چاول کا شعبہ شدیدبحران سے دوچار ،فوری بیل آؤٹ کیا جائے

چاول کا شعبہ شدیدبحران سے دوچار ،فوری بیل آؤٹ کیا جائے

  

اسلام آباد (کامرس ڈیسک)چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ سالانہ دو ارب ڈالر سے زیادہ کا زرمبادلہ کمانے والے چاول کا شعبہ گزشتہ سال کی طرح امسال بھی شعبہ شدید بحران سے دوچار ہو گیاہے جس نے اس سے وابستہ افراد مسائل میں اضافہ کیا ہے اسلئے انھیں فوری ریلیف دیا جائے۔چاول کی نئی فصل آ گئی ہے جبکہ گزشتہ فصل کا پانچ لاکھ ٹن چاول ابھی تک گوداموں میں پڑا سڑ رہا ہے جس سے مارکیٹ کا توازن بگڑ گیا ہے اور اس سیکٹرکے تمام شراکت دار بشمول کاشتکار، رائس ملزمالکان اور برامدکنندگان مسائل میں پھنس گئے ہیں۔عاطف اکرام شیخ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ سینکڑوں ملیں بند ہو گئی ہیں جبکہ بہت سی اپنی بقاء کی جنگ میں کاشتکاروں کو ادائیگی کرنے اور قرضے واپس کرنے کے قابل نہیں رہیں۔ حکومت نے رائس ملز مالکان کو دیوالیہ ہونے کے بچانے کیلئے واجب الادا قرضوں کی معیاد بڑھا کر جون 2016 کر دی ہے مگر اسکے باوجود بینک ان سے ساڑھے تیس ارب کے قرضوں کی فوری وصولی کیلئے حکومت کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلسل ہراساں کر رہے ہیں جسکا نوٹس لیا جائے۔ چاول کی عالمی منڈی قیمتیں گر رہی ہیں جبکہ بھارت کے قدم جم رہے ہیں جس سے دنیا کے چوتھے بڑے برامد کنندہ ملک پاکستان کی برامدات کم ہو گئی ہیں جس نے قیمتوں پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں اور کاشتکار موجودہ فصل گزشتہ سال کے مقابلہ میں کم قیمت پر بیچنے پر مجبور ہیں جس سے کاشتکاروں کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔

سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ پنجاب ہے جہاں کسانوں کو فی ایکڑ پیداوار پر پچاس ہزار تک کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے جس کا حل سبسڈی میں اضافہ میں اضافہ یا چاول کی امدادی قیمت کا تعین ہے تاکہ کسانوں کے مفادات کو تحفظ کیا جا سکے۔چاول کے شعبہ کی ترقی کیلئے حکومت کے موجودہ اقدامات خوش آئند مگر ناکافی ہیں۔ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی اچھی فصل اور خریداروں کی کمی کے سبب مقامی منڈی میں چاول کی قیمت پچیس روپے فی کلو تک گر گئی ہے مگر گرشتہ سال کی طرح اس سال بھی اسکا فائدہ عوام تک منتقل نہیں کیا گیا۔

مزید :

کامرس -