کراچی لاہور گیس پائپ لائن پر روس کی سرمایہ کاری

کراچی لاہور گیس پائپ لائن پر روس کی سرمایہ کاری

  

پاکستان اور روس کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے کا معاہدہ طے پا گیا ہے، روس منصوبے پر دوارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، معاہدے پر عمل درآمد کے نتیجے میں کراچی سے لاہور تک 1100کلو میٹر طویل پائپ لائن بچھائی جائے گی، پائپ لائن کے ذریعے2.4ارب کیوبک میٹر قدرتی گیس روس سے پاکستان منتقل کی جائے گی، منصوبے کا پہلا مرحلہ دسمبر2017ء میں مکمل ہو گا۔ روسی کمپنی یہ پائپ لائن تعمیر کرنے کی ذمہ دار ہو گی جسے ’’شمال جنوب پائپ لائن‘‘ کہا جائے گا۔ یہ پائپ لائن کراچی میں مائع قدرتی گیس کے ٹرمینلز کو لاہور کے ساتھ منسلک کرے گی۔ گیس پائپ لائن کی تعمیر کا یہ عمل تین مرحلوں میں42ماہ میں مکمل ہو گا۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے معاہدے کو پاکستان اور روس کے درمیان فروغ پاتے تعلقات میں مزید استحکام کا حوالہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے اِس منصوبے میں عملی پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب پاکستان توانائی کے شدید بحران کا شکار ہے۔ اِس حوالے سے یہ معاہدہ روس کی جانب سے دوستی اور تعلق کی ایک یادگار علامت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے انتہائی اہم ہے، اس سے پاکستان کے جنوب سے مُلک کے بقیہ حصے تک اضافی درآمدی گیس لے جانے میں مدد ملے گی، جس کے لئے اس وقت کوئی نظام موجود نہیں، توقع ہے کہ چین بھی گیس پائپ لائن منصوبے پر عمل درآمد میں تعاون کرے گا۔

ستر کے عشرے میں روس نے پاکستان کو کراچی میں سٹیل مل تعمیر کر کے دی تھی، جو اُس وقت جدید ٹیکنالوجی کا ایک شاہکار تصور ہوتی تھی اور اگر منصوبے کے مطابق اس ملز کی توسیع کے منصوبے جاری رکھے جاتے اور پیداوار میں تدریجاً اضافہ ہوتا رہتا تو آج نہ صرف یہ ملز ہماری خوشحالی میں حصہ ڈال رہی ہوتی، بلکہ توسیع کی وجہ سے پیداوار اور ملازمت کے مواقع میں بھی اضافہ ہوتا، لیکن ہماری بدقسمتی کہ اب یہ مل ہمارے وسائل پر بوجھ بن چکی ہے، لیکن اس مِل کی تعمیر کے ضمن میں روس (اُس وقت سوویت یونین) نے پاکستان کے ساتھ جو نیکی کی تھی اب اس کا اعادہ پاکستان روس پائپ لائن کی تعمیر کے معاہدہ پر دستخط کر کے کیا ہے۔70ء کی دہائی کے بعد یہ روس کا بڑے پیمانے پر پہلا منصوبہ ہے توقع ہے کہ یہ پائپ لائن پاکستان میں گیس کی ضروریات پوری کرنے میں کردار ادا کرے گی اور اس سے خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔ روس اور پاکستان گزشتہ کچھ برسوں سے دفاع سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھا رہے ہیں۔ اِس وقت دفاعی تعاون کا سنگ میل ایم آئی35ہیلی کاپٹروں کی سپلائی ہے،جس کے معاہدے پر پہلے ہی دستخط ہو چکے ہیں۔ لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی سپلائی کے معاہدے پر بھی بات چیت جاری ہے اور اِس ضمن میں بھی معاہدہ جلد متوقع ہے۔ روسی وزیر توانائی نے بھی گزشتہ تین دہائیوں میں پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا ہے اور امید ہے روسی صدر پیوٹن بھی پاکستان کے دورے پر آئیں گے، جو کسی روسی صدر کا پہلا دورۂ پاکستان ہو گا۔پاکستان اور روس ہمیشہ سے ہمسائے چلے آ رہے ہیں، لیکن پاکستان نے اپنے قیام کے ساتھ ہی تعلقات کی قربت کے باب میں اپنے لئے امریکہ کا انتخاب کیا، جو ہزاروں میل دور تھا۔ ان کالموں میں پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ کا جائزہ لینا مقصود نہیں، البتہ اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جب سے پاکستان امریکہ کے ’’سایۂ عاطفت‘‘ سے نکلا ہے، اس نے دفاع کے بہت سے سنگِ میل کامیابی سے عبور کئے ہیں۔ چین کے تعاون سے جے ایف17تھنڈر جیسے طیارے بنائے ہیں، جبکہ امریکہ پاکستان کو ایف16 طیاروں کی فروخت میں بھی روڑے اٹکاتا رہا اور ایک مرحلے پر پوری ادائیگی اور طیارے ہینگروں میں کھڑے کرنے کا کرایہ وصول کرنے کے باوجود طیارے دینے سے انکار کر دیا اور یہ مضحکہ خیز پیشکش کی کہ امریکی قانون کے تحت طیارے تو نہیں دئے جا سکے، البتہ ادا شدہ رقم کے بدلے پاکستان امریکہ سے گندم خرید سکتا ہے۔اس سادگی پر بھی قربان ہونا چاہئے۔ بہرحال اس وقت پاکستان تیزی کے ساتھ دفاعی میدان میں آگے بڑھ رہا ہے اور چین کے بعد اسے روس کا تعاون بھی حاصل ہو رہا ہے، اور وہ وقت دور نہیں،جب پاکستان اِس ضمن میں امریکی تعاون کا محتاج نہیں رہے گا۔

چین نے پاکستان میں46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لئے گزشتہ اپریل میں جو معاہدے کئے تھے اور جس کے ساتھ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ زیر تعمیر ہے وہ پاکستان اور خطے کے مُلکوں کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، اب روس نے لاہور کراچی پائپ لائن کی تعمیر کے جس معاہدے پر دستخط کئے ہیں اس کے تحت پائپ لائن کی تکمیل کے بعد نہ صرف گیس کی قلت دور کرنے میں مدد ملے گی، بلکہ پائپ لائن سے آنے والی گیس کو بجلی گھروں تک توسیع دے کر اس سے بجلی گھر بھی چلائے جا سکیں گے اور یوں توانائی کے بحران پرقابو پانے میں پاکستان کو بہت مدد ملے گی، جو اِس وقت معیشت اور معاشرت کو پوری طرح گھیرے میں لے چُکا ہے۔چین کے تعاون سے پاکستان نے دفاعی میدان میں قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کیں، پھر روس سے جدید ہیلی کاپٹروں کی خریداری کا معاہدہ ہُوا، اِسی طرح اقتصادی میدان میں چین نے پاکستان کے ساتھ تعاون میں پہل کی اور اب روس بڑی سرمایہ کاری کے ساتھ میدان میں آیا ہے، تو یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ عالمی سیاست میں مُلکوں کی دوستیاں اور دشمنیاں مستقل نہیں ہوتیں، قومیں اپنے مفادات ہمیشہ پیشِ نظر رکھتی ہیں۔ مفادات قربان کر کے مُلکوں کی دوستیوں کو تھوڑے عرصے کے لئے تو شاید گوارا کر لیا جائے، لیکن طویل المدت دوستیاں مفادات کی مرہون منت ہوتی ہیں، پھر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مفادات کی تشریح و تعبیر بھی بدل جاتی ہے۔ پاکستان کے ساتھ روس اس وقت جس قسم کا اقتصادی اور دفاعی تعاون خوش دِلی سے کر رہا ہے، کسی زمانے میں اس کا تصور بھی محال تھا، اگرچہ روس کے شہر تاشقندمیں1966ء میں پاک بھارت معاہدہ ہُوا تھا اور اس میں روسی قیادت کا کردار تھا۔ اُس وقت بھارت روس کی دوستی کا دم بھرتا تھا، لیکن اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارت روس سے دور اور امریکہ کے قریب ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ کی مہربانی سے یہ سول نیو کلیئر کلب میں بھی داخل ہو چکا ہے، جبکہ ہمیشہ سے امریکہ کا دوست کہلانے اور ’’نان نیٹو اتحادی‘‘ کا درجہ پانے والا پاکستان ابھی تک اِس مہربانی سے محروم ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کا دورۂ امریکہ20اکتوبر سے شروع ہو رہا ہے، امید ہے اِس دورے میں پاکستان کو سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی کی فراہمی کے ضمن میں امریکہ تمام رکاوٹیں دور کر کے پاکستان کے ساتھ تعاون کرے گا، اور اِس وقت جو خبریں آ رہی ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جائے گا اس سے باز رہے گا۔ پاکستان کا نیو کلیئر پروگرام اس وقت جو کچھ بھی ہے وہ اس کے اپنے وسائل اور اپنی صلاحیتوں کے باعث ہے۔ امریکہ سمیت ساری دُنیا نے اس میں قدم قدم پر رکاوٹیں ڈالیں، پھر بھی پاکستان کی پُرعزم قیادت نے یہ صلاحیت نہ صرف حاصل کی، بلکہ اب اسے دفاع کے میدان میں استعمال کر کے ناقابلِ تسخیر بھی بنا دیا ہے، اِس لئے امریکہ کو سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان سے تعاون بڑھانا چاہئے۔اِس پس منظر میں پاکستان میں روس کی تازہ سرمایہ کاری کا بھرپور خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔

مزید :

اداریہ -