ضمنی انتخاب کا معرکہ

ضمنی انتخاب کا معرکہ
 ضمنی انتخاب کا معرکہ

  

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے122کے ضمنی انتخاب نے مُلک بھر میں ہنگامہ اُٹھا رکھا تھا۔ سردار ایاز صادق اور عبدالعلیم خان آمنے سامنے تھے، لیکن یہ معرکہ جناب نواز شریف اور عمران خان کے درمیان سمجھا جا رہا تھا، کم از کم تحریک انصاف کا یہی دعویٰ تھا۔ عبدالعلیم خان پر ان کے مخالفین انگلیاں اُٹھاتے تھے، لیکن ان کے حامیوں کا کہنا تھا کہ ایسی انگلیاں تو ہماری سیاست کا معمول ہیں۔ عبدالعلیم خان گزشتہ تین عشروں میں پھلے پھولے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے اُنہیں وہ کچھ حاصل ہُوا ہے، جو کم لوگوں کو کم وقت میں ہاتھ آتا ہے۔ اس لیے اُنہیں ٹارگٹ کرنا آسان تھا، لیکن اُنہوں نے بھی ہمت نہیں ہاری۔اپنے ہاتھوں کو کھلا رکھا۔ ہاہا کار مچی رہی کہ تجوریوں کے مُنہ کھل گئے ہیں، دوسری طرف بھی جیبیں ڈھیلی نظر آئیں۔ یار لوگ حساب کرتے رہے، لیکن الیکشن کمیشن کے کانوں پر جُوں نہیں رینگی، کہ محبت بالرضا کے مرتکبین (PRACTITIONERS) کو سزا دلوانا آسان نہیں ہوتا۔ عمران خان پورے جوش و خروش کے ساتھ اور چودھری محمد سرور پوری ذہانت و تدبر کے ساتھ اپنے امیدوار کی پشت پر تھے۔ نشست ہاتھ نہ لگنے کے باوجود وہ خالی ہاتھ نہیں رہے۔ کُل 347,762ووٹروں میں سے 149,885 نے ووٹ کا حق استعمال کیا۔ یوں ٹرن آؤٹ 43.1فیصد رہا۔1858ووٹ مسترد ہوئے، 148027درست پائے گئے۔ سردار ایاز صادق نے74525ووٹ حاصل کیے، جبکہ عبدالعلیم خان کے حصے میں 72,082 پرچیاں آئیں۔ یوں2443ووٹوں کے فرق سے مسلم لیگ(ن) اپنی عزت (یا ساکھ) بچانے میں کامیاب ہوئی۔ یہیں خالی ہونے والی صوبائی اسمبلی کی نشست البتہ تحریک انصاف نے جیت لی۔ یہاں44.72فیصد ووٹ پڑے، تحریک کے شعیب صدیقی31964ووٹ لے کر اپنے حریف محسن لطیف کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئے۔ ہارنے والے کے حصے میں 28402ووٹ آئے۔ یہاں فرق3362کا تھا۔ محسن نے 2013ء میں میدان مار لیا تھا، لیکن ان کے خلاف بھی انتخابی عذر داری کامیاب ہو گئی۔ محسن نوجوان ہیں، اور شریف خاندان کے قرابت دار، لیکن کہا جاتا ہے کہ ان کی کاہلی نے اُنہیں کمزور کر دیا۔ اپنے انتخابی حلقے سے ان کا رابطہ پُرجوش نہیں تھا، اِس لئے سردار ایاز صادق کا سایہ بھی انہیں کامیابی نہ دِلا سکا۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف انہیں ٹکٹ دینے کے حق میں نہیں تھے، اُن کا خیال تھا کہ ضمنی انتخاب میں امیدوار بدل دینا چاہئے، لیکن سردار ایاز صادق نے اِس سے اتفاق نہ کیا۔ ان کا خیال تھا کہ ’’گھوڑے‘‘ کی تبدیلی کے منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ ہارنے اور جیتنے والے کے درمیان فرق زیادہ نہیں ہے، لیکن سردار صاحب کی جیت نے اس شکست کا داغ نمایاں اور گہرا کر دیا۔ تحریک انصاف نے اس جیت پر اگرچہ بہت زیادہ مسرت کا اظہار نہیں کیا، لیکن اس نے اسے شکستِ فاش کے صدمے سے دوچار ہونے سے بچا لیا۔

2013ء میں عمران خان، سردار ایاز صادق کے مقابلے میں تھے۔ان دونوں کے درمیان ووٹوں کا فرق سات ہزار کے لگ بھگ تھا، جو اب گھٹ کر تین ہزار سے کم رہ گیا۔ عام انتخابات میں سردار ایاز صادق نے یہاں ڈالے گئے وٹوں کا51.6فیصد حاصل کیا تھا، جبکہ پی ٹی آئی کو 46.8فیصد ووٹ ملے تھے۔ ضمنی انتخاب میں سردار صاحب کے ووٹ50.6فیصد ہو گئے، یعنی ایک فیصد کمی ہوئی، جبکہ پی ٹی آئی کو دو فیصد اضافے کے ساتھ48.7فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔ گویا2015ء کے نتیجے نے 2013ء کے نتیجے کی توثیق کر دی۔ اس حلقے کے حوالے سے دھاندلی کے جو شدید الزامات لگائے جا رہے تھے ان کا تاثر برقرار نہیں رہ سکا۔ حالیہ انتخاب میں گنتی فوج کی نگرانی میں ہوئی۔ امن و امان مثالی رہا۔ کوئی ہنگامہ نہیں ہُوا، نہ ہی کسی فریق کو شکایت پیدا ہوئی۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے تحفظات کا اظہار تو کیا، لیکن نتیجے کو تسلیم کر لیا۔ بعد ازاں اس شبے کا اظہار کیا گیا کہ حلقہ این اے 122 سے ایک بڑی تعداد میں ووٹوں کو دوسرے حلقوں میں منتقل کیا گیا، اور دوسرے حلقوں سے یہاں نئے ووٹر ’’درآمد‘‘ کر لئے گئے۔تحریکیوں کو خدشہ تھا کہ ایسا سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا، لیکن جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ کسی بھی ووٹر کی آمد اور رفت اس کی رضا مندی، بلکہ پیش قدمی کے بغیر ممکن نہیں ہے، تو پھر اس الزام میں وزن باقی نہیں رہا۔ تحریک انصاف کی طرف سے یہ الزام ابھی تک واپس نہیں لیا گیا، لیکن اس کے حق میں شواہد بھی پیش نہیں کئے جا سکے۔ اس کے بعض رہنما اس جانچ پڑتال میں مصروف رہنے کا دعویٰ کر رہے ہیں، لیکن ابھی تک ان کی غوطہ خوری ان کے حق میں کوئی مفید نتیجہ مرتب نہیں کر سکی۔

لاہور کے انتخابی دنگل کے ساتھ ساتھ اوکاڑہ میں بھی میدان سجا ہُوا تھا۔ یہ شہر کسی زمانے میں پیپلزپارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، بلکہ اس کے متوسلین اسے ’’مِنی لاڑکانہ‘‘ کہتے تھے۔ پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو اگرچہ ’’نو مسلم‘‘ ہیں، لیکن ان کا تعلق اِسی علاقے سے ہے کہ اوکاڑہ سے دیپالپور چند قدم ہے۔ پیپلزپارٹی کے جیال�ۂ قدیم اشرف سوہنا جو 2013ء میں یہاں سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہو کر مسلم لیگ(ن) کے اختلاط سے بننے والی پنجاب کابینہ میں وزیر محنت تھے، اب تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ٹکٹ بھی حاصل کر لیا، لیکن ان کی ضمانت ضبط ہو گئی۔ تحریک انصاف کے مسعود شفقت اِسی علاقے سے صوبائی اسمبلی کے رکن ہیں۔ انہوں نے اپنے امیدوار کی مخالفت کی، اور آزاد امیدوار چودھری ریاض الحق جج کے پلڑے میں وزن ڈال دیا۔ چودھری صاحب ایک ممتاز صنعت کار ہیں، ان کا تعلق مسلم لیگ(ن) سے تھا، لیکن انہیں2013ء میں ٹکٹ نہ مل سکا اور اب ضمنی انتخاب میں بھی قرعہ فال ان کے نام نہ نکلا۔ دو سال پہلے تو وہ ڈسپلن کی چوڑیاں پہن کر گھر بیٹھ گئے تھے، لیکن اب کے انہوں نے اپنے گریبان کا پرچم لہرانے کا فیصلہ کر لیا۔ مسلم لیگ(ن) کے محمد عارف چودھری کو ہزاروں ووٹوں سے شکست دے ڈالی۔ باغی چودھری کے85714 کے مقابلے میں سرکاری چودھری نے 45199ووٹ حاصل کئے۔ پی ٹی آئی کے اشرف سوہنا6356جبکہ پیپلزپارٹی کے چودھری سجاد الحسن 4325 ووٹ حاصل کر کے چوتھے نمبر پر رہے، اور موخر الذکر دونوں حضرات کی ضمانت ضبط ہو گئی۔

اوکاڑہ میں عمران خان بنفسِ نفیس پہنچے تھے، ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنے ایم پی اے مسعود شفقت کو للکارا تھا کہ بندے بن جاؤ، پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی نہ کرو، لیکن وہ نوجوان ٹس سے مس نہیں ہُوا، اپنے دیرینہ دوست کے ساتھ ڈٹا رہا۔ اب اس کی پارٹی رکنیت معطل کر دی گئی ہے، لیکن اس کا مطالبہ ہے کہ کارروائی شاہ محمود قریشی کے خلاف کی جائے، جنہوں نے حلقے کے پارٹی کارکنوں سے پوچھے بغیر اشرف سوہنا کو ٹکٹ جاری کیا۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ 2013ء میں یہاں سے پی ٹی آئی کے امیدوار راؤ خالد نے ساڑھے انیس ہزار ووٹ حاصل کئے تھے، لیکن ان کو ’’کمزور‘‘ قرار دے ڈالا گیا۔ مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف دونوں کے باغی ووٹروں نے آزاد امیدوار کو ووٹ دے کر اپنی اپنی قیادتوں کو یہ پیغام بھیج دیا کہ حلقہ جاتی سیاست میں امیدوار کا انتخاب آنکھ بند کر کے نہیں کیا جا سکتا۔

ضمنی انتخاب کے نتائج نے سیاست میں ٹھہراؤ پیدا کر دیا ہے۔2013ء کے انتخابات کے خلاف تحریک انصاف کا مقدمہ اگر خارج نہیں ہُوا، تو کمزور بہرحال ہو گیا ہے۔ مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف پنجاب کی سیاست میں اب بڑے حریف ہیں، انہیں یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑے گی۔ مسلم لیگ زعم میں نہ رہے کہ گلیاں سنسان ہیں اور مرزا یار اکیلا پھر سکتا ہے۔عمران خان کی بڑھکیں زور دار سہی، لیکن نتیجہ پیدا کرنے کے لئے بہت کچھ مزید درکار ہے۔ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے شوق میں ایک دوسرے کا انکار کرنے سے بات نہیں بنے گی۔ پیپلزپارٹی نے امیدوار تو حلقہ 122 میں بھی کھڑا کیا تھا، لیکن اسے ایک ہزار سے کم ووٹ ملے۔ اس پارٹی کے تنِ مردہ میں جان کیسے ڈالی جائے گی، اور جان ڈالنے والا کون ہو گا؟ یہ سوال سیاسی پنڈتوں کے لئے دلچسپی کا سامان بنا رہے گا۔

(یہ کالم روزنامہ ’’ دنیا‘‘ اور روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

مزید :

کالم -