کیا مذہبی منافرت بھارت میں ’’نئے پاکستان‘‘ کی راہ ہموار کرے گی ؟

کیا مذہبی منافرت بھارت میں ’’نئے پاکستان‘‘ کی راہ ہموار کرے گی ؟

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

  ایک ’’نیا پاکستان‘‘ تو وہ ہے جو ہمارے عمران خان بنانا چاہ رہے ہیں۔ اپنے بقول، اور یہ سرکاری اشتہارات سے بھی عیاں ہے جو انگریزی اخباروں کی زینت زیادہ بنتے ہیں۔ ایک صوبے کو انہوں نے نیا بنا بھی دیا ہے۔ ایک تازہ حوالہ جو ’’نئے خیبرپختونخوا‘‘ کے حوالے سے سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ عوام الناس یعنی ہما شما بھی اب سرکاری گیسٹ ہاؤسز میں ٹھہر سکیں گے جو پہلے ان کے لئے شجر ممنوعہ تھے اور صرف وہی لوگ ان کے اندر داخل ہونے کے حق دار تھے جو اس مقصد کے لئے سفارشیں کراسکتے تھے، یا پھر کسی اور طریقے سے رسائی رکھتے تھے، ایک طریقہ البتہ ہمیشہ سے مروج رہا ہے کہ آپ ’’کیئر ٹیکر‘‘ کو ادائیگی کر دیں اور گیسٹ ہاؤس میں دو چار روز گزار لیں۔ لیکن اب تحریک انصاف کی حکومت نے جو خیبرپختونخوا کو تبدیل کر رہی ہے یا کرچکی ہے، ان گیسٹ ہاؤسوں کو عوام کے لئے کھول دیا ہے، یعنی آپ سامنے کے دروازے سے آئیں، گیسٹ ہاؤس کے رجسٹر میں اپنا نام درج کریں، طے شدہ کرایہ ادا کریں اور رہائش رکھ لیں۔ اب کسی سفارش کی ضرورت نہیں اور نہ کسی کیئر ٹیکر کی مٹھی گرم کرنے کی حاجت۔ یہ ایسا اقدام ہے جس کی تعریف ہونی چاہئے۔ بدل رہا ہے خیبرپختونخوا اور اگر تحریک انصاف کو حکومت ملے گی تو وہ نیا پاکستان بھی بنادے گی۔

لیکن ایک ’’نیا پاکستان ‘‘ ہندوستان میں بھی بنتا نظر آرہا ہے، یہ ’’نیا پاکستان‘‘ وہاں کی کوئی تحریک انصاف نہیں بنا رہی ہے نہ اس کے لئے کوئی مثبت سیاسی کوششیں ہورہی ہیں بلکہ یہ ’’نیا پاکستان‘‘ ان انتہا پسند ہندوؤں کی حرکتوں کی بدولت بنتا ہوا دکھائی دیتا ہے جنہوں نے وہاں مسلمانوں کی زندگی تو عرصے سے اجیرن کررکھی ہے لیکن اب مودی سرکار آنے کے بعد شیوسینا کی دھمکیاں نہ صرف بڑھ گئی ہیں بلکہ محض گائے کا گوشت کھانے کے شبے میں ایک مسلمان کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیا جس کے بارے میں بعد میں معلوم ہوا کہ اس نے کوئی ایسا’’ جرم‘‘ نہیں کیا تھا، اب ہریانہ کے وزیراعلیٰ منوہرلال کھترنے کہا ہے کہ مسلمان گائے کا گوشت کھانا چھوڑ دیں یا بھارت۔ حالانکہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ صرف مسلمان ہی گائے کا گوشت نہیں کھاتے ہندو بھی ایسا کرتے ہیں اور پچھلے دنوں بنارس کی ہندو یونیورسٹی میں ایک ہندو نے تقریر کرتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ وہ نہ صرف گائے کا گوشت کھاتاہے بلکہ تمام تر دھمکیوں کے باوجود آئندہ بھی ایسا کرتا رہے گا۔ اس ہندو کا کسی نے کیا بگاڑ لیا ؟ اور دھمکیوں کے لئے صرف مسلمانوں کا انتخاب کیوں کیا جارہا ہے ؟ دوسری اہم بات یہ ہے بھارت گائے کے گوشت کا بڑا ایکسپورٹر ہے، اور اس کاروبار میں ہندو ہی آگے آگے ہیں، ہریانہ کے وزیراعلیٰ منوہر لال کی دھمکی کا ایک اثر تو فوری طورپر یہ سامنے آیا کہ ہندو انتہا پسند تنظیم بجرنگ دل کے کارکنوں نے ایک مسلمان کو محض اس بناپر قتل کر ڈالا کہ وہ گائے لے جارہا تھا، گویا اب گاؤ کشی تو رہی ایک طرف، محض گائے ساتھ لے جانا بھی جرم ٹھہرا ، کیونکہ کوئی بھی اپنے تصور کے ذریعے فرض کرسکتا ہے کہ جو شخص گائے لے کر جارہا ہے وہ اسے ذبح کرے گا، پھر اس کا گوشت بنائے گا اور کھائے گا۔ لاحول ولا قوۃ۔

ہندوستان پرمسلمانوں نے ایک ہزار سال سے زیادہ حکومت کی۔ ان دس صدیوں میں مسلمان اور ہندو اکٹھے رہتے رہے، طویل عرصے تک ہندو مسلم آبادیوں کے درمیان بدنظمی اور بلوے کا کوئی تصور بھی نہ تھا، دونوں قوموں کے عقائد جداجدا ، ہیرو اور ولن الگ الگ ، رسوم ورواج مختلف، لباس کی تراش خراش اوررنگ تک علیحدہ علیحدہ ، لیکن اس کے باوجود وہ اکٹھے زندگیاں گزارتے رہے۔تحریک خلافت ہندووؤں اور مسلمانوں نے مل کر چلائی ، گاندھی اس کے روح رواں تھے، ہندوستان میں جب سیاسی جماعت کانگرس وجود میں آئی تو مسلمان اور ہندو اس کے رکن تھے۔ خود حضرت قائداعظم ؒ نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کانگرس کی رکنیت سے کیا، انہیں ’’ہندو مسلم اتحاد کا سفیر‘‘ کا خطاب خود ہندوؤں نے دیا۔ قائداعظم ؒ خود بھی ہندوستان کے اندر مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے تھے۔ انہوں نے ’’کیبنٹ مشن پلان‘‘ منظور کرلیا تھا، جو پاکستان نہیں تھا، ان کا خیال تھا کہ اس پلان پر نیک نیتی سے عمل کیا جائے تو مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت مل سکتی ہے۔ قائداعظم کی طرف سے ’’کیبنٹ مشن پلان ‘‘ منظور کرنے کے اعلان کے بعد وہ نہرو تھے جنہوں نے اس پلان کی تشریح من مانے انداز میں کرنا شروع کردی اور مسلمان رہنماؤں کو احساس دلانا شروع کردیا کہ وہ اپنی اکثریت کے بل بوتے پر من مانیاں بھی کرسکتے ہیں، بس یہی وہ مرحلہ تھا جب قائداعظمؒ نے ’’کیبنٹ مشن پلان‘‘ کے لئے اپنی منظوری واپس لے لی اور پاکستان کے قیام کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ آج بھی ہندوستان میں ایسے لوگ موجود ہیں اور ایسی کتابیں لکھی جاچکی ہیں جن میں کہا گیا کہ ہندو رہنماؤں کی ہٹ دھرمی نے قائداعظم ؒ کو قیام پاکستان کے لئے ڈٹ جانے پر مجبور کردیا۔ ورنہ اس سے پہلے ان کے پاس دوسرے آپشن موجود تھے۔ جب ہندوؤں نے ہٹ دھرمی ثابت کردی تو قائداعظم ؒ نے سارے آپشن ختم کرکے پاکستان کا مطالبہ کیا اور اپنی جدوجہد سے اسے منوا لیا۔اس وقت بھارت میں جو حالات ہیں اور مسلمانوں کو جس طرح قتل کیا جارہا ہے ایسی آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں کہ اگر بھارت میں مذہبی نفرت بڑھتی رہی تو ’’نیا پاکستان‘‘ بن جائے گا۔ بھارتی ادیب منور رانا نے کہا کہ حالات ایسے ہی رہے تو نیا پاکستان بن جائے گا۔

قیام پاکستان سے اب تک ہندوستان میں مسلمانوں کو ان کی آبادی کے مطابق پارلیمانی نمائندگی نہیں ملی، حلقہ بندیاں اس طرح ہوتی ہیں کہ 20کروڑ کی آبادی والے مسلمان بہت کم نمائندگی حاصل کر پاتے ہیں۔ گجرات کے فسادات میں مسلمان رکن پارلیمنٹ کو جس طرح قتل کیا گیا اور ان کے گھر میں پناہ لینے والوں کو جلا کر خاکسترکردیا گیا اور بھارتی حکومت اپنے رکن پارلیمنٹ کی مدد کو بھی نہ آسکی۔ اس کے بعد منور رانا کا یہ خیال کسی وقت حقیقت بن سکتا ہے کہ اگر مذہبی منافرت بڑھتی رہی تو ’’نیا پاکستان‘‘ بن جائے گا۔

مزید :

تجزیہ -