2007میں پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر پر حتمی معاہدے پر اراضی ہو گئے تھے ، لامبا

2007میں پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر پر حتمی معاہدے پر اراضی ہو گئے تھے ، ...

نئی دہلی(اے این این) بھارت کے سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ کے خصوصی ایلچی ستندر کمارلامبا نے دعوی کیا ہے کہ 2007میں پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر پر ایک حتمی معاہدے پر راضی ہو گئے تھے،پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق نکالنے کے موقف سے دستبردار اور اس بات پر تیار ہوگیا تھا کہ اب سرحدوں کی دوبارہ حد بندی نہیں ہوگی ،معاہدے پر صرف دستخط ہونا تھا اس دوران پاکستان کی داخلی سیاست میں ہل چل مچی اور پرویز مشرف فارغ ہو گئے۔بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ستندر لامبا نے انکشاف کیا کہ کشمیر پردونوں اطر ا ف کی قیادت نے ایک معاہدے پر اصولی اتفاق کرلیا تھا۔ اس معاہدے کا حتمی مرحلہ صرف دستخط کا رہ گیا تھا کہ اسی دوران پاکستان کی داخلی سیاست میں ہلچل مچی اور پرویز مشرف فارغ ہوگئے۔معاہد ے میں طے پاگیا تھا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد یا کشمیر میں رائے شماری کا کوئی حوالہ نہیں ہو گا۔ دونوں ممالک کے درمیان فریم ورک سمجھوتے کی تفصیلات میں جا ئے بغیر لامبا نے انکشاف کیا کہ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور آئی ایس آئی کو بھی اس معاہدے پر اعتماد میں لیا گیاتھا تاہم بھارت کی حکمراں پارٹی کے اندر اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کے ساتھ اس معاہدے پربات چیت کی ضرورت تھی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے (صدر مشرف کے ماتحت) اس وقت کی فوجی حکومت سے یقین دہانی حاصل کی تھی اگر اسٹیبلشمنٹ کا اتفاق نہ ہوتا تو پاکستان کی طرف سے مذا کر ا ت کار کبھی اس کو حتمی شکل نہیں دے سکتے تھے۔لامبا نے کہا کہ ہم نے فوج میں کمی پر اتفاق کیا تھا ، پیرا ملٹری پر نہیں اور یہ پاکستان سے مشروط تھا کہ دشمنی، تشدد اور دہشت گردی کے خاتمے کو یقینی بنائے ، یہ ایک اہم شرط تھی۔انھوں نے کہا کہ معاہدے پر دستخط کرنے کی کوئی ٹائم لائن نہیں تھی اگر کوئی ٹائم لائن تھی تو وہ دہشت گردی خاتمہ تھا۔ 2008میں ممبئی حملوں کی وجہ سے مذاکرات رک گئے یہ افسو ناک واقعہ تھا اور بات چیت بند کر دی گئی ممبئی حملوں کے بعد بیک ڈور رابطے محدود تھے۔

مزید : علاقائی