ڈھونگ انتخابات کشمیر یوں کے حق خود ارادیت کا ہرگز نعم البدل نہیں، سید علی گیلانی

ڈھونگ انتخابات کشمیر یوں کے حق خود ارادیت کا ہرگز نعم البدل نہیں، سید علی ...

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں بزرگ حریت رہنماسید علی گیلانی نے اقوامِ متحدہ میں پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی کے کشمیر سے متعلق موقف کو تاریخی اور زمینی حقائق کے عین مطابق قرار دیا ہے۔ انہوں نے پاکستانی سفیر کے جواب میں بھارت کے فرسٹ سیکریٹری ابھیشیک سنگھ کے اس بیان کو قطعی طور پر غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کشمیریوں نے مقبوضہ علاقے کے نام نہاد انتخابات میں حصہ لیکر بھارت کے ساتھ رہنے کے فیصلے کی توثیق کی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ سات لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں کی موجود میں رچائے جانے والے نام نہاد انتخابات حق خود ارادیت کا ہرگز نعم البدل نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہا ہے بلکہ اس نے 1947میں کشمیریوں کی مرضی کے خلاف اس پر قبضہ جما لیا اور وہ اپنے اس غیر قانونی اور جابرانہ قبضے کو برقراررکھنے کے لیے کشمیریوں کی مبنی برحق جد وجہد کو طاقت کے بل پر دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ کشمیریوں نے بھارت کے جبری قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور وہ اسکے خلاف بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حوالے سے متعدد قراردادیں پاس کی ہیں جن پر بھارت نے عمل درآمد کا وعدہ کیا تھا جو اس نے تاحال پورا نہیں کیا۔سید علی گیلانی نے بھارتی مندوب کی طرف سے اقوامِ متحدہ میں پیش کیے جانے والے موقف کو استعماری ذہنیت سے تعبیر کیا اور کہا کہ بھارت نے دلیل کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے اٹوٹ انگ کا غیر حقیقت پسندانہ راگ الاپا ۔ انہوں نے کہا کہ خود اقوامِ متحدہ نے جموں وکشمیر میں کرائے جانے والے انتخابات کو محض ایک انتظامی مسئلہ قرار دیتے ہوئے واضح کررکھا ہے کہ ان انتخابات سے علاقے کی منتازعہ حیثیت ہرگز متاثر نہیں ہو سکتی۔بزرگ رہنما نے کہا کہ بھارت دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے مگر وہ مقبوضہ علاقے میں بڑے پیمانے پرجنگی جرائم کر رہا ہے اور اس نے محض طاقت کے بل پر کشمیریوں کے حقوق دبا رکھے ہیں۔

مزید : عالمی منظر