شہباز خودکشی کیس،نشتر شعبہ فرانزک کے ڈاکٹرز کی بھی متوفی سے ناانصافی کاانکشاف

شہباز خودکشی کیس،نشتر شعبہ فرانزک کے ڈاکٹرز کی بھی متوفی سے ناانصافی ...

  

ملتان(جنرل رپورٹر،وقائع نگار)شہباز خود کشی قتل کیس کے حوالے سے مزید انکشافات سامنے آئے ہیں تھانہ صدر کے علاقے کے رہائشی شہباز کے ساتھ نشتر ہسپتال کے شعبہ فرانزک کے (بقیہ نمبر17صفحہ11پر )

ڈاکٹرز نے بھی نا انصافی کی ،فاروق اعظم وغیرہ سے بھاری رقم لے کر ڈاکٹر سلیم وینس نے مخالف فریقین کے جعلی ایم ایل سی بنائے جس روز فاروق اعظم اور فوجدار وغیرہ کی آپس میں لڑائی ہوئی تو اس روز پولیس تھانہ صدر نے کل پانچ زخمی افراد کے میڈیکل ڈاکٹ جاری کئے جن کے ایم ایل سی نمبرز 1973سے لیکر 1977تھے ان پانچوں میں سے فاروق اعظم جو اس کیس کا مرکزی کردار ہے ڈاکٹر سلیم وینس نے صرف انہی کا ایم ایل سی بنایا جس کا ایم ایل سی نمبر 1973ہے اور باقی تمام کے میڈیکل میں غلط بیانی کی گئی اور ان کے میڈیکل میں ضربات کے باوجود بھی ان کاذکر نہ کیا گیا اور لکھ دیا گیا کہ ان کی ضربات اس قابل نہیں کہ ان پر مقدمہ درج ہو سکے جبکہ حقیقت یہ ہے فاروق اعظم کے جسم پر کوئی اتنی زیادہ چوٹ نہیں لگی تھی اور پولیس ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ چوٹ شہباز اور فوجدار وغیرہ کے ایک عزیز جہانگیر کو لگی تھی جس کا ایم ایل سی نمبر 1975تھا اور اس کے سر پر چوٹ لگی تھی اور اس کے سر پر آٹھ ٹانکے بھی لگے تھے لیکن ڈاکٹر سلیم وینس نے مخالف پارٹی سے بھاری رقم لے کر اپنی وفادری کا ثبوت دیا اور شہباز وغیرہ کو میڈیکل میں ہی فارغ کر دیا اور فاروق اعظم کے اس بوگس میڈکل پر پولیس تھانہ صدر نے مقدمہ درج کر دیا اور انصاف نہ ملنے پر شہباز سب سے پہلے ڈاکٹرز کی کرپشن سے دلبرداشتہ ہوا جس وقت ڈاکٹرز نے ان کا میڈکل نہ بنایا تو پہلی بار اس نے تب خود کشی کی کوشش کی تا ہم آس پاس موجود لوگوں نے اسے بچا لیا اور اس کے جسم پر آگ نہ لگنے دی اسی طرح شہباز وغیرہ کے ایک اور عزیز وحید کے سر پر بھی شدید چوٹ آئی تھی لیکن اس کا بھی ایم ایل سی نہیں بنایا گیا تھا پولیس ذرائع کے مطابق دوسری اہم بات یہ ہے کہ شہباز اور فاروق اعظم وغیرہ دونوں فریقین کا جس اراضی پر تنازعہ چل رہا ہے وہ کل اراضی 23کینال پانچ مرلے ہے لیکن وہاں اے سی سٹی کی ملی بھگت سے چھ کینال تین مرلے کی اراضی کا قبضہ دلوایا گیا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -