دو قومی نظریہ اور پاکستانیت

دو قومی نظریہ اور پاکستانیت
دو قومی نظریہ اور پاکستانیت

  

قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے 1930ء کے خطبے نے دو قومی نظرئیے کو سیاسی شکل دی۔ اس سے پہلے سر سید احمد خان بھی ہندوؤں اور مسلمانوں کو دو الگ تہذیبیں قرار دے چکے تھے، لیکن سر سید نے دو قومی نظرئیے کو formallyکبھی پیش نہیں کیا۔ جہاں تک یہ تصّور ، کہ ہندو اور مسلمان ہندوستان کے باشندے ہونے کے باوجود ہر لحاظ سے ایک دوسرے سے جُدا ہیں، اس تصّور کو مشہور سیاح اور تاریخ نویس البیرونی نے 900 سال قبل ہی پیش کر دیا تھا، حالانکہ ہندوستان کی کل آبادی 900 ء میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد نہیں سمجھی جاتی تھی، جس میں مسلمانوں کی تعداد اُس وقت 10 لاکھ سے زیادہ نہیں تھی۔ خیال رہے کہ تخمینے اُس وقت کے ہیں، جب سرکاری مردم شماری کی اِبتدا نہیں ہوئی تھی۔ آبادی کے یہ انداز ے مختلف ہندو اور انگریز تاریخ دانوں نے لگا ئے ہیں، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ البیرونی نے مسلمانوں اور ہندوؤں کا رہن سہن، معاشرتی رسم و رواج اور کھانے پینے کی عادات کا ذکر صرف شمالی ہندو ستان میں رہنے والے ہندوؤں اور مسلمانوں کا مشاہدہ کر کے کیا تھا۔ البیرونی کے زمانے کے ہندی مسلمانوں کی دوسری اور تیسری نسل جو خراسان اور افغانستان سے آئی تھی اور وہ ابھی زندہ تھی۔ ہندہ تہذیب کے اثرات ان مسلمانوں نے ابھی بہت زیادہ قبول نہیں کئے تھے۔ محمود غزنوی کے بعد 900 سال تک افغانستان، ایران، وسطیٰ ایشیاء اور ترکی سے مسلمان فاتح ہندوستان آتے رہے اور یہاں پر ہی رہائش پذیر ہو گئے۔ ہندو آبادی کا بڑا حصہ ، اسلام کی طرف مائل ہو کر " ہندی مسلمان "تہذیب کی بنیاد بنا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شمالی ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کی ہندی مسلم رعایا متنوع تہذیبوں کا مجموعہ بن گئی۔ اس گنگا جمنی تہذیب نے ہندی مسلمانوں کو ایک منفرد عوام بنا دیا۔البتہ دکنی ہندوستان کے مسلمان جو زیادہ تر عرب تاجروں کی وجہ سے مسلمان ہوئے تھے، اُنہوں نے دراوڑی تہذیب کو نہیں چھوڑا، حالانکہ 19 ویں صدی تک مختلف تہذیبوں کے ملاپ سے ہندوستانی زبان ،جس کو بعد میں اُردو کا نام دیا گیا، بھی معرضِ وجود میں آگئی تھی۔

اٹھارویں صدی میں برطانوی سامراج نے ہندوستان میں اپنے قدم مضبوط کر لئے اور 1857ء کے بعد مغل شہنشاہ کی برائے نام حکومت ختم ہو کر برطانوی ملکہ وکٹوریہ کے زیرِاقتدار چلی گئی۔ مغلوں کے دور میں جو اِتفاق ہندوؤں اور مسلمانوں میں پیدا ہوا تھا،وہ پارہ پارہ ہونا شروع ہو گیا۔ اُس وقت کے مسلمان عُلما خاص طور سے فرنگی محلی عُلما نے مسلمانوں کو انگریز کی زبان، تہذیب اور علوم سے دُور رہنے کی تلقین کی ،جبکہ اُس وقت کے ہندو رہنماؤں نے نہ صرف انگریز کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا،بلکہ اپنی نوجوان نسل کو انگریز کے لائے ہوئے علوم سیکھنے کی ترغیب دی۔ تقریباً 50 سال تک ہندی مسلمان انگریز سے ناراض رہے اور اِسی عرصے میں ہندوؤں کی پہلی اور دوسری نسل انگریزی پڑھ لکھ کر جدید دور میں داخل ہوگئی۔ ہندو ڈاکٹر، انجئنیر، اُستاد، وکیل، ٹھیکیداراور تاجر انگریز کے نظم و ضبط کو چلانے کے لئے میّسر ہونے شروع ہو گئے، جبکہ ہم مسلمانوں کی انگریز سے ناراضگی کی وجہ سے تعلیمی اور معاشی حالت کمزور ہوتی چلی گئی۔ متعصب ہندو لیڈروں نے اُردو زبان کے خلاف زہر افشانی شروع کر دی۔ اُردو ، جو ہندوستانیوں کی ایک مخلوط زبان سمجھی جاتی تھی اُس کو صرف مسلمانوں کی زبان بنانے کی مہم چلانی شروع کر دی گئی۔ ایک ہندو لیڈر مدن موھن مالویہ جو کُل ہند کانگرس کا چار مرتبہ صدر رہا تھانے ہندی بھاشا اور اُس کے دیوناگری رسم الخط کو سرکاری سرپرستی دلانے کی بھرپور کوشش شروع کر دی۔ انگریز نے ہندؤں کو خوش کرنے کے لئے اُردو کانام ہندوستانی رکھ دیااور رسم الخط عوام کی مرضی پر چھوڑ دیا۔

یہ تھے وہ حالات ،جن کی وجہ سے ہندی مسلمانوں کے اُس وقت کے رہنماؤں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہندو اور مسلمان الگ قومیں ہیں۔ اس سوچ کے پیچھے ہندی مسلمانوں کا غیر دانشمندانہ روّیہ بھی تھا۔ فرنگی محل کے مّلاؤں کے فتووں کی وجہ سے مسلمانوں کے 50 سال ضائع ہو گئے۔ اِن اہم سالوں میں ہم ہندی مسلمان تعلیمی ، معاشی اور معاشرتی لحاظ سے ہندوؤں سے ہمیشہ کے لئے پیچھے رہ گئے۔ اِن ہی 50 سالوں میں ہندو انگریزی تعلیم کی بدولت انگریزی راج کی ایڈمنسٹریشن کا حصہ بن گئے۔انگریز کی حکومت کے تعمیرات اورسپلائی کے بڑے ٹھیکیدارہندو بن گئے، جبکہ مسلمان اکابر مغلیہ دور کے جاگیردارنہ دور سے باہر ہی نہ آئے۔انگریز نے بھی مسلمانوں کے اہم قبیلوں ، مخدوموں اور سرداروں کو زمینیں الاٹ کر کے اپنا مزیدمطیع بنا لیا اور اُن کی وفاداریاں خرید لیں، جس خطّے کو ہم پاکستان کہتے ہیں یہاں کے مسلمان عوام تو صدیوں سے غلامانہ زندگی گذار ہی رہے تھے۔ اُن کے لئے مغلوں کی غلامی اور انگریز کی غلامی میں کوئی فرق نہیں تھاَ ۔اُنہوں نے تو اپنے وڈیرے ، اپنے چوہدری اپنے مخدوم اور اپنے قبیلے کے سردار کے حکم کے پیچھے چلنا تھا۔

ہندوستان میں انگریز سے آزادی حاصل کرنے کی اِبتدا ہندو لیڈروں نے کی یا دیو بندی مسلمان عُلما نے۔ آل اِنڈیا کانگریس 1885ء میں انگریزوں کی معاونت سے ہی تشکیل دی گئی۔ شروع میں کانگریس میں ہندو اور مسلمان اِکٹھے تھے۔ یہاں تک کہ دیوبندی عُلما تو تقسیمِ ہند تک کانگریس کے ساتھی رہے۔ مسلمانوں کے کچھ دانشور لیڈروں نے ہندو لیڈروں کی منافقت بھانپ کر اپنا الگ سیاسی پلیٹ فارم بنایا۔ آل اِنڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھنے والے مشرقی بنگال کے مسلمان لیڈر تھے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ اقبالؒ نے 1930ء کے بعد یہ کُھلا اعلان کر دیا کہ ہندوستان کے مسلمان ہندوؤں سے ہر طور جُدا ہیں اور یہ کہ ہندوستان میں دو بڑی قومیں رہتی ہیں یعنی ہندو اور مسلمان ۔ہندوستان کے مسلمانوں کی سیاسی، معاشی اور معاشرتی ضروریات کو سامنے رکھ کر دو قومی نظریئے کی بنیاد رکھی گئی۔

دو قومی نظریہ ایک وقتی سیاسی نعرہ تھا حالانکہ ہندوستان کے مسلمان" قوم" کی تعریف (Definition) پر پورے نہیں اُترتے تھے۔ قوم بننے کی کلاسیکی تعریف بمشکل 4-3 سو سال قبل منظرِ عام پر آئی تھی جب یورپ میں Nation-state کا سیاسی نظریہ وجود میں آیا تھا۔ ہندوستان کے مسلمان خود نسلی اعتبار سے مختلف تھے اور اَب بھی ہیں۔ تامِل، ملیالم، بنگالی، تیلگو، مہاراشٹری، راجستھانی اور آسامی تو سکّہ بند مقامی نسلیں ہیں، جن میں سے کروڑوں لوگ وقت کے ساتھ مسلمان ہوتے گئے۔ ہندواور مسلمان تہذیب کا مرکب ہندوستانی مسلمان کہلانے لگا۔ قائد اعظم کا دو قومی نظریہ انگریز سے آزادی حاصل کرنے کی حد تک تو ٹھیک تھا، لیکن ہندوستان کے مسلمان خود کبھی ایک قوم نہ تھے اور نہ بن سکتے تھے۔ قوم بننے کے کئی اجزاء میں مذہب کی یگانگی محض ایک جُز ہے۔ اگر مذہب ہی قومیت کی اوّلین بنیاد ہوتا تو دنیا میں اِتنے مسلمان اور عیسائی ممالک نہ ہوتے۔جب Nation-state کا تصّور یورپ میں نہیں تھا، اُس وقت مذہب ضرور اتحاد کا ایک عنصر تھا۔ یورپی اقوام عیسائیت کے جھنڈے کے نیچے اکٹھی ہو کر مسلمانوں کے خلاف جبCrusades برپا کرتی تھیں تو قومیت پیچھے رہ جاتی تھی اور مذہب اوّل اور آخر ہوتا تھا۔دنیا میں یہ پہلا اور آخری اتحاد تھا جس میں مذہب کو قومیت اور نسل پر ترجیح دی گئی تھی۔ محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری سے لے کر احمد شاہ ابدالی تک جو بھی حملہ آور آئے ،وہ مسلمانوں سے ہی حکومت چھینتے تھے۔ مذہب اسلام ، قومیت کی بنیاد کبھی بھی نہ تھا۔

1947ء میں قائد اعظم کی تدبیروں سے اور ہندو کی تنگ نظری کی وجہ سے پاکستان کی ریاست وجود میں آئی۔ دنیا کی یہ پہلی ریاست تھی، جو ہندوستان کے مختلف النسل مسلمانوں کو ایک قوم ظاہر کر کے، عالمِ وجود میں لائی گئی۔ مملکتِ پاکستان جو 14 اِگست1947ء سے پہلے کوئی وجود ہی نہیں رکھتی تھی، اُس نوزائیدہ مملکت میں رہنے والوں میں قومیت کا احساس کیسے پیدا ہو سکتا تھا؟ بلوچستان اور سندھ کے عوام اپنی بڑے گھیروں والی شلواروں بھاری بھرکم پگڑیوں اور اپنی زبان کو چھوڑ کر کس طرح جناح کیپ اور پاجامے یا لُنگی زیبِ تن کر سکتے تھے؟ مملکتِ خداداد میں رہنے والوں کا رنگ روپ، قدکاٹھ، لباس ، خوردونوش، زبان، ادب اور شاعری ،بلکہ موسیقی بھی آپس میں نہیں ملتی تھی۔ ہمارے اُس وقت کے لیڈروں نے اپنی کو تاہ بینی سے قائد اعظم سے اُردو کو قومی زبان کا درجہ دینے کا نعرہ لگوا دیا۔ مملکتِ خداداد کے پہلے ہی سالِ پیدائش میں بنگلہ دیش کا بیج بو دیا گیا۔ بعد میں ہمارے لیڈروں اور دانشوروں نے بڑے جتن کئے ہمیں ایک قوم بنانے کے، لیکن یہ کوششیں بار آور نہ ہو سکیں۔ ہمارے اُس وقت کے بڑے سرکاری اَفسروں اور سیاسی لیڈروں نے زبردستی مذہبیت کو پاکستانیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ ہمارے علاقائی لیڈروں کی آپس کی اپنی چپقلشوں نے پہلی دفعہ پنجاب میں مذہبی بنیادوں پر فسادات کروا دیئے ۔ پہلا مارشل لاء لگا ملّاؤں کو سزائیں دی گئیں جو بعد میں معاف کر دی گئیں۔ اس چیز کا سب سے بُرا اور آئندہ کے لئے مہیب نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کے ایک صوبے نے مذہبیت کے نام پر بلوہ کیا جب کہ پاکستان کے تمام صوبے بشمول مشرقی پاکستان ، اس قسم کی مذہبیت سے غیر متاثر رہے۔ مغربی پاکستان کے اسی صوبے پنجاب میں مذہبی تنگ نظری اور فرقہ واریت کو تقویت ملی جو آج 2015ء میں بھیانک شکل اِختیار کر گئی ہے۔

پاکستانیت ایک مجرّد (Abstract) روّیہ ہے جو پاکستان میں رہنے والوں میں ہونا چاہیے۔ یہ روّیہ ہوتا ہے آپس میں اکٹھے رہنے کا، باوجود زبان، رہن سہن اور خورد و نوش کے اِختلاف کے۔ قومیت روّیے کے علاوہ ایک جذبے کا بھی نام ہے۔ برِصغیر میں صرف بنگلہ دیش ہے جو ایک کلاسیکی قوم بن چکا ہے کیونکہ اُن کی زبان، اُن کی نسل، معاشرت اور مذہب ایک ہیں۔ بھارت اور پاکستان خارجی عوامل کی وجہ سے دو الگ قومیں نظر آتی ہیں، لیکن حقیت میں ہیں نہیں۔ ہندوستان کی 22 مختلف زبانیں بولنے والی نسلوں کو متحد رکھنے کے لئے بھارت نے اپنی سرحد کے پار پاکستان کو دشمن ملک قرار دیا ہوا ہے۔ یہی ہمارا حال ہے۔ بھارت ہم 20کروڑ پاکستانیوں کا مشترکہ دشمن ہے۔ یہی سب سے بڑا Binding force ہے پاکستانیوں کے لئے۔ مشترکہ دشمن کی وجہ سے ہماری دفاعی طاقت مضبوط بھی ہے اور اہم بھی ہے۔ ہم کتنے سالوں سے ملّی نغمے گا رہے ہیں، کتنے عرصے سے کارکنانِ تحریکِ پاکستان کا غیر سرکاری اِدارہ سرکاری سر پرستی میں کام کررہا ہے۔ کتنی دہائیوں سے نظریہ پاکستان کا اِدارہ پنجاب حکومت کے تعاون سے کام کر رہا ہے، کیا ان اِداروں کی کاوشیں ہم میں پاکستانیت پیدا کر سکیں؟ہم تو بلکہ لسانی گروہوں اور مذہبی فرقوں میں تقسیم ہو گئے۔ قومیت جو اتحاد کا مظہر ہوتی ہے وہ تو کہیں بھی نظر نہیں آتی۔ افواجِ پاکستان صرف ایسا ادارہ ہے جس نے بڑی کوشش اور منصوبہ بندی سے پاکستانیوں میں وطن کی محبت کا احساس اُجاگر کیا ہے۔

ہمارے دانشور اور سیاستدان جتنا مرضی جمہوریت کا راگ الاپیں، جتنا مرضی مصنو عی زور پاکستانیت پیدا کرنے کے لئے لگا دیں، سب بیکار رہے گا۔ کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ ہماری دینی اور غیر دینی سیاسی پارٹیاں (سوائے جماعتِ اسلامی کے) علاقائی جماعتیں بنتی جا رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی ہو یا نواز لیگ، فضل الرحمن کی پارٹی ہو یا اسفند یار ولی کی، الطاف حسین کی ہو یا عمران خان کی۔ یہ پارٹیاں حقیقتاً علاقائی پارٹیاں ہیں۔ بھٹو صاحب اور بے نظیر کا کچھ زمانہ تھا، جس میں ہم پاکستانی صوبائیت سے بلند ہو گئے تھے۔ Genuine سیاسی پارٹیاں عوام میں قومیت کا جذبہ اُبھار تی ہیں بشرطیکہ وہ عوام کے لئے کام کریں ۔ افواجِ پاکستان ہی ایک ایسا ٹھکانہ ہے، جہاں جا کر پاکستانی قوم کا ہر فرد پاکستانی سوچ میں ڈھل جاتا ہے۔ ہماری سیاسی پارٹیاں اور ہمارے دینی اِدارے Divisive ہیں۔ یہ سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ میں اپنی ہردلعزیزی کی وجہ سے نہیں آتیں، بلکہ یہ Electables کی مدد سے اپنے چہرے پر جمہوریت کا نقاب لگا کر اسمبلیوں میں پہنچ جاتی ہیں۔ہمارے ملک میں صرف دو جماعتیں ہیں جو عمومی طور پر بغیر Electables کی مدد کے پارلیمنٹ میں آتی ہیں۔ وہ ہیں MQM اور جماعتِ اسلامی۔ MQM اپنی ساخت کی وجہ سے قومی جماعت نہیں بن سکی، جبکہ جماعتِ اسلامی اپنے سخت نظم و نسق کی وجہ سے بہت زیادہ عوامی نہیں بن سکی۔ قصہ مختصر پاکستانیت کی جگہ علاقیت لے رہی ہے اور یہی حال بھارت کا ہے۔ Too much democracy بالاخر علاقائیت میں تبدیل ہو جاتی ہے، اِسی لئے سیاسی دانشوروں نے مقامی حکومتوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ہمارے ہاں کمزور اور خاندانی سیاسی پارٹیوں کی وجہ سے مقامی حکومتیں پنپ نہیں سکتیں۔ زیادہ سے زیادہ مقامی حکومتیں ہوں اور با اِختیار ہوں تو پاکستان کے ہر صوبے کا رہائشی پاکستانیت کے جذبے سے سر شار ہو سکتا ہے۔

مزید :

کالم -