اورنج لائن :اعتراضات کا جواب دیا جائے!

اورنج لائن :اعتراضات کا جواب دیا جائے!

  

اورنج ٹرین ایک مفید منصوبہ ہے۔ یہ گاڑی چین کے تعاون سے چینی انجینئروں کی نگرانی میں تکمیل پذیر ہوگی، اس کی تمام تر کاغذی کارروائیاں مکمل کی جا چکی ہیں اور اب اراضی یا عمارتوں کی ریکوزیشن کے عوض اور ترقیاتی کاموں کے لئے فنڈز مہیا کرنے کا سلسلہ شروع ہے۔حکومت پنجاب نے پہلے سے بجٹ میں رقوم مختص نہیں کی تھیں،اِس لئے بعض رقوم ضمنی بجٹ کے حوالے سے مختص کی جا رہی ہیں اور کئی رقوم بعض دوسرے ایسے منصوبوں سے بھی لی گئی ہیں، جن کے نکالنے سے ان منصوبوں کے متاثر ہونے کا خدشہ نہیں، البتہ کچھ تاخیر ہو سکتی ہے۔پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے اراکین نے قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید کی قیادت میں مظاہرہ اور احتجاج کیا۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب نے شہر سے باہر جدید قبرستان بنانے کے لئے جو فنڈز مختص کئے تھے،وہ اورنج لائن منصوبے کے لئے منتقل کردیئے ہیں۔ ان احتجاج کرنے والوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ اس ٹرین کا روٹ کئی بار تبدیل کیا گیا اور یہ سب مخصوص مفادات کی خاطر ہوا۔اورنج ٹرین کا منصوبہ مفید ہے۔ ایسی ٹرین تو بہت پہلے چلنا چاہئے تھی، تاہم اب ’’دیر آید درست آید‘‘ کے مصداق ہے۔وزیراعلیٰ بہت جذباتی ہیں اور وہ اپنی روایت کے مطابق اس منصوبے کی نگرانی بھی خود کر رہے ہیں، تاہم یہ ضروری ہے کہ اگر اعتراضات ہوں تو ان کا شافی جواب بھی دیا جائے، دورِ جمہوریت ہے تو یہ بھی جمہوری عمل ہے کہ حکومت جواب دہ ہوتی ہے۔ وزیراعلیٰ کو چاہئے کہ وہ خود یا ترجمان کے ذریعے اعتراضات کا جواب دیں اور ابہام دور کریں۔

مزید :

اداریہ -