آیغور دہشت گردوں کا پاکستان سے خاتمہ کردیا:خواجہ آصف

آیغور دہشت گردوں کا پاکستان سے خاتمہ کردیا:خواجہ آصف
 آیغور دہشت گردوں کا پاکستان سے خاتمہ کردیا:خواجہ آصف

  


بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک )وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستانی سرزمین سے دی ایسٹ ترکستان اسلامک مومنٹ (آیغور) کے دہشت گردوں کا خاتمہ کردیاہے۔خطے میں امن و استحکام کی صورت میں ہی پاک چین اقتصادی راہداری جیسے منصوبوں کے حقیقی فوائد سامنے آسکتے ہیں۔بیجنگ میں ژیانگ شین فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ پرامن و مستحکم افغانستان خطے کے امن و استحکام کی ضمانت ہے، بھارت کے ساتھ مذاکرات کی جلد بحالی چاہتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کیلئے تمام تنازعات حل کرنے ہوں گے، کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈی پر کشیدگی کم کرنے کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی تمام اقسام کی مذمت کرتا ہے، عالمی برادری تنازعات کے بنیادی اسباب دور کرنے میں ناکام ہوگئی ہے، کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ تنازعات کے حل کے لئے عالمی برادری نے اپنے وعدے پورے نہیں کئے۔آیغور سے متعلق وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد آیغور دہشت گرد یاتو ختم ہو گئے ہیں یا بھاگ گئے ہیں، تاہم اکا دکا قبائلی علاقے میں موجود ہونگے، وزیر دفاع نے کہا کہ آیغور دہشت گردوں کے خلاف جنگ صرف چین کی ہی نہیں بلکہ ہماری بھی ہے، یہ ایک مشترکہ جنگ ہے جو پاکستان چین مل کر لڑ رہے ہیں، ملک کے کسی کونے اور چپے میں اب دہشت گردوں کو واپس آنے یا پناہ لینے کی جگہ میسر نہیں ہوگی، ملکی سرزمین ناپاک دہشت گردوں پر تنگ کردی گئی ہے۔یاد رہے سنکیانگ رقبے کے لحاظ سے چین کا سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں اولغور مسلمانوں کی اکثریت ہے جو کہ ناراض ہیں اور ترکستان مومنٹ ان کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے۔ افغان جہاد کے دوران یہ لوگ افغانستان آگئے تھے اور طالبان نے بھی انہیں پناہ دی۔طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد یہ لوگ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں منتقل ہوئے جہاں ان کا الحاق القاعدہ اور اسلامک مومنٹ آف ازبکستان سے ہوا۔ ان کے کچھ لوگ بھی فوجی کارروائیوں میں مارے گئے۔یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ پہلے یہاں پرمشرقی ترکستان کے نام سے ایک اسلامی ملک قائم تھا جس پر چین نے قبضہ کر لیا تھا۔وہ سمجھتے ہیں کہ چین نے انہیں برابری کے حقوق نہیں دیے اور ان کے ساتھ کافی زیادتی ہو رہی ہے۔ انھوں نے مسلح جدوجہد شروع کی ہوئی ہے جس کا دائرہ کار اب انھوں نے چین سے بیجنگ تک بڑھا دیا ہے۔انہیں وہاں پر اسلحہ نہیں ملتا لیکن یہ لوگ چاقوئوں کی مدد سے چینی حکام اور اور تھانوں وغیرہ پر حملہ آور ہوتے ہیں۔

مزید : قومی /اہم خبریں