چیف جسٹس(ر) اجمل میاں کا انتقال پُرملال

چیف جسٹس(ر) اجمل میاں کا انتقال پُرملال

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس(ر) اجمل میاں83سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔وہ کچھ عرصے سے علیل تھے۔ اُن کے انتقال کی خبر ملتے ہی سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں مقدمات کی کارروائی معطل کرنے کا حکم دیا۔چیف جسٹس(ر) اجمل میاں کو کراچی میں سپردخاک کر دیا گیا۔اُن کے انتقال پر صدر، وزیراعظم،اعلیٰ عدلیہ کے چیف جسٹس صاحبان اور فاضل ججوں کے علاوہ معروف سیاسی اور سماجی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے پسماندگان سے دلی تعزیت کی ہے۔چیف جسٹس(ر) اجمل میاں نے برطانیہ سے قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر پاکستان واپس آ کر شریف الدین پیرزادہ کے چیمبر میں بطور وکیل پریکٹس کرتے رہے۔ اُنہیں 1973ء میں ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔ وہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے۔ نظریۂ ضرورت کے وہ سخت مخالف تھے اور انہوں نے اپنی گفتگو کے ساتھ ساتھ اپنے فیصلے میں بھی نظریۂ ضرورت کے بارے میں اپنی رائے کا کھل کر اظہار کیا۔ جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ کی تعیناتی کے خلاف10رکنی بنچ نے فیصلہ دیا تو اُس وقت چیف جسٹس اجمل میاں سینئر ترین جج سپریم کورٹ تھے،چنانچہ وہ چیف جسٹس مقرر ہو گئے۔انہوں نے نواز شریف کے دور میں فوجی عدالتوں کے قانون کو کالعدم قرار دیا۔وہ دسمبر1997ء سے جون1999ء تک سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رہے،ریٹائرمنٹ کے بعد جب محترم حکیم سعید کو شہید کر دیا گیا تو اجمل میاں کو چانسلر ہمدرد یونیورسٹی مقرر کیا گیا۔ وہ چھ سال تک ہمدرد یونیورسٹی کے چانسلر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ان کی سربراہی میں ہمدرد یونیورسٹی کے معاملات کو بہتر بنایا گیا۔ اجمل میاں بلاشبہ باصلاحیت اور اپنا مؤقف بیان کرنے کے معاملے میں نڈر شخصیت تھے اپنے پورے کیریئر میں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، وکیل سے لے کر چیف جسٹس کے عہدے تک انہوں نے متعدد اہم فیصلوں میں بنیادی کردار ادا کیا۔وہ آئین اور قانون کی بالادستی پر پورا یقین رکھتے تھے،انہیں جو بھی ذمے داری سونپی گئی،اس پر وہ پورے اُترے۔اُن کے انتقال سے شعبۂ قانون اور عدلیہ کے حلقوں میں جو خلاء پیدا ہُوا ہے،وہ برسوں تک محسوس کیا جاتا رہے گا۔دُعا ہے، اللہ تعالیٰ اُنہیں جوارِ رحمت میں جگہ دے اور اُن کے خاندان کو صبر جمیل عطا ہو۔ (آمین)

مزید : اداریہ


loading...