دعائیں وطن کے پاسبانوں کے لئے

دعائیں وطن کے پاسبانوں کے لئے
دعائیں وطن کے پاسبانوں کے لئے

  


لاہور چھاؤنی میں گیریژن کلب کے پہلو میں آرمی میوزیم کا باقاعدہ افتتاح ہو چکا ہے۔ یہ ایک عظیم الشان عجائب گھر ہے۔

بچوں اور بڑوں دونوں کے لئے ایک چونکا دینے والی جگہ ہے۔ یہ عجائب گھر فوج سے متعلق مختلف عنوانات کے تحت مختلف سیکشنوں میں بٹا ہوا ہے۔ہر سیکشن اعلیٰ جمالیاتی حِس کا مظہر ہے۔

عجائب گھر میں داخل ہوتے ہی سیاہ سنگی دیواروں پر کندہ ان شہداء کے نام درج ہیں جنہوں نے وطن عزیز کی سالمیت کی خاطر اور قوم کی سربلندی کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے تھے۔ 20ہزار شہداء کے ناموں پر مشتمل یہ مکمل فہرست 1947ء سے شروع اور 2016ء پر ختم ہوتی ہے۔ ابھی ان شہداء کے نام درج ہونا باقی ہیں جنہوں نے اس برس یعنی 2017ء میں اپنے عہد کی پاسداری اپنی جان کا نذرانہ دے کر کی ہے۔

شہادت کوئی معمولی امر نہیں ہے۔ یہ تب نصیب ہوتی ہے جب میدانِ کارزار میں بہادری اپنی انتہا کو پہنچتی ہے اور یقینِ محکم کے ساتھ موت کی آنکھ میں آنکھیں ڈال کر شہادت کا درجہ حاصل کرتی ہے۔

شہادت پانے والا تو اپنے ہونٹوں پر تبسم لئے اپنے رب کریم کے حضور اپنی جان کا نذرانہ لے کر پیش ہو جاتا ہے لیکن دکھ اور کرب کی جو کیفیت اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے اس کی شدت شہید کی والدہ ، بہن اور بیوہ ہی محسوس کرسکتی ہے۔ بچے المیے کی سختی کا اگرچہ اندازہ نہیں لگا سکتے تاہم ساری عمر ان کے دل میں انجانی سی پھانس اٹکی رہتی ہیّ البتہ سلام کے لائق وہ باپ ہیں جو کہتے ہیں کہ سو بیٹے بھی ہوں تو وطن پر قربان کر دیں گے۔

میں ابھی تک کیپٹن حسنین شہید کے غم سے باہر نہیں آ سکی۔ جب بھی یہ خیال میرے دل میں آتا ہے میرے آنسو نہیں تھمتے کہ وہ اپنی بیوی سے ویڈیو کال پر باتیں کرتا اور اپنے ننھے بیٹے کی صورت دیکھتا ہوا مقامِ شہادت کی طرف گیا تھا اور اس نصیحت کے باوجود کہ وہاں جانے میں جان کو خطرہ ہے وہ یہ کہہ کر آگے بڑھا کہ وہ اپنے ساتھی کو وہاں چھوڑ نہیں سکتا اور اس نے جام شہادت ہونٹوں سے لگا لیا تھا۔

میں سوچتی ہوں اور حیران ہوتی ہوں کہ میرے وطن کے یہ سپوت جو افواجِ پاکستان کی تشکیل کرتے ہیں کس مٹی سے بنے ہوئے ہیں؟ ہمارے سکھ اور ہماری حفاظت کی خاطر یہ اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کرتے۔

انہیں صلہ کی خواہش ہے نہ ستائش کی تمنا اور جب شہادت پاتے ہیں تو درحقیقت سودا کرتے ہیں ایک خاندان کے دکھ پر اپنی پوری قوم کے سکھ کا۔ بدبخت ہیں وہ لوگ جو وطن عزیز کی قومی سالمیت اور اجتماعی اطمینان کو سیاست کا ثمر گردانتے ہیں۔ یہ لوگ ذاتی مفادات کے گدلے پانیوں والے کنووں میں اندھے مینڈکوں سے مشابہ ہیں اور یہ لوگ اس مقام کا تصور بھی نہیں کر سکتے جو ہماری جری فوج کا ایک عام سپاہی اپنی نگاہوں کے سامنے رکھتا ہے۔

بے شک پاکستانی افواج ہی ملک کی آزادی و بقا اور ترقی و بہبود کی ضامن ہیں۔ بیرونی اور اندرونی خطرات سے نبردآزما ہمارے عسکری جوان سیسہ پلائی دیوار ہیں۔ دہشت گردی کی بیخ کنی کے لئے جس حکمت عملی سے وہ پیش قدمی کر رہے ہیں، یقیناً کامیاب و کامران ہوں گے۔ شب و روز کا کوئی لمحہ نہیں جاتا کہ میرے دل سے ان کے لئے دعائیں نہ اٹھتی ہوں۔ ان ہی کی موجودگی سے میں سکون کی چند گھڑیاں سوتی ہوں اور ان ہی کے ہونے سے ہر وقت اپنے سینے میں قلبی اطمینان پاتی ہوں۔ اللہ پاک ان کا حامی و ناصر ہو۔

مزید : کالم


loading...