آئندہ سال سے پاکستان میں’’کاٹن ائیر‘‘تبدیل ہونے کاامکان

آئندہ سال سے پاکستان میں’’کاٹن ائیر‘‘تبدیل ہونے کاامکان

  

کراچی(اکنامک رپورٹر) غیرمعمولی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کے بیشترکاٹن زونزمیں رواں سال کپاس کی فی ایکٹرپیداوارمیں ہونے والی ریکارڈکمی کے باعث آئندہ سال سے پاکستان میں’’کاٹن ائیر‘‘تبدیل ہونے کاامکان۔فروری کے دوران پچھلے تین سال سے درجہ حرارت میں ہونے والے کمی کے مسلسل رجحان کے باعث سندھ اورپنجاب کے بیشترکاٹن زونزمیں آئندہ سال سے کپاس کی کاشت فروری/مارچ کی بجائے مارچ/ اپریل میں شروع ہونے کاامکان۔بہتردرجہ حرارت کے باعث کپاس کااگاؤبہترہونے سے فی ایکٹرپیداوارمیں بہتری کاامکان۔چئیرمین کاٹن جنرزفورم احسان الحق نے بتایا کہ پچھلے چندسالوں سے پاکستان میں رونماء ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث فروری میں درجہ حرارت کم ہونے سے کپاس کااگاؤکم ہونے جبکہ اگست ستمبرمیں درجہ زیادہ سے زیادہ ہونے سے کپاس کی فصل پرسفیدمکھی اوروائرس کے زیادہ حملے سے کپاس کی فی ایکٹرپیداوارمیں مسلسل کمی کارجحان سامنے آرہاہے تاہم توقع ظاہرکی جارہی ہے کہ فروری کی بجائے مارچ میں کپاس کی کاشت شروع ہونے سے اس پرمنفی موسمی اثرات کم ہونے سے کپاس کی مجموعی ملکی پیداوارمیں بھی خاطرخواہ اضافے کارجحان سامنے آئے گا۔انہوں نے مزیدبتایاکہ روئی اورپھٹی کی قیمتوں میں بھی مسلسل تیزی کے رجحان کے باعث گزشتہ دوروزکے دوران روئی کی قیمتیں 100روپے فی من اضافے کے ساتھ جاری سیزن کی نئی بلندترین سطح 5ہزار600روپے فی من تک پہنچ گئی ہیں جبکہ آئل کیک اورکاٹن سیڈکی قیمتیں 50روپے فی من اضافے کے ساتھ 1ہزار600روپے فی من تک پہنچ گئی ہیں جواکتوبرکے مہینے کے میں ملکی تاریخ میں آئل کیک اورکاٹن سیڈکی زیادہ سے زیادہ قیمتیں ہیں۔

مزید :

کامرس -