بھارتی فوج نے سو دنوں میں111 شہری شہید ،670بجلی ٹرانسفارمر ناکارہ بنا دئیے

بھارتی فوج نے سو دنوں میں111 شہری شہید ،670بجلی ٹرانسفارمر ناکارہ بنا دئیے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


سری نگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف عوامی احتجاج کی سنچری کے دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں قتل و غارت ،مار دھاڑ ،افراتفری ،اعلانیہ غیر اعلانیہ کرفیوکے دوران کشمیر میں111 شہری شہید ،12730افراد زخمی ،399آنکھوں کی بینائی سے محروم ہونے کے خطرات دوچار ،6900کے قریب نوجوان اور سیاسی کارکن گرفتار ،375 افراد کوپبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت دو سال کے لیے جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے ،640سیاسی کارکن اور نوجوانوں پر سیفٹی ایکٹ لاگو کرنے کیلئے فائلیں ڈپٹی کمشنروں کے میزوں پر ،670بجلی ٹرانسفارمر ناکارہ بنا دئیے گئے ،15ہزار رہائشی مکانوں کی توڑ پھوڑ ،270چھوٹی گاڑیاں ،25بڑی گاڑیاں و ٹریکٹر تباہ ،30موٹر سائیکل ،25اسکوٹر ،15اسکوٹیاں ،3ہائی اسکینڈریاں ،6ہائی اسکول ،7مڈل و پرائمری اسکولوں ،4پنچایت گھروں ،200دھان و گھاس کی گچھیاں ،3ہزار سیب کی پیٹیاں نظر آتش کر دی گئی ،14ہزار کروڑ روپے کے خسارے کا تاجروں کو سامنا کرنا پڑا ،ٹرانسپوٹروں اور سیاحتی شعبے کو اس مدت میں 30ہزارکروڑ کے نقصان سے دوچار ہونا پڑا ۔ 7جولائی سے لے کر 15اکتوبر تک کے 99دنوں میں وادی کے طول و ارض میں قتل و غارت گری ،آگ و آہن ،مار دھاڑ ،افراتفری ،اعلانیہ اور غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کرنے کے دوران وادی کے طول و ارض میں نہ صرف انسانی جانیں ضائع ہوئی ۔
بلکہ کروڑو ں روپے مالیت کی املاک تباہ برباد ہو کر رہ گئی ۔ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 99ویں دنوں کے دوران وادی کے 9اضلاع میں 111نوجوانوں کی جانیں تلف ہوئی ،احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے دوران پولیس و فورسز اور نوجوانوں کے مابین تصادم آرائیوں میں 12ہزار 730افراد زخمی ہوئے جبکہ سرکاری بیان کے مطابق 4ہزار سے زیادہ پولیس وفورسز کے اہلکار بھی احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے دوران سنگباری سے زخمی ہوئے ہیں ۔ 399افراد جن کی آنکھوں میں پیلٹ گولیاں لگی ہیں بینائی سے محروم کے خطرات میں مبتلا ہے ،375سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرنے کے بعد جیلوں کو منتقل کیا گیا ہے جبکہ باوثوق ذرائع کے مطابق 640سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں پر پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرنے کیلئے فائلیں ڈپٹی کمشنروں کے پاس پہنچا دی گئی ہے ۔ آگ و آہن ،افراتفری کے اس کھیل کے دوران 670بجلی کے ٹرانسفارمر ناکارہ ہو کر رہ گئے جبکہ اسی مدت کے دوران آپریشن توڑ پھوڑ میں پولیس و فورسز نے مبینہ طور پر 15ہزار کے قریب رہائشی مکانوں کے شیشے ،کھڑکیاں چکنا چور کئے جبکہ اعداد و شمار کے مطابق ،270چھوٹی گاڑیاں ،25بڑی گاڑیاں و ٹریکٹر تباہ ،30موٹر سائیکل ،25اسکوٹر ،15اسکوٹیاں ،3ہائیر اسکینڈریاں ،6ہائی اسکول ،7مڈل و پرائمری اسکولوں ،4پنچایت گھروں ،200دھان و گھاس کی گچھیاں ،3ہزار سیب کی پیٹیاں نظر آتش کر دی گئیں،14ہزار کروڑ روپے کے خسارے کا تاجروں کو سامنا کرنا پڑا ،ٹرانسپوٹروں اور سیاحتی شعبے کو اس مدت میں 30ہزارکروڑ کے نقصان سے دوچار ہونا پڑا ۔شورش کے 100دن مکمل ہونے کے باوجود صورتحال کو بہتر بنانے ، امن کی فضاء کو قائم کرنے ، اعتماد سازی بحال کرنے کیلئے ابھی تک مرکزی حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کا اشارہ نہیں مل پا رہا ہے ۔ نامساعد حالات کے دوران 3بار وزیر داخلہ ریاست کے دورے پر آئے ،آل پارٹیز ڈیلی گیشن نے بھی کشمیر کا دورہ کیا ،ریاست کی سیاسی پارٹیوں نے بھی نئی دہلی میں حالا ت کو بہتر بنانے کیلئے بھی وزیر اعظم،وزیر داخلہ ،صدر ہند اور تمام سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ملاقات کی ۔بھارتی حکومت نے کئی با ر اس بات کا اعادہ کیا کہ ریاست خاصکر وادی کشمیر میں حالات کو بہتر بنانے کیلئے بات چیت کی جائیگی تاہم 100دن گزرنے کے باوجود امن قائم کرنے ،حالات کو سازگار بنانے ،زندگی کو پٹری پر لانے کیلئے بھارتی حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کا اشارہ نہیں مل پا رہا ہے جس سے اس بات کی عکاسی ہو تی ہے کہ بھارتی حکومت ریاست خاصکر وادی کے لوگوں کو تھکانے کے منصوبے پر عمل کر رہی ہیں ۔

مزید :

عالمی منظر -