بے روزگار نہ کریں!

بے روزگار نہ کریں!

خبر ہے کہ حکومت کی ہدایت پر یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن نے عارضی ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے کہ کارپوریشن نقصان میں ہے۔ اس فیصلے سے کارپوریشن کے تین ہزار دو سو ملازمین متاثر، یعنی بے روزگار ہوں گے اور مُلک کے بے روزگاروں کی تعداد میں اضافہ کریں گے۔ مسلم لیگ(ن) کی حکومت جب بھی آئی اس کی بنیادی پالیسی نجکاری اور سرکاری اداروں سے ملازمین کی فراغت رہی، حالیہ دورِ اقتدار میں کئی محکموں سے لوگوں کو بے روزگار کیا گیا۔ متروکہ وقف املاک میں جو سلسلہ شروع تھا وہ ابھی تک جاری ہے اور ملازمین خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔ ان کی کئی مراعات بھی واپس لی گئی ہیں جو قانونی ہیں، اب یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے ملازمین کی باری آ گئی، حکومت ریلوے سے بھی ’’فاضل‘‘ ملازمین نکالنا چاہتی تھی، لیکن وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی وجہ سے یہ نہیں ہوا۔ اِسی طرح پی آئی اے اور سٹیل ملز سے ملازمین فارغ نہیں کئے جا سکے البتہ ہر دو اداروں کی نجکاری کا فیصلہ موجود ہے اور جب نجکاری ہو گی تو پہلے ملازمین کی قربانی ہو گی۔حکومت کا موقف ہے کہ پیپلزپارٹی کے دور میں خلاف قاعدہ اور آسامیاں موجود نہ ہونے کے باوجود بھرتیاں کی گئیں، جس کی وجہ سے ادارے بدانتظامی کا شکار اور نقصان میں ہیں۔ یہ جواز اپنی جگہ ہو گا، لیکن ایک سیاسی جماعت ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو یہ ادراک ہونا چاہئے کہ آج کے دور میں بے روزگاری کتنی بڑی لعنت اور پریشانی ہے اور آگے روزگار کے مواقع نہ ہونے کی و جہ سے بے روزگاروں میں مزید اضافہ ہو تو صورت حال کیا بنے گی؟ یہ اقدام مسلم لیگ(ن) کے لئے سیاسی طور پر بھی بہتر نہیں۔ اچھا اقدام تو یہ ہے کہ اگر سابقہ حکومت کی وجہ سے ملازم فاضل ہو گئے ہیں تو ان کو کسی طرح کھپانے کی کوشش کی جائے کہ وہ روزگار کی محرومی سے بچ جائیں، ایسے حضرات کے لئے ان کی اہلیت ہی کے مطابق کام لیا جائے تو فائدہ ہو گا۔

مزید : اداریہ