4500 سال پرانے اہرام مصر میں چھپی سائنسدانوں کو وہ چیز مل گئی جو آج تک سب سے پوشیدہ تھی

4500 سال پرانے اہرام مصر میں چھپی سائنسدانوں کو وہ چیز مل گئی جو آج تک سب سے ...
4500 سال پرانے اہرام مصر میں چھپی سائنسدانوں کو وہ چیز مل گئی جو آج تک سب سے پوشیدہ تھی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

قاہرہ (نیوز ڈیسک) دنیا کے سات عجوبوں میں شمار ہونے والے اہرام مصر ہزاروں سال سے انسان کے لئے حیرت کا باعث بنے ہوئے ہیں، اور حال ہی میں ہونے والی ایک دریافت سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی پراسراریت کے راز ابھی بھی پوری طرح سامنے نہیں آئے۔ مصر کے اہرام میں سب سے بڑی عمارت گیزا میں واقع خوفو فرعون کا ہرم ہے جس کے اندر تین مختلف مقبرے دریافت ہوئے تھے، مگر حال ہی میں سائنسدانوں نے ریڈیو گرافی سکیننگ کے ذریعے معلوم کیا ہے کہ اس کے اندر دو مزید ایسے مقبرے ہیں جن کے بارے میں آج تک کسی کو پتہ نہیں تھا۔
خوفو کے حرم کی بلندی تقریباً 480 فٹ ہے اور یہ ساڑھے چار ہزار سال قدیم ہے۔ مصری وزارت آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ اب اس بات کی تصدیق کی جاسکتی ہے کہ خوفو کے ہرم کی شمالی جانب سے ایک راہداری اندر جاتی ہے جو شمال مشرقی حصے میں واقع دو مقبروں تک پہنچتی ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک کے جنگل میں نظر آنے والی یہ انسان نما چیز دراصل کیا ہے؟ ایک ویڈیو جس نے تہلکہ برپا کردیا
اس ہرم کے اندر موجود ممکنہ مقبروں کی تلاش کا کام گزشتہ سال اکتوبر میں شروع کیا گیا اور سائنسدان تھرموگرافی، انفراریڈ شعاعوں اور تھری ڈی ری کنسٹرکشن کی مدد سے تحقیقاتی کام میں مصروف تھے۔ مصر کے مشہور ماہر آثار قدیمہ زاہی حواس اور فرانسیسی تحقیق کاروں کی ایک ٹیم ان مقبروں کی تلاش کا کام کررہی تھی۔
ہیری ٹیج انوویشن پریزرویشن انسٹی ٹیوٹ کے صدر مہدی تیوبی نے ڈسکوری میگزین سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تاریخ میں پہلی بار جدید ترین ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے اہرام مصر کے اندر کا مکمل سٹرکچر معلوم کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اہرام مصر میں دو نئے مقبروں کی دریافت آثار قدیمہ کی تاریخ کا ایک اہم باب شمار ہوگا۔ نئے دریافت ہونے والے اندرونی مقبروں کے اندر کیا ہے، اس کے بارے میں تاحال تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم سائنسدان مزید تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -