منفی سیاست

منفی سیاست

  

اتوار11 اکتوبر کی شام جب مَیں ٹیلی ویژن پر اس دن ہونے والے قومی اسمبلی کے حلقوں این اے 122 اوراین اے 144میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج سن رہا تھا تو مجھے رہ رہ کر 1975 میں نیوزی لینڈ میں ہونے والے الیکشن کا نتیجہ یاد آ رہا تھا۔ وہ الیکشن تاریخ میں اس بیہودہ زبان کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے جو انتخابی مہم کے دوران لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے اس وقت کے وزیراعظم بل راؤلنگ نے اپوزیشن لیڈر رابرٹ ملڈون کے بارے میں استعمال کی تھی۔ نیوزی لینڈ کے عوام نے اس زبان کا جواب الیکشن میں دیا اور شائستگی سے مہم چلانے والے رابرٹ ملڈون کو منتخب کر لیا۔ پاکستان میں بھی معاملہ اس سے ملتا جلتا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ انتخابات میں غیر اخلاقی زبان کا استعمال اپوزیشن لیڈر کی طرف سے کیا گیا، جبکہ حکومتی امیدوار شائستگی سے اپنی مہم چلاتے رہےٍ، گویا سنجیدہ اور شائستہ مزاج سردار ایاز صادق کو منتخب کر کے عوام نے وہی نتیجہ دیا جو1975ء میں نیوزی لینڈ کے عوام نے دیا تھا ۔ مَیں اس طرح کی بہت سی اور مثالیں گنوا سکتا ہوں ،جب کسی ملک کے الیکشن میں عوام نے غیر اخلاقی زبان استعمال کرنے والے لیڈر کو چاروں شانے چت کیا ۔عمران خان کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ انہیں یہ کسی نے نہیں سمجھایا کہ منفی سیاست کرکے وہ خود اپنا نقصان کر رہے ہیں۔

منفی سیاست کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ عوام ایسے سیاست دانوں سے تنگ آ جاتے ہیں، کیونکہ اس میں ہر وقت اپنے مخالفین کی سیاسی کردار کشی کرنا پڑتی ہے جس کے لئے طرح طرح کی الزام تراشیوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ ان میں درست الزامات کم ،غلط الزامات اور بہتان تراشی زیادہ ہوتی ہے۔ سیاسیات کے طالب علم اور مختلف ملکوں کی سیاست اور انتخابات پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگار جانتے ہیں کہ منفی سیاست کرنے والے اپنی انتخابی مہم بھی منفی انداز میں چلاتے ہیں، جسے عام طور پر عوام میں پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا اور منفی انتخابی مہم الیکشن کے دن بیک فائر کر جاتی ہے، کیونکہ منفی مہم ان سیاست دانوں کے اپنے ووٹروں کو بھی الیکشن کے عمل سے متنفر کر دیتی ہے اور وہ پولنگ سٹیشنوں کا رخ کرنے کی بجائے اپنے گھروں میں بیٹھے کڑھتے رہتے ہیں۔ ووٹروں کا ایک خاص مزاج ہوتا ہے اور تجربہ کار سیاست دان جانتے ہیں کہ اپنے ووٹروں کو موٹیویٹ کرنا ہوتا ہے ، ڈی موٹیویٹ نہیں۔

پاکستان میں عوام کی ایک بڑی تعداد 2013ء کے انتخابات کے بعد سے عمران خان کی طرف سے چلائی جانے والی منفی مہم کی وجہ سے آہستہ آہستہ ان کی پارٹی سے دور ہوتی جا رہی ہے،خاص طور پر گذشتہ سال ہونے والے دھرنے کے بعد کا سیاسی جائزہ لیا جائے تو نظر آتا ہے کہ ناکام دھرنے کے بعد سے عمران خان کی سیاست ایک قدم آگے بڑھتی ہے تو دو قدم پیچھے پھسل جاتی ہے۔ دھرنا شروع ہونے سے پہلے عمران خان کا سیاسی گراف آج کے مقابلے میں قدرے بہتر تھا، لیکن 126 دن کے دھرنے نے ان کی پارٹی کی کریڈبلٹی کو شدید طور پر مجروح کیا، یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ہونے والے تقریباً تمام انتخابات میں تحریک انصاف کو شکست ہوئی ہے۔ ان انتخابات میں تین صوبوں کے ضمنی انتخابات، گلگت بلتستان کے عام انتخابات اور پورے ملک میں ہونے والے کنٹونمنٹ بورڈز کے الیکشن سب ہی شامل ہیں۔ پچھلے ایک سال میں متواتر ہارنے کے بعد اس میں حالیہ اضافہ لاہور کی این اے 122اور اوکاڑہ کی این اے 144 کی قومی اسمبلی کی نشستیں ہیں ، اوکاڑہ میں تو تحریک انصاف کے امیدوار اشرف سوہنا کی ضمانت ہی ضبط ہو گئی۔

تحریک انصاف کی سیاسی تاریخ میں کوئی ایسی کامیابی نہیں ہے کہ اس کا ذکر 1996ء سے کیا جائے جب سے یہ عملی سیاست میں موجود ہے۔ تحریک انصاف کے وجود میں آنے کے 17سال بعد تک اس پارٹی کی قومی اسمبلی میں صرف ایک سیٹ تھی ،جو 2002ء والے الیکشن میں جیتی جو اس کے لیڈر عمران خان کی اپنی سیٹ تھی اس کے بارے میں بھی اس وقت کہا جاتا تھا کہ یہ جنرل پرویز مشرف کی مہربانی سے ملی تھی۔ 1997ء کے الیکشن میں صفر بٹا صفر ،جبکہ 2008ء کے الیکشن میں بائیکاٹ۔ یہ 17 سال تک عمران خان کی کل سیاسی متاعِ حیات تھی۔ اکتوبر2011ء میں لاہور میں ہونے والے ایک جلسہ عام کی کامیابی سے ان کی سیاسی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوا جس میں تحریک انصاف عوامی مقبولیت حاصل کرنے لگی۔ مئی 2013ء کے انتخابات میں عمران خان نے بھرپور انتخابی مہم چلائی، لیکن اپنی توقع سے بہت کم نشستیں حاصل کر پائے، البتہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ یہ وہ موقع تھا ،جب عمران خان اپنے صوبہ میں گڈ گورننس کی نئی مثال قائم کرکے اور خیبر پختونخوا کو ایک ترقی یافتہ صوبہ بنا کر ثابت کر سکتے تھے کہ اگر انہیں پاکستان کی حکومت مل جائے تو وہ اسے ترقی یافتہ اور خوش حال ملک بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

بدقسمتی سے ان کی ٹرین غلط پٹڑی پر چڑھ کر فراٹے بھرنے لگی اور وہ ڈاکٹر طاہر القادری اور شیخ رشید جیسے لوگوں کے چنگل میں پھنس کر دھرنے کی راہ پر چل پڑے۔ یہ دونوں وہ لوگ تھے ،جن کی اپنی سیاسی حیثیت صفر تھی ،لیکن انہوں نے عمران خان کے غیر سیاسی ذہن کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور ملک میں انارکی پیدا کر دی۔ اس کے بعد عمران خان کی عوامی مقبولیت میں کمی آنا شروع ہوگئی، جس کا اظہار ہر اس الیکشن میں ہوا جو دھرنے کے بعد منعقد ہوا۔جہاں تک این اے 144کا تعلق ہے، یہ سیٹ تحریک انصاف کی تھی ہی نہیں، لیکن ایک ایسے امیدوار کی ضمانت ضبط ہونا جو اسی حلقے سے ایک سے زائد بار صوبائی اسمبلی کا ممبر رہ چکا ہو ، اس بات کا ثبوت ہے کہ دھرنے، الزامات، بیکار چیخ و پکار اور طوفانِ بدتمیزی کی سیاست کو عوام میں پذیرائی نہیں مل سکی۔ دوسری طرف این اے 122کا نتیجہ اگرچہ بہت سخت رہا اور تحریک انصاف صرف ڈھائی ہزار ووٹوں سے یہ سیٹ ہاری ،جبکہ اس کے نیچے کی صوبائی سیٹ جیتنے میں کامیاب بھی رہی ،لیکن اس کے ساتھ ہی عمران خان کے اس موقف کی نفی ہو گئی کہ 2013ء کے الیکشن میں سردار ایاز صادق کو 56 ہزار جعلی ووٹ پڑے تھے۔ سردار ایاز صادق ایک دھیمے مزاج کے شخص ہیں ،انہوں نے اپنی انتخابی مہم شائستگی اور متانت سے چلائی تھی۔ ان کی اس حلقے پر گرفت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عوام نے انہیں چوتھی بار ایم این اے منتخب کیا ہے۔ ویسے بھی یہ ان کی خاندانی سیٹ ہے ۔ایوب خان کے زمانے میں ہونے والے انتخابات میں ان کے دادا شیخ سردار محمد اسی علاقے سے ممبر اسمبلی منتخب ہوتے رہے تھے۔

سردار ایاز صادق صرف ایک مرتبہ یہاں سے 1997ء کا الیکشن ہارے ،جب وہ تحریک انصاف کی ٹکٹ پر امیدوار تھے۔ ان کے مد مقابل علیم خان اگرچہ خوش گفتار اور سنجیدہ شخص ہیں،لیکن ان کے جلسوں میں عمران خان کی طرف سے استعمال کی گئی زبان نے بہر حال لوگوں میں ناگواری پیدا کی جس کا جواب مسلم لیگ (ن) کے سپورٹروں نے ووٹ دے کر اور تحریک انصاف کے بہت سے سپورٹروں نے گھر بیٹھ کردیا۔ تحریک انصاف کی لیڈرشپ کو سوچنا چاہئے کہ اگر ایسی منفی زبان استعمال کر کے اوکاڑہ میں ضمانت ہی ضبط کرانی ہے تو کیوں نہ اپنی اس روش کو ترک کر کے شائستگی اور متانت کا دامن پکڑا جائے۔اس وقت چودھری سرور تحریک انصاف میں اہم شخص ہیں، وہ تین بار برطانوی پارلیمنٹ کے ممبر منتخب ہوئے اور صاف ستھری پارلیمانی سیاست کا طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ عمران خان کو گائیڈ کر سکتے ہیں کہ منفی سیاست نے 1990ء کی دہائی میں پاکستان کو سیاسی طور پر بہت نقصان پہنچایا تھا اور اس کا انجام مارشل لاء کی شکل میں سامنے آیا تھا۔ اب بھی وقت ہے، عمران خان منفی ٹریک سے ہٹ کر مثبت ٹریک پر آ جائیں تو اس سے ان کی پارٹی کا بھی بھلا ہو گا اور ملک بھی ترقی کرے گا۔ کوئی لیڈر کتنا ہی پُرجوش کیوں نہ ہو، آخری فیصلہ بہر حال عوام کا ہی ہوتا ہے۔

مزید :

کالم -