ٹیچر کے حوالے سے ایک نجی سکول استاد کی روداد

ٹیچر کے حوالے سے ایک نجی سکول استاد کی روداد

والدین کہا کرتے تھے بیٹاپڑھو تاکہ بڑے آدمی بن جاؤ۔ بڑا آدمی بننے کی تمنا توہر دل میں ہوتی ہے لہٰذا ہم بھی بڑا آدمی بننے کے لیے پڑھنے لگے۔

ایم اے ایجوکیشن میں پروفیسر ڈاکٹر اکبر علی نے بتایا

’’پڑھانے لگو تو یہ سمجھو کہ تمہارے سامنے گوبھی کے پھول ہیں‘‘

ہم بھولے پروفیسر صاحب کی باتوں میں آکر گوبھی کے پھولوں کو پڑھانے لگے تو سیکھا کہ گوبھی کے پھول تو بولتے بھی ہیں‘ لڑتے بھی ہیں فری پیریڈ بھی مانگتے ہیں اور پیاسے تو ہر وقت رہتے ہیں۔

خیر پڑھا کر نکلے تو آواز آئی

خالد صاحب اس پرsignکریں

اس پر بھی‘ ارے چلے کدھر! اس پر بھی

تو ہم نے سیکھا

ابھی رزق کے امتحان اور بھی ہیں

ابھی سبسی ٹیوشنیں اور ڈیوٹیاں اور بھی ہیں

125 کاپیوں میں سے25 چیک کر پائے باقی گھر ساتھ لائے اور اپنا فیورٹ ڈرامہ ’’میراسلطان‘‘ ان پر قربان کیا اور دل کہہ اُٹھا

آپھنسا ہوں میں کہاں

کاپیوں کے درمیاں

کچھ یہاں کچھ وہاں

الحفیظ و الاماں

ٹیچر ٹرینگ کورس کے دوران ٹرینر نے بتایا یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ کہیں silent بچے silent نہ ہوں، آپ facilitater ہیں آپ Mentor ہیں آپ guide ہیں لہذا ہم نے بڑے شوق سے planner بنایا لیکن ٹرینر کی طرح slenc less میں Silentنہ کہہ پائے نتیجتاً جب بہت باریک نکتہ سمجھا رہے تھے اور دل میں خوش ہو رہے تھے کہ واہ ! کیا سمجھا رہا ہوں کتنا آسان کام ہے کہ آواز آئی

’’سر ذرا رپیٹ کر دیں‘‘

’’سر اس کا مطلب کیا ہے‘‘

’’سر ذرا املا تو بورڈ پر لکھ دیں‘‘

ابھی جواب دینا ہی چاہتے تھے کہ دفتر سے بلاوا آیا کہ کلاس چھوڑ کر فوراً بات سنیں دل فوراً کہہ اٹھا

یہ ٹیچنگ نہی آساں بس اتنا سمجھ لیجئے اک طوفان بدتمیزی ہے اور کود کے جانا ہے میں نے سیکھا کہ لوگ جو کہتے ہیں اس سے مراد الٹ ہی ہوتا ہے

لوگ معلم کو روحانی والد کہتے ہیں پر کوئی اِسے رشتہ نہیں دیتا۔

معلمی کو انبیا کا پیشہ کہتے ہیں لیکن ٹیچر کو مال رود پر مرغا بناتے ہیں

معلم کو قابل عزت کہتے ہیں

سمجھتے نہیں

میں نے سیکھا کہ نجی اداروں کی ٹیچنگ ایک شکل پیج پر بیسٹنگ کی طرح ہے جو طلبہ کی شارٹ پیج گیندیں اور پیشہ ورانہ رقابت کے باونسر سہہ گیا

وہ کامیاب ٹیچر ورنہ۔۔۔ ڈیڈ لائن

تلے ’رن آوٹ‘ یہاں رن سے وہی مراد ہے جو آپ سمجھتے ہیں۔

رہی بات پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بننے کی تو پڑھاتے جب میری طرح سفید جھلکنے لگے تو انسان بڑی عمر کا آدمی تو بن ہی جاتا ہے اکبرالہ آبادی نے اسی لیے استاد کو مہذب کہا ہے

ہوئے اس قدر مہذب کبھی گھر کا منہ نہ دیکھا

کٹی عمر ٹویشنوں میں مرے اسپتال جا کر

اب میں سیکھ گیا ہوں اور کہتا ہوں

آپھنسا ہوں میں کہاں

کاکیوں کے درمیان

کچھ یہاں

کچھ وہاں

الحفیظ و الاماں

اب آپ سب بچے نہیں کے کاکیوں نہ پہچانیں۔

مزید : کالم