حکومت کا لا باغ ڈیم کے معاملے پر کوئی دباؤ قبول نہ کرے ،لاہور چیمبر

حکومت کا لا باغ ڈیم کے معاملے پر کوئی دباؤ قبول نہ کرے ،لاہور چیمبر

لاہور(کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ کالاباغ ڈیم کے معاملے پر کوئی دباؤ قبول نہ کرے، کالاباغ ڈیم کی مخالفت کرنے والے دراصل پاکستان کے دشمنوں کی ترجمانی کررہے ہیں۔لاہور چیمبر کے صدر شیخ محمد ارشد، سینئر نائب صدر الماس حیدر اور نائب صدر ناصر سعید نے کہا کہ ایک زرعی ملک ہونے کی حیثیت سے ہم وسیع پیمانے پر پانی کے ضیاع کے متحمل نہیں ہوسکتے جبکہ پانی کے ذخائر پہلے ہی تیزی سے کم ہورہے ہیں، پانی کی قلت سے صرف زرعی شعبہ ہی نہیں بلکہ مینوفیکچرنگ سیکٹر بھی بْری طرح متاثر ہورہا ہے کیونکہ پانی بجلی کے حصول کا ایک بہت اہم ذریعہ ہے۔ شیخ محمد ارشد نے کہا کہ پاکستانی معیشت کا دارومدار زرعی شعبے پر ہے جو پانی کے بغیر بقاء کی جنگ نہیں لڑ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کی مخالفت کرنے والے دراصل پاکستانی قوم کے مفادات کی مخالفت کررہے ہیں،کالاباغ ڈیم نہ بننے دینا آئندہ نسلوں کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ سیاسی جماعتوں کو کالاباغ ڈیم کی اہمیت کا ادراک ہوا ہے مگر ضروری ہے کہ وہ اس کی تعمیر کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کی مدد سے صوبہ سرحد کی آٹھ لاکھ ایکڑ زمین کو زیرِکاشت لایا جاسکے گا جو دریائے سندھ کی سطح سے سو ڈیڑھ سو فٹ بلند ہے، یہ زمین اُسی صرف میں زیر کاشت لائی جاسکتی ہے جب دریا کی سطح بلند ہو اور یہ کالاباغ ڈیم کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر الماس حیدر اور نائب صدر ناصر سعید نے کہا کہ ڈیٹا کے مطابق گذشتہ پچھتر سالوں کے دوران دریائے سندھ میں اوسط پانی 146ملین ایکڑ رہا ہے جبکہ سالانہ اوسطاً 30ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے حالانکہ یہ پانی ذخیرہ کرکے آبپاشی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم اپنے آبی وسائل سے خود فائدہ نہیں اٹھائیں گے تب تک ہم دوسروں سے اپنا حق نہیں مانگ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم پر تمام شکوک و شبہات کا خاتمہ ریفرنڈم کے ذریعے کیا جاسکتا ہے ۔ لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ جب تک ہم اپنے آبی وسائل سے خود فائدہ نہیں اٹھائیں گے تب تک ہم دوسروں سے اپنا حق نہیں مانگ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران خیبرپختونخوا اور سندھ میں سیلاب نے جو تباہی مچائی ہے اْس سے اْن لوگوں کو سبق سیکھ لینا چاہیے جو کالاباغ ڈیم کی مخالفت کررہے ہیں۔

مزید : کامرس