نہ ہوا کہ گفتگو پہ بس اپنا ہی غلبہ برقرار رکھیں ۔ میرے خیال میں لہجہ کی دلکشی کا بیشتر سامان وسعت مطالعہ اور سوچ کے اس پیرائے کی بدولت تھا کہ کسی بھی موضوع پر انسان کی ہر بات حرف آخر نہیں ہوتی ۔ ہاں ، ایک امتیازی وصف مکالمہ کے دوران موزوں الفاظ کا چناؤ بھی تھا ۔ جیسے ایک دن فیض احمد فیض کی شاعری کا ذکر ہوا تو بڑی نرمی سے بولے ’فیض کے کلام میں حیا ہے‘ ۔ منیر نیازی کی معروف غزل ’اس بے وفا کا شہر ہے ‘ سن کر ’آوارگی کی لہر ‘ والے شعر کی تعریف کی ۔ ’یہ وہ لہر ہے جو چڑھ جاتی ہے‘ ۔ دوبارہ سنئے ’یہ وہ لہر ہے جو چڑھ جاتی ہے‘۔ اسی طرح بعض الفاظ و تراکیب کا ترجمہ بھی برجستہ ہوتا ۔ برنارڈ شا کے ڈرامہ میں پادری اینڈرسن کے صحتمند اور پر گوشت چہرے کے بارے میں پڑھا تو کہنے لگے ’چنگا پھٹیا ہوئیا سی‘۔

کلاس روم کی طرح ٹک شاپ کی یومیہ محفلوں میں بھی ہماری گفتگو کا کوئی طے شدہ میڈیم نہیں تھا ۔ بات چیت میں خاموشی کے وقفے بھی آتے ، مگر انگریزی سے اُردو اور پھر پنجابی میں کوڈ سویچنگ جاری رہتی ۔ چائے کا آرڈر زمرد ملک ہی دیتے اور وہی پیالیوں میں ڈالتے ۔ طالب علم کے طور پر چائے بنانا میرا یا جمیل کا کام ہونا چاہئے تھا ، لیکن ہم اگر ایسا کرتے تو یہ استاد کے اس اختیار میں مداخلت ہوتی کہ کتنی چائے کا آرڈر ہے اور اس میں سے کس کس کو پیالی پیش کی جائے گی ۔ آج کے اسٹوڈنٹ استاد کے سامنے ہماری اس احتیاط کی نزاکت کو اگر سمجھ بھی گئے تو حقارت سے کہیں گے ’اوے ہوئے پینڈو ، اردو میڈیم ‘ لیکن ایک دن چائے ختم کرتے ہی استاد نے ایک چمچ چینی ہتھیلی پہ انڈیل کر اس کا ’پھکا‘ مارا اور کہا یہ ہوتی ہے ’اگری ایبل ہیبٹ‘ ۔ یعنی کینٹین میں بھی بیٹھے بیٹھے انگریزی پڑھا دی۔

طالب علمی کے دوران زمرد ملک سے میرا یا جمیل کا میل ملاپ اگر صرف ہمارے پیریڈ ز تک محدود رہتا تو مناسب تھا ، مگر پیری مریدی کے چکر میں ہم دونوں آہستہ آہستہ انگریزی کے سوا باقی کلاسیں گول گرنے لگے ۔ انگریزی کی کلاس بھی محاورے میں کہہ دیا ہے ، وگرنہ اسی مضمون کے ہمارے ایک اور استاد بھی تھے ، محنتی ، احساس ذمہ داری سے معمور اور امتحانی نقطہ ء نظر سے از حد موثر ۔ ایک دن میرے جاسوس کے مطابق، انہوں نے کہہ دیا کہ شاہد پانچ دن سے غیر حاضر ہے،مَیں آج اس کے انکل سے بات کروں گا۔اگلی صبح جو میری چھٹی غیر حاضری کا دن تھا ، کیا دیکھا کہ انکل میاں امین جو زمرد ملک کے دوست تھے ، کمرہ ء جماعت کے باہر کھڑے ان سے باتیں کر رہے ہیں ۔ مَیں صورت حال کو ’قیں ‘ کرنے کی خاطر کلاس روم کے اندر جا بیٹھا ۔ ظاہر ہے مجھے باہر بلایا گیا اور پوچھ گچھ ہوئی ۔یہ کارروائی میاں امین نے کی جو طبیعت کی رنگینی کے باوجود والدین کی غیرموجودگی میں میرے سرپرست تھے ۔ ’یار پروفیسر ، وہ اعجاز بٹ کہہ رہے تھے کہ یہ ان کی کلاس میں نہیں جاتا‘ ۔ ’لیکن ، میاں جی ، یہ تو اس وقت بھی کلاس سے اٹھ کر آیا ہے ‘ ۔ ’نہیں، بٹ صاحب تو ناراض تھے ‘ ۔ اس سے پہلے کہ کام اور خراب ہوتا ، زمرد ملک نے اچانک پوچھا ’وہ پڑھا کیا رہے ہیں؟‘ مَیں نے کہا ’سیون شارٹ پلیز‘ ۔ ’اوہ میاں صاحب ، بڑی بور کتاب ہے ۔ مَیں بھی کلاس میں نہیں جاتا تھا۔ یہ لائق آدمی ہے ، اپنے طور پہ پڑھ لے گا ‘ ۔ کسی کے لئے ڈھال بننا کہتے کسے ہیں ، یہ اس دن سمجھ میں آیا ۔ میاں امین خوشدلی سے واپس چلے گئے اور مَیں نے بھی فائنل امتحان میں اتنے نمبر لے لئے کہ کنووکیشن میں طلائی تمغہ ملا ۔ یوں پروفیسر کے اس قول کی لاج رہ گئی کہ آپ نالائق ہوئے تو مجھے افسوس ہو گا‘ ۔ (جاری ہے)

مزید :

کالم -