’’ خدا کے نام پرقاتلوں کی مدد‘‘

’’ خدا کے نام پرقاتلوں کی مدد‘‘
’’ خدا کے نام پرقاتلوں کی مدد‘‘

  


مَیں خود کو ایڈیشنل سیشن جج شاہدہ سعید کی عدالت میں حاضر محسوس کر رہا ہوں۔ اس عدالت میں ایک غریب محنت کش باپ کے ساتھ انسانیت، مذہب اور قانون سمیت سب دست بستہ کھڑے ہیں۔ دولت اور قانون نے ان کے ہاتھ ، پاوں اور منہ سب باندھ رکھے ہیں کہ اگر وہ بندھے ہوئے نہ ہوتے تو وہ اس عدالت سے بھاگ نکلتے، مجرموں کے گریبان پکڑ لیتے اور انصاف کے حصول کے لئے زور زور سے چیختے ، چلاتے۔ اس عدالت میں لیاقت علی نامی ایک غریب شخص جج صاحبہ کے سامنے بیان دے رہا ہے کہ وہ اپنے لخت جگرکاشف کو اغوا کرکے گردہ نکالنے والے کے دوران جان سے مار دینے والے تین ڈاکٹروں سمیت دس ظالموں کوخدا کے نام پر معاف کرتا ہے۔ عدالت انہیں معاف کرنا چاہے تو معاف کر دے اور عدالت انہیں معاف بھی کر دیتی ہے کہ خدا کے نام پر بنا ہوا قانون یہ راستہ دکھاتا ہے۔

یہ داستان میرے مہربان دوست اورسینئر صحافی شاہین عتیق نے بیان کی ہے کہ ڈیڑھ، پونے دوبرس پہلے انیس سالہ کاشف لاپتا ہو گیا، ماں اور باپ پاگلوں کی طرح اسے ڈھونڈتے رہے، ہر جگہ اعلان کروایا،ہر دروازہ کھٹکھٹایا،مگرکچھ پتا نہ چل سکا۔ باپ نے تھانہ فیکٹری ایریا میں گمشدگی کی اطلاع کر دی اور اسی دوران ایک شخص نے بتایا کہ اس نے کاشف کو12مارچ کو تین افراد کے ساتھ ایک کار میں جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ معلومات اکٹھی کی گئیں تو پتا چلا کہ کاشف گردے نکالنے والے گروہ کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔ اسے فیکٹری ایریا والٹن کے تین ڈاکٹر رومیو، رضوان اور فہد گردہ نکالنے کے لئے اپنے کلینک پر لے گئے تھے جہاں گردہ نکالنے کی کوشش کے دوران اس کی موت واقع ہو گئی۔ پولیس کی تفتیش میں اس گروہ کے محمد الیاس، محمد افضل، آصف محمود، عارف علی اور محمد اکرم بھی بے نقاب ہو گئے، جنہوں نے کاشف کی نعش کو مغل پورہ کے قبرستان میں دفن کر دیا تھا۔ باپ کی رپورٹ پر بیٹے کی ہلاکت کا مقدمہ درج ہو گیا اور ملزم عدالت میں روایتی تاخیری حربے استعمال کرتے رہے۔ محنت کش لیاقت اپنے بیٹے کے قاتلوں کو سزا دلوانے کے لئے عدالت میں حاضر ہوتا رہا، مگر ایک بات تو طے شدہ ہے کہ جب غریب آدمی عدالت جائے گا تو اسے دیہاڑی توڑنی پڑے گی، وکیل کی فیس کا بندوبست کرنا پڑے گا عدالت جانے کے لئے کرایہ خرچ کرنا پڑے گا، اس کی جیب میں اہلکاروں کو دینے کے علاوہ پاپی پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے بھی روپے ہونے چاہئیں۔یہی وہ مقام ہے، جہاں غریب آدمی کی ہمت ٹوٹ جاتی ہے۔ ایک طرف وہ اپنا پیارا گنوا دیتا ہے اور دوسری طرف وہ مقدمے بازی کی وجہ سے گھر کے برتن تک بیچنے لگتا ہے۔ غم اور دکھ سے زیادہ اسے فکر اور تھکاوٹ مارنے لگتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ ایک پیارا تو چلا گیا وہ باقی پیاروں کی زندگی کو جہنم کیوں بنائے۔ مجھے یہاں ستوکتلہ کے وہ ماں بیٹا بھی یاد آ گئے، جو جناح ہسپتال میں اپنے کسی عزیز کی تیمار داری کے بعد سائیکل پر گھر واپس آ رہے تھے۔ پولیس ناکے پر روکا گیا اور پولیس والے نے انہیں ماں بیٹا ماننے سے انکا ر کرتے ہوئے کہا کہ وہ عیاشی کے لئے عورت کو ساتھ لے جا رہا ہے، جوان خون گرم ہوا ،مگر پولیس والوں کے پاس موجود بندوقوں کی گولیوں نے اس کی ساری گرمی نکال دی، اسے ہمیشہ کے لئے ٹھنڈا کر دیا، ایک ڈی ایس پی سمیت کچھ اہلکاروں پر مقدمہ ہوا، مگر ان کی کہانی بھی کچھایسی ہی رہی اور انہوں نے بھی پولیس والوں کو اپنا بیٹا مارنے پر معاف کر دیا۔

وزیر اطلاعات پرویز رشید،قانون کے وفاقی وزیر بھی ہیں ، ان کی طرح پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ سے بھی میں واقفیت رکھنے کا دعویٰ کر سکتا ہوں۔ وہ مجھ سے بہتر معاملات کی تشریح کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن کیا وہ مجھے بتا سکتے ہیں کہ پاکستان میں رہنے والے غریبوں کی طرف سے امیروں کو اپنے پیاروں کالہو معاف کرنے کا رجحان کیوں بڑھتا چلا جا رہاہے۔ کیا ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام کے نام پر قصاص اور دیت کے قانون کا درست استعمال کر رہے ہیں۔ ریمنڈ ڈیوس کیس میں یہی قانون استعمال ہوا، شاہ زیب کے قاتلوں نے اس کا فائدہ اٹھایا، زین کے قاتل بھی گواہوں کو منحرف کرتے چلے جا رہے ہیں اور اب اس کیس نے مجھے عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اسی طرح ایک اور کیس میں ایک باپ نے اپنی معذور بیٹی کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کے ساتھ صلح کرنے کا حلف نامہ داخل کروا دیا، تو عدالت نے اسے بتایا کہ اس کیس میں صلح نہیں ہو سکتی۔ مَیں جانتا ہوں کہ میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف، پرویز رشید اور رانا ثناء اللہ خان کے سامنے اس سے بھی زیادہ اہم معاملات ہیں۔ انہیں ضمنی انتخابات میں اپنی کامیابیوں کا جشن منانا اور ناکامیوں کے جواز پیش کرنے ہیں۔ انہیں دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے حکومتی کوششوں کا بار بار ذکر کرنا ہے۔ ہم کالم نویسوں اور پروگراموں کے اینکروں کے لئے بھی گردہ نکالتے ہوئے مرجانے والے کاشف کے باپ کی بے بسی سے کہیں زیادہ شہباز شریف ، چودھری نثار علی خان اور احسن اقبال کے خواجہ آصف سے اور چودھری شیر علی کے رانا ثناء اللہ خان سے اختلافات زیادہ اہم اور دلچسپی کے حامل ہیں۔علمائے کرام سے لے کر قانون دانوں اور میڈیا پرسنز تک شائد سب کے پاس خدا کے آفاقی مذہب کی غلط تشریح کرتے ہوئے ظالموں کو دی جانے والی اس چھوٹ کی کوئی اہمیت نہیں۔

شائد میں کچھ زیادہ جذباتی ہو تے ہوئے سوچ رہا ہوں کہ ہم نے اپنے ریاستی ، معاشرتی اور عدالتی نظام میں پیسے والوں کوبدمستی کا لائسنس دے رکھا ہے۔ وہ جس غریب کو جب چاہے قتل کریں اور جب اس بے بس اور بے کس کو انصاف کے حصول میں روٹی کے لالے پڑ جائیں ،تو وہ چند لاکھ روپے خرچ کرتے ہوئے خدا کے نام پر معافی خرید لیں۔ ایک غریب کے قتل کی معافی کا ریٹ اگر10لاکھ روپے ہو تو ایک کروڑ رکھنے والے کو قانونی چارہ جوئی سے استثنیٰ دیتے ہوئے دسقتل کرنے کی اجازت ویسے ہی دے دینی چاہئے کہ ا س سے نہ صرف گردہ نکالنے والے گروہوں ہی نہیں،بلکہ کاشف جیسے نوجوانوں کے باپوں، شاہدہ سعید جیسی عدالتوں کو بھی سہولت ملے گی بلکہ مجھ جیسے چخ چخ کرنے والے صحافیوں اور کالم نگاروں کو بھی ٹینشن نہیں ہوگی۔امیروں کے ہاتھوں غریبوں کا قتل نان ایشو ہو گا اور ہم سب خدا کے نام پر قاتلوں کی مدد کوقسمت ، قدرت ، حکومت اور عدالت کا فیصلہ سمجھ کر قبول کر لیں گے۔

مزید : کالم