وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس، لیگی رہنماؤں کے اختلافات چھائے رہے

وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس، لیگی رہنماؤں کے اختلافات چھائے رہے

  

لاہور( جاوید اقبال) جاتی امراء (رائے ونڈ) میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پارٹی کے اندر موجود اختلافات اور گروپ بندیاں ختم کرانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اجلاس کی اندرونی کہانی کے مطابق اس ضمن میں فیصل آباد کے اندر بلدیاتی انتخابات کے لئے ٹکٹوں کی تقسیم پر دو بڑے رہنماؤں چودھری شیر علی اور رانا ثناء اللہ کے درمیان اختلافات کو ختم کرانے کے لئے ثالثی وزیر اعظم نے اپنی صاحبزادی مریم نواز کو سونپ دی۔ جبکہ وفاق کی سطح پر وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خاں اور وزیر دفاع خواجہ آصف میں اختلافات ختم کرانے کی ذمہ داری وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو سونپی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چودھری شیر علی کی طرف سے کی گئی پریس کانفرنس کو وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے خلاف بغاوت قرار دیا اور موقف اختیار کیا کہ اگر چودھری شیر علی اور دیگر لوگوں کو جو ذاتی مفادات کو پارٹی پر فوقیت دیتے ہیں بار بار منایا گیا تو اس سے دیگر اضلاع میں بھی ایسے لوگ ہیں جن کے مفادات کو ٹھیس پہنچے گی، وہ سر اٹھائیں گے ،پارٹی کمزور ہو گی اور اس میں گروپ بندیاں ،دھڑے بندیاں سر اٹھائیں گی۔ بہتر یہی ہے کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ تاہم چودھری نثار اور خواجہ آصف میں اختلافات معمولی نوعیت کے ہیں، انہیں دور کرا دیا جائے گا۔وزیراعظم نے وزیر اعلیٰ کے موقف سے اتفاق نہ کیا اور کہاکہ اس وقت بلدیاتی انتخابات سمیت دیگر کئی چیلنجز کا پارٹی کو سامنا ہے۔ یہ وقت افہام تفہیم سے اختلافات اور معاملات کو حل کرنے کا ہے کہ پارٹی کے اندر نئی صف بندیاں اور انہیں ہوا دینے کا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو ہدایت کی وہ چودھری شیر علی اور رانا ثناء اللہ کے درمیان موجود اختلافات دور کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں مگر وزیر اعلیٰ نے موقف اختیار کیا کہ چونکہ چودھری شیر علی ان کے خلاف نہ صرف پریس کانفرنس کر چکے ہیں بلکہ ان پر الزامات بھی عائد کر چکے ہیں اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مجھے ان کی بجائے رانا ثناء اللہ عزیز ہیں، حالانکہ میرے لئے پارٹی کے سب رہنما برابر ہیں اور وہ میرے سب سے زیادہ قریب جو پارٹی کے لئے اور عوام کے لئے بہتر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ بہتر ہو گا کہ کسی اور کو یہ ذمہ داری سونپ دی جائے تب وزیراعظم نے مریم نواز کو یہ ذمہ داری سونپ دی تاہم شہباز شریف سے کہا گیا کہ وہ اس معاملے کو مانیٹر کریں گے جبکہ چودھری نثار علی اور خواجہ آصف میں موجود اختلافات کو دور کرانے کی ذمہ داری وزیر اعلیٰ کو سونپ دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے پنجاب اور وفاق کے بعض وزراء سمیت تحصیل ، ڈسٹرکٹ ، ڈویژن اور صوبائی تنظیموں کی کارکردگی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کے لئے کمیٹی تشکیل دی جائے تو کارکردگی کو مانیٹر کرے۔ عوام سے رابطے بڑھائے جائیں اور ایسی یونین کونسلوں میں جہاں ٹکٹوں کے تنازعے ہیں انہیں وزیر اعلیٰ خود بیٹھ کر افہام تفہیم سے حل کرائیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اجلاس میں لاہور کا ضمنی انتخابات حلقہ این اے 122 کے نتائج بھی موضوع بحث رہے اور اس حوالے سے خواجہ سعد رفیق نے موقف اختیار کیا کہ اگر وہ انتخابی مہم کے آخری دنوں میں وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر میدان میں نہ آتے تو نتائج اس سے بھی برے آتے۔ تاہم اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تحصیل سے لے کر صوبے تک کی تنظیموں میں اختلافات ختم کروائے جائیں گے اور اس کے لئے وزیراعظم ہر پندرہ روز بعد پارٹی اجلاس کی صدارت کریں گے جس میں آئندہ چند روز میں تشکیل دی جانے والی کمیٹیاں ہر پندرہ روز کے بعد اپنی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کریں گی۔

مزید :

صفحہ اول -