صدر اوبامہ کی افغان پالیسی ادھوری ہے ، سابق سربراہ سی آئی اے

صدر اوبامہ کی افغان پالیسی ادھوری ہے ، سابق سربراہ سی آئی اے

 واشنگٹن (اظہر ز مان، بیورو رپورٹ) صدر بارک اوباما کا یہ اعلان کہ وہ2017ء میں اپنی صدارت چھوڑتے وقت ساڑھے پانچ ہزار امریکی فوجی افغانستان میں تعینات رکھنا چاہتے ہیں ایک مخصوص حلقے کی طرف سے تنقید کا نشانہ بن رہا ہے۔ سب سے اہم تبصرہ سی آئی اے کے سابق چیف جیمز ولزے کا ہے جو اس وقت واشنگٹن کے تھنک ٹینک ’’کونسل فار دی ڈیفنس آف ڈیمو کریسی‘‘ کے چیئرمین بھی ہیں۔ انہوں نے کہا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کے لئے ان کی حکمت عملی ادھوری ہے۔ دراصل فوجی کمانڈر افغانستان سے بڑے انخلا کے بعد وہاں زیادہ فوجی باقی رکھنا چاہتے ہیں۔ فوجی کمانڈروں کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اوباما کے اعلان میں ایک اچھی خبر اور ایک بُری خبر ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ انہوں نے عراق کی طرح افغانستان سے مکمل انخلا کا ارادہ ظاہر نہیں کیا جس سے طالبان کو انخلا کے بعد وہاں اپنے قدم جمانے کا پورا موقع نہیں ملے گا۔ بُری خبر یہ ہے کہ باقی رہنے والی فوج کی تعداد صرف ساڑھے پانچ ہزار ہو گی جو افغان فورسز کی مدد کرنے کے لئے کم ہے۔ اس دور ان ٹیکساس سے ری پبلکن پارٹی کے کانگرس مین ٹیڈپونے جو ایوان نمائندگان کی فارن افیئرز کمیٹی کے اہم رکن ہیں، نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ صدر اوباما کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے پاس افغانستان کے لئے کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے۔

مزید : صفحہ اول