بھارت میں خونریزی: پنجابی کانفرنس کا التواء!

بھارت میں خونریزی: پنجابی کانفرنس کا التواء!
 بھارت میں خونریزی: پنجابی کانفرنس کا التواء!

  

ابھی ابھی لاہور میں کوریئر سروس کے ویزا سیکشن والوں نے اطلاع دی کہ ورلڈ پنجابی کانگریس کے چودہ رکنی وفد کے پاسپورٹ اور متعلقہ دستاویزات اسلام آباد سے آ گئی ہیں۔ آکر وصول کر لیں، پاکستان میں بھارت کے سفارت خانے کی طرف سے یہ کاغذات بھیجے گئے ہیں جو پچھلے ماہ کی 21تاریخ کو بھجوائے تھے، ہمارے اس وفد نے بھارتی پنجاب کے شہر فتح گڑھ میں ہونے والی عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کرنا تھی جس کا اہتمام گوردوارہ پر بندھک کمیٹی نے کیا اور یہ کانفرنس 22سے 25اکتوبر تک ہونا قرار پائی تھی۔ اب یہ ملتوی کر دی گئی ہے جس کے ساتھ ہی 21اکتوبر کو ہماری روانگی بھی نہ ہو سکے گی اور کوریئر سروس والوں نے جس انداز میں اطلاع دی اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ویزے نہیں لگائے گئے کہ کانفرنس ہی نہیں ہو رہی، بہرحال دستاویزات تو وصول کر لیں کہ ابھی کانفرنس موخر کی گئی ہے اسے ختم نہیں کیا گیا ممکن ہے یہ نومبر میں ہو جائے تاہم ہم اس وقت بھی جانے سے پہلے حالات کا جائزہ لیں گے۔

پاکستان سے ورلڈ پنجابی کانگریس کے چیئرمین فخر زمان کی قیادت میں اس وفد نے شرکت کرنا تھی اور ہمیں پنجابی صحافت کے حوالے سے ایک مقالہ تحریر کرکے پڑھنا تھا جس کے لئے تیاری بھی کی تھی یہ دھری کی دھری رہ گئی، بھارت میں دراصل مودی سرکار کی وجہ سے حالات خراب ہوئے اور اب ہریانہ کے وزیراعلیٰ نے تو حد کر دی ایک صوبے کا وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے انہوں نے بھارتی مسلمانوں کو بھارت میں رہنے کے لئے گائے کا گوشت ترک کرنے کی شرط عائد کر دی اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ ایسا کہے گا تو ان کے شہریوں اور کارکنوں کا رویہ کیا ہوگا، اسی دوران شملہ میں ایک نوجوان مسلمان ٹرک ڈرائیور کو لاٹھیاں اور اینٹیں مار مار کر ’’شہید‘‘ کر دیا گیا اور اس کا پرسان حال کوئی نہیں۔ جرم یہ کہ وہ ٹرک میں مویشی لے کر یو پی جا رہا تھا ٹرک کے ڈرائیور کو مسلمان ہونے کی بناء پر شہید کیا گیا جبکہ ٹرک مالکان کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا گیا۔

بھارت میں گائے کو ماتا کہہ کر پوجا کی جاتی ہے، حالانکہ بھارت ہی دنیا کا وہ ملک ہے جو گائے کے گوشت سمیت سب سے زیادہ گوشت برآمد کرتا ہے اور تناسب کے اعتبار سے بھی گائے کا گوشت ہی زیادہ۔ بیرونی ممالک میں بھیجا اور زرمبادلہ کمایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں پہلے بھی مسلمانوں کو شہیدکیا گیا اور ان کے گھر جلائے گئے اور یہ متعصبانہ سلسلہ تب سے شروع ہوا جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی برسراقتدار آئی اور مودی وزیراعظم بنے، اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ جو اس جماعت کے عسکری ونگ شیو سینا کے کہے یا متعصبانہ رویے کے خلاف آواز بلند کرے اس کا بھی قافیہ تنگ کر دیا جاتا ہے۔جنوب میں شیوسینا تو شمال مشرق میں راشٹریہ سیوک سنگھ اور بجرنگ دل متعصبانہ کردار ادا کررہی اور فساد پھیلا رہی ہیں۔

اس مرتبہ یہ بھی ہوا کہ مودی سرکاری نے کسانوں کی زرعی اراضی صنعتی مقاصد کے لئے ایکوائر کرنے کا بل پیش کر دیا، اس پر بھارت کے کسان سراپا احتجاج بن گئے اور مطاہرے کرنے لگے، قدرتی طور پر یہ احتجاج مشرقی پنجاب میں زیادہ تھا کہ بھارت میں پنجاب اور ہریانہ زرعی صوبے ہیں جو پورے بھارت کی خوراک کا بوجھ اٹھاتے ہیں، ان کسانوں نے ابتداء میں ریل کی پٹڑی پر دھرنا دیا اور مظاہرے کئے اس سے سمجھوتہ ایکسپریس سمیت متعدد ٹرینیں منسوخ ہوئیں یا رک گئیں۔ اس عرصہ میں ہم نے چندی گڑھ پریس کلب کے ساتھیوں کو اطلاع دی اور ان سے مشاورت کی کہ صورت حال کیا ہے۔ پریس کلب کے سابق صدر نوین۔ ایس۔ گریوال نے بتایا کہ احتجاج سے ٹرینیں متاثر ہیں، سڑک کے راستے کھلے اور کوئی ہنگامہ نہیں، اس لئے آپ لوگ چلے آئیں۔ ہم بھی منتظر ہیں، ہم نے چندی گڑھ کے لئے بھی ویزا مانگا تھا کہ صحافی دوستوں سے ملاقات اور تبادلہ خیال ہو جائے وہ سب خوش تھے کہ ہم آ رہے ہیں۔

شاید ہمارا جانا یا سفر نصیب میں نہیں تھا کہ اسی عرصہ میں متعصب ہندوؤں کی طرف سے سکھوں کی مذہبی کتاب گورو کا گرنتھ کو جلا دیا گیا جس سے سکھ مشتعل ہو گئے اور فساد پھیل گیا اس میں پانچ افراد مارے گئے اور متعدد زخمی ہوئے۔ یہ سلسلہ پورے پنجاب اور ہریانہ میں بھی پھیل گیا اور اسی بناء پر پنجابی کانفرنس ملتوی کی گئی۔ نوین ایس گریوال نے ہمارے دورے کی منسوخی پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، اب صورت حال یہ ہے کہ مودی سرکار کی ان فسادیوں کو مکمل حمایت حاصل ہے اور وہ دندناتے پھرتے ہیں، اچھے خاصے فساد پھیل چکے پوری دنیا میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پر دکھ اور افسوس کا اظہار کر اور معصوم جانوں کے اتلاف کو روکنے کا مطالبہ کررہی ہیں جبکہ سکھ حضرات اپنی مقدس کتاب کی بے حرمتی پر سراپا احتجاج ہیں، مودی حکومت پر کچھ اثر نہیں ہو رہا، اس اثناء میں گائیک غلام علی اور پاکستان کے سابق وزیرخارجہ میاں خورسید محمود قصوری کی کتاب کی تقریب

مزید :

کالم -