ہنگری نے پناہ گزینوں کو روکنے کیلئے ایک اور سرحد بند کر دی

ہنگری نے پناہ گزینوں کو روکنے کیلئے ایک اور سرحد بند کر دی

  

بڈاپسٹ (آن لائن) ہنگری نے پناہ گزینوں کی آمد و رفت کو روکنے کے لیے کرویشیا سے متصل اپنی سرحد کو بند کر دیا ہے جس کے بعد کرویشیا نے پناہ گزینوں کو ہنگری کے بجائے سلوینیا کے طرف بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔یوروپ میں پناہ چاہنے والوں کے لیے ہنگری ایک اہم پڑاؤ رہا ہے جہاں سے بیشتر پناہ گزیں آسٹریا اور جرمنی کی طرف جاتے رہے ہیں۔ہنگری نے جمعہ کو سرحد بند کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب یوروپی رہنما ہنگری کے حمایت یافتہ ایک منصوبے پر اتفاق کرنے میں ناکام رہے۔ اس منصوبے میں یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ روم میں پہنچنے والے پناہ گزینوں کو روکنے کے لیے فورسز کو بھیجنا چاہیے۔ہنگری نے جمعہ کی نصف شب کو خار دار تاروں سے اپنی سرحد بند کروا دی۔ سرحد بند کیے جانے سے پہلے ان سینکڑوں پناہ گزینوں کو آخری بار اس راستے گزرنے کی اجازت دی گئی جو مقررہ وقت سے چند منٹ پہلے ہی ذکانی نامی گاؤں کے پاس سے پہنچے تھے۔ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر زیجاتو نے سرحد بند کرنے کے اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا : ’ہمیں معلوم ہے کہ یہ بہترین حل نہیں ہے لیکن بہتر تو ہے۔‘ سرحد بند کیے جانے سے پہلے ان سینکڑوں پناہ گزینوں کو آخری بار اس راستے گزرنے کی اجازت دی گئی جو مقررہ وقت سے چند منٹ پہلے ہی ذکانی نامی گاؤں کے پاس سے پہنچے تھے ان کا کہنا تھا کہ نقل مکانی کرنے والے افراد اب بھی سرحد سے داخلے کے مخصوص دو مقامات پر پناہ لینے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ ہنگری اس سے پہلے سربیا سے متصل اپنی سرحد کو پہلے ہی بند کر چکا ہے۔اب سلوینیا میں اس بات کے خدشات پائے جاتے ہیں کہ کرویشیا اور ہنگری کی سرحد بند ہو جانے سے بیشتر پناہ گزیں سلوینیا کی طرف ہی آئیں گے۔کرویشیا کے وزیر داخلہ رانکو اسٹوجک نے کہا کہ اب کرویشیا پناہ گزینوں کے لیے’راستہ بدل کر اسے سلوینیا کی طرف کر رہا ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں سلوینیا سے کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا اور یہ ’خالص کرویشیئن منصوبہ ہے۔‘اس سے قبل ترکی کے حکام نے زور دے کر کہا تھا کہ تارکین وطن کے بحران پر یورپی یونین نے جس مشترکہ منصوبہ بندی پر اتفاق کیا ہے، اس کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔ایک دن پہلے بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں ہوئی میٹنگ میں یورپی یونین کے رہنماؤں نے کہا تھا کہ ترکی کے ساتھ ابتدائی معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے ۔

جس سے تارکین وطن کے مسئلے سے نمٹنے میں مدد ملنے کی امید ہے۔اس کے جواب میں سلوینیا کے محکمہ ریل نے کرویشیا سے آنے والی تمام مسافر ریل گاڑیوں کو روکنے کا اعلان کیا ہے۔سلوینیا کی وزیر داخلہ ویزنا جورکوس زدار نے کہا ہے کہ کرشیاء سے لگنے والی سرحد پر مزید پولیس کو تعینات کیا گیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب تک پڑوسی ملک آسٹریا اور جرمنی نے اپنی سرحدیں کھول رکھی ہیں اس وقت تک وہ پناہ گزینوں کو آنے کی اجازت دیتے رہیں گے۔

مزید :

عالمی منظر -