شاہ محمود قریشی کی شام غریباں۔۔۔۔۔؟

شاہ محمود قریشی کی شام غریباں۔۔۔۔۔؟
شاہ محمود قریشی کی شام غریباں۔۔۔۔۔؟

  


وقتی طور پر شاہ محمود قریشی جانے سے رک گئے ہیں۔تحریک انصاف نے رکن پنجاب اسمبلی مسعود شفقت ربیرا کو شو کاز جاری کر دیا ہے۔ شاہ محمود قریشی یہ شو کاز جاری کروانے کے لئے بضد تھے جبکہ چودھری سرور اور ان کا گروپ یہ شوکاز رکوانا چاہتے تھے۔ لیکن شاہ محمود قریشی نے اس کو پوائنٹ آف نو ریٹرن بنا لیا اور واضح کر دیا کہ اگر یہ شوکاز جاری نہیں کیا گیا تو وہ بڑا فیصلہ کر لیں گے۔ تحریک انصاف جاوید ہاشمی کے بعد کوئی بڑا سانحہ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس لئے شاہ محمود قریشی کو ان کی شرائط پر روک لیا گیا ہے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں تحریک انصاف کا سیاسی کلچر ایسا ہے کہ یہاں جب کسی شخص کی ناراضگی شروع ہو جائے تو ایک بار اسے منا لیا جاتا ہے۔ لیکن آخر اسے جا نا ہی ہو تا ہے۔ اس سے پہلے جاوید ہاشمی بھی تین بار ناراض ہو ئے۔ ان کی شرائط کے سامنے تحریک انصاف کی قیادت نے دو بار سر خم تسلیم کیا۔ لیکن پھر تیسری بار انہیں خود ہی جانے کا کہہ دیا گیا۔ اس طرح شاہ محمود قریشی کی بھی پہلی باری ہو گئی ہے۔ لیکن عمومی رائے یہی ہے کہ عمران خان جس مزاج کے مالک ہیں شاہ محمود قریشی اور عمران خان کی اب لمبی چلتی نظر نہیں آتی۔

تحریک انصاف کے ذمہ داران تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ خود عمران خان بھی مسعود شفقت ربیرا کو شو کاز نہیں دینا چاہتے تھے۔ لیکن شاہ محمود اس سے کم پر مان نہیں رہے تھے۔ اس لئے عمران خان نے پہلے مسعود شفقت کو اعتماد میں لیا تا کہ وہ کہیں چلے نہ جائیں اور اس کے بعد ان کو شوکاز دیا گیا ہے۔ اس لئے مسعود شفقت بحال ہو جائیں گے۔ کیونکہ ساری دنیا کو پتہ ہے کہ آزاد امیدوار جج صاحب مسعود کی وجہ سے جیتے ہیں۔ اس لئے اس لمحے پر اگر مسعود شفقت کو تحریک انصاف سے نکالا جا تا ہے تو جج کو لینے کے لئے مسلم لیگ (ن) شفقت کو بھی لے لے گی جبکہ تحریک انصاف کو یہ بھی اندازہ ہے کہ اگر مسعود شفقت کی سیٹ پر دوبارہ ضمنی انتخاب ہو تا ہے تو تحریک انصاف کی ضمانت دوبارہ ضبط ہو سکتی ہے۔ اس لئے عقلمندی کا تقاضہ یہی ہے کہ تحریک انصاف اوکاڑہ میں جو ہوا ۔ اس کو بھول کر مسعود شفقت ربیرا کے ساتھ ہی آگے چلنے کا فیصلہ کرے۔ اس لئے مسعود شفقت ربیرا کو شو کاز نہ دینے کی بات کی جارہی تھی۔ لیکن شاہ محمود قریشی اس سیاسی منطق کو ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اوکاڑہ میں مسعود شفقت کی وجہ سے ان کی سیاسی ساکھ کو نا قابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ اس لئے وہ مسعود کو معاف نہیں کر سکتے۔

تحریک انصاف میں یہ چپقلش نئی نہیں ہے۔ پہلے جاوید ہاشمی اور شاہ محمود قرشی کے درمیان یہی چپقلش تھی۔ لیکن وہاں مسئلہ یہ تھا کہ دونوں کا تعلق ملتان سے تھا۔ پہلے تو دونوں کا حلقہ انتخاب بھی ایک ہی تھا۔ پرانی سیاسی چپقلش تھی۔ اسی لئے کہا جا تا ہے کہ شاہ محمود قریشی نے جاوید ہاشمی کی رخصتی میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی لئے شروع سے ہی کہا جا تاتھا کہ جس طرح ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں۔یہ دونوں بھی اکٹھے نہیں رہ سکتے تھے۔ اسی لئے بعد میں جاوید ہاشمی کو باغی سے داغی بھی شاہ محمود قریشی نے ہی بنا یا اور وہ جاوید ہاشمی کے خلاف آخری حد تک گئے۔

اس کے بعد شاہ محمود قریشی تحریک انصاف میں اکیلے مرد میدان رہ گئے۔ ہر جگہ وہ ہی وہ تھے۔ پھر چودھری سرور آگئے اور شاہ محمود قریشی کی بادشاہت پھر تقسیم ہو گئی۔ اب صورتحال کیا ہے۔ جہانگیر ترین، علیم خان، میاں محمودالرشید سمیت ایک بڑا گروپ شاہ محمود قریشی کے خلاف ہے۔ یہ کوئی کھلم کھلا مخالفت نہیں کرتے، بس صرف چودھری سرور کو اہمیت دی جاتی ہے۔ چودھری سرور کو شاہ محمود قریشی کے برابر کا لیڈر بنا یا جا تا ہے۔ جو شاہ محمود قریشی کو قبول نہیں۔ شاہ محمود قریشی کے ساتھ سابق صدرپنجاب اعجاز چودھری، نعیم الحق ،عارف علوی ہیں۔ لیکن یہ سب اتنے مضبوط نہیں کہ جہانگیر ترین اور علیم خان کا مقابلہ کر سکیں۔

اب ہو گا کیا؟ شاہ محمود قریشی چلے جائیں گے۔ لیکن کہاں جائیں گے۔ کیا مسلم لیگ (ن) میں چلے جائیں گے۔ وہ تو اتنی بڑی قربانی کے بعد جاوید ہاشمی بھی ابھی تک نہیں جا سکے ہیں۔ 14 اگست کو بڑی خبر تھی کہ بیگم کلثوم نواز انہیں شامل کرنے جائیں گی، لیکن وہ نہ جا سکیں۔ اس لئے جاوید ہاشمی ابھی انتظار میں ہیں۔ کیا شاہ محمود قریشی بھی اس طرح کی لائن میں لگنا چاہیں گے؟ لیکن شاید شاہ محمود قریشی کی صورتحال مختلف ہو۔ کیونکہ جس طرح مسلم لیگ (ن) کے بڑے بڑے نام جاوید ہاشمی کے خلاف ہیں ۔ شاید شاہ محمود قریشی کے لئے ایسی مخالفت نہ ہو اور ان کے لئے راہ آسان ہو۔ لیکن پھر بھی شاہ محمود قریشی کی جو پوزیشن تحریک انصاف میں ہے۔ وہ ن لیگ میں کبھی بھی نہیں ہو سکتی۔ بہرحال انہیں اسحاق ڈار، چودھری نثار علی خان، خواجہ آصف ، احسن اقبال کے بعد ہی بیٹھنا ہو گا۔ جو بہر حال ان کے لئے کڑوی گولی ہی ہو گی۔ شاہ محمود قریشی اس وقت ایک بند گلی میں ہیں۔ وہ تحریک انصاف میں مشکل میں ہیں۔ لیکن اس کے باہر بھی ان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔ شاید مسعود شفقت ربیرا کے شو کاز کے بعد ان کی واپسی پر شاہ محمود قریشی کو ماننا ہو گا۔ بس ان کی انا کی تسکین کے لئے شو کاز دے دیا گیا۔ اس سے آگے کچھ نہیں ہو گا۔

مزید : کالم