بچوں کی پرورش کروں یا تاریخیں بھگتوں ، 5سال سے انصاف کی منتظر ہوں ، زریں فیصل

بچوں کی پرورش کروں یا تاریخیں بھگتوں ، 5سال سے انصاف کی منتظر ہوں ، زریں فیصل

 لاہور(کامران مغل)بچوں کی پرورش کروں یا عدالتوں میں تاریخیں بھگتوں ،گزشتہ 5سال سے ا نصاف کی منتظر ہوں کہ اپنے دامن پر لگا داغ دھو سکوں ،لیکن اب تک دربدر کی ٹھوکریں ہی میرامقدرٹھہری ہیں ،انصاف کب ملے گا ؟اس کی آس بھی ختم ہوچکی ہے ، کاروبار میں منافع کا لالچ دے کر خاتون سے 35لاکھ روپے کا فراڈ تو اس کے شوہر نے کیا جو خود تورفوچکر ہوگیا لیکن عدالتوں میں دھکے کھانے کے لئے اسے چھوڑ گیا ہے تاہم اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی خاطروہ آج تک عدالتوں میں خوار ہورہی ہے۔پاکستان کی جانب سے "ایک دن ایک عدالت "کے کئے جانے والے عدالتی سروے کے دوران ایک خاتون زریں فیصل نے اپنی دا ستان سناتے ہوئے بتایا کہ اس کے شوہر فیصل مرتضی نے ایک خاتون نعیمہ ظہرالدین جسے وہ جانتی تک نہیں ،ا سے کاروبار میں منافع کا لالچ دے کر اس سے 35لاکھ روپے لئے ،پھر معلوم ہوا کہ اس رقم کے عوض اس نے کچھ عرصہ مذکورہ خاتون کو 3فیصد مارک اپ کے ساتھ کچھ رقم بھی ادا کی لیکن بعد میں اس کے شوہر نے ٹال مٹول سے کال لینا شروع کردیا جس پرخاتون نعیمہ ظہر الدین کی جانب سے رقم کی واپسی کا مطالبہ کرنے پراس کے شوہر فیصل مرتضی نے مختلف رقوم کے اسے4 عددچیک دیئے جس میں 15جون 2006کو پہلا چیک 5لاکھ روپے کا دیااور 10،10لاکھ کے 3چیک 2007میں دیئے جس میں پہلاچیک 15جنوری دوسرایکم فروری اورتیسر ا 15فروری کو دیاگیا ،بعدازاں اس کے شوہر نے اسے 8جون 2008کو مذکورہ رقم میں سے 10لاکھ روپے ادا کردیئے جس کے بعدسے اس کا شوہر فیصل مرتضی غائب ہے اور اسی وجہ سے اب شوہر کی جعل سازی کے باعث اس کی زندگی عذاب بن چکی ہے ۔زریں فیصل نے الزام عائد کیا ہے کہ خاتون نعیمہ ظہیر الدین نے اس کے شوہر سے رقم کی وصولی نہ ہونے پرمبینہ طور پر 30اپریل 2008کو جعل سازی سے ایک معاہدہ کی کاپی بنوائی جس میں لکھا گیا ہے کہ زریں فیصل اور اس کے سسر جاوید مرتضی نے بطور ضامن ایگریمنٹ میں لکھا ہے کہ مذکورہ رقم اگر فیصل مرتضی ادانہیں کرے گا تو وہ اسے ادا کرنے کے ذمہ دارہوں گے ۔اس حوالے سے زریں فیصل کے وکیل مرزا حسیب اسامہ اورمدثر چودھری نے بتایا کہ یہ دعوی گزشتہ 7سال سے مختلف عدالتوں میں زیرسماعت رہا ہے جبکہ اس وقت یہ ایڈیشنل سیشن جج ندیم انجم کی عدالت میں زیرسماعت ہے ۔وکیل کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے مذکورہ معاہدہ کی کاپی جس میں نعیمہ ظہیر الدین کی جانب سے اس کی موکلہ زریں فیصل کو بطور ضامن پیش کیا گیا ہے ،اس کا فرانزک ٹیسٹ کروانے کے لئے بھی عدالت سے استدعا کررکھی ہے لیکن گزشتہ 5ماہ سے ابھی تک اس درخواست پر فرانزک ٹیسٹ کے حوالے سے فیصلہ نہیں ہوسکا ہے کیوں مقدمہ مدعی کے وکلاء کی جانب سے ہر بار کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر کیس کو التواء میں ڈال دیا جاتا ہے ۔اس کیس کی مزید سماعت 27اکتوبر 2015کو ہوگی ۔

مزید : علاقائی