،زرداری کیخلاف غیرقانونی اثاثہ جات کیس میں گواہوں کی عدم حاضری

،زرداری کیخلاف غیرقانونی اثاثہ جات کیس میں گواہوں کی عدم حاضری

  

راولپنڈی/ اسلام آباد ( اے این این ) سابق صدر آصف علی زرداری کیخلاف غیرقانونی اثاثہ جات ریفرنس میں گواہوں کی عدم حاضری کے باعث شہادتیں قلمبند نہ ہو سکیں ، عدالت نے آئندہ سماعت کیلئے گواہان کی دوبارہ طلبی کے سمن جاری کر دیئے ٗایس جی ایس ریفرنس میں وکلاء نے دلائل مکمل کرلئے ٗ سابق صدر کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے نیب کی پیش کردہ دستاویزات اور شواہد کو جعلی قراردے دیا ۔ ہفتہ کو راولپنڈی کی احتساب عدالت کے جج خالد محمود رانجھا نے سابق صدر آصف علی زرداری کیخلاف غیر قانونی اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت کی۔ نیب پراسیکیوٹر اور سابق صدر کے وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے۔استغاثہ کی جانب سے چار گواہان میں سے دو عدالت حاضر ہوئے جس پر تمام گواہ عدالت میں پیش نہ ہونے پر شہادتیں قلمبند نہ ہو سکیں اورعدالت نے گواہان کی دوبارہ طلبی کے سمن جاری کرتے ہوئے سماعت21 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔ دوسری جانب ایس جی ایس ریفرنس میں وکلا نے دلائل مکمل کرلئے ، سابق صدر کے وکیل نے نیب کی پیش کردہ دستاویزات اور شواہد کو جعلی قرار دے دیا۔اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کوٹیکنا اور ایس جی ایس ریفرنسز میں سابق آصف زرداری کی بریت کی درخواست پر سماعت کی ۔سابق صدر کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے موقف اختیار کیا کہ ریفرنس میں پیش کی گئی دستاویزات اور شواہد جعلی ہیں ۔دو چار دستاویز چوری ہو سکتی ہیں مگر پیش کردہ تین سو کے قریب دستاویزات میں سے ایک بھی اصل نہیں ۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اصل دستاویزات احتساب عدالت میں ہیں نہ ہی ہائیکورٹ میں۔ان سے متعلق حسن وسیم افضل کے بیانات میں بھی تضاد ہے ۔ نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اصل دستاویزات ہائیکورٹ میں موجود ہیں ۔ احتساب عدالت وہاں سے منگوا سکتی ہے۔ عدالت نے سماعت29اکتوبر تک ملتوی کر دی۔سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سیف الرحمان نے جھوٹے کیس بنائے اور دستاویزات پر جعلی ٹھپے لگائے۔معظم حیات سوئٹزرلینڈ بھی گئے مگر وہاں سے بھی اصل دستاویزات نہیں ملیں۔ ایک سوال پر فاروق ایچ نائیک نے سابق صدر کیخلاف کیسز بنانے میں نواز شریف کے کردار سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

زرداری

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -