الزامات کی سیاست، جمہوریت کی شامت

الزامات کی سیاست، جمہوریت کی شامت
الزامات کی سیاست، جمہوریت کی شامت

  


آصف زرداری کہتے ہیں کہ انتخابی ماحول بن چکا، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اب الزامات اور جھوٹ کی سیاست مزید تیز ہو جائے گی۔ ہماری انتخابی سیاست میں اور ہوتا کیا ہے۔ کوئی بھی ایشوز اور مسائل کی سیاست نہیں کرتا سب کا زور دوسرے کی پگڑی اتارنے پر صرف ہوتا ہے ابھی سے یہ حال ہے کہ عمران خان، زرداری اور نوز شریف کو نہیں بخشتے اور زرداری عمران خان اور نواز شریف کے خلاف توپیں سیدھی کئے ہوئے ہیں،رہے نواز شریف تو انہوں نے ان دونوں کو نظرانداز کر کے فوج اور ججوں کو نشانے پر لیا ہوا ہے، ظاہر ہے انہوں نے اپنی جماعت کو اگلا الیکشن بھی اسی نکتے پر لڑوانا ہے کہ ہمیں جمہوریت قائم رکھنے کی سزا دی گئی۔ سویلین برتری کو ختم کرنے کے لئے مجھے نشانہ بنایا گیا وغیرہ وغیرہ دنیا بھر میں انتخابی سیاست ہوتی ہو گی، کیا وہاں بھی عوام کو ایک ڈرامائی صورتحال پیدا کر کے بے وقوف بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

عمران خان بڑھک مارتے ہیں کہ زرداری ملک کا سب سے بڑا ڈاکو ہے اور زرداری کہتے ہیں، جعلی خان عوام کو دھوکہ دے رہا ہے ۔ نواز شریف پر تو آج کل ہر قسم کی تہمتیں لگائی جا رہی ہیں، مولانا فضل الرحمان اور اسفند یار ولی کو بھی سنسنی خیزی کے لئے مختلف خطابات دیئے جاتے ہیں اور ماحول کو اس طرح گرمایا جاتا ہے، جیسے سٹیج ڈرامے میں جگت باز گرماتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں ہماری سیاست کی اصل خرابی یہی ہے کہ اس میں شخصیات کو تنقید کا نشانہ بنا کے عوام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، روزانہ کے اخبارات دیکھیں یا ٹی وی چینلز کے خبرناموں کو سُنیں، آپ کو پھکڑ پن کی کئی جگہ انتہا نظر آئے گی، ٹی وی چینلز کا نیوز ایڈیٹر خبر بناتے ہوئے جب یہ اضافہ کر دے کہ آج عمران خان نے نواز شریف کو کھری کھری سنا دیں یا آصف زرداری نے نواز شریف پر تابڑ توڑ حملے کئے تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ خبریت کا معیار کیا چل رہا ہے۔ لگتا یہی ہے کہ ہم سب سنسنی خیزی کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔

انتخابی مہم تو گویا اس کے بغیر چلتی ہی نہیں سو اب کیا کیا جائے، یہ انتخابی مہم تو بہت لمبی چلے گی، اگر آصف زرداری نے کہہ ہی دیا ہے کہ انتخابی ماحول بن چکا ہے تو پھر اوپر سے لے کر نیچے تک اس ماحول کے اثرات جائیں گے ہر کوئی اپنے اپنے طبلے سارنگیاں لے کر میدان میں آ جائے گا۔ وہ اودھم مچے گا کہ الامان الحفیظ ، اس شور شرابے میں سب کچھ ہو گا مگر عوام سے وعدے غیر اہم ہو جائیں گے، منشور نامی کوئی شے سامنے نہیں آئے گی۔ بڑے بڑے دعوے اور بلند بانگ باتیں سننے کو ملیں گی۔ جلسوں میں ایک دوسرے کی درگت بنائی جائے گی۔ یوں الیکشن کا ماحول پروان چڑھے گا اور جمہوریت کے نئے روزن ہی کھولے جائیں گے۔

جمہوریت میں عوم کی رائے کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے اور ووٹ کو عوام کی رائے کا سب سے اہم ذریعہ شمار کیا جاتا ہے۔ اس ووٹ کے تقدس کو یقینی بنانے کے لئے سیاسی جماعتیں کبھی متفق نہیں ہوتیں، متفق ہونے سے مراد یہ نہیں کہ کاغذوں میں سب اچھا کے منصوبے بنا دیئے جائیں بلکہ عملی طور پر وہ عہد کریں کہ انتخابات کو شفاف رکھنے کیلئے ہر حد تک جائیں گے اور اپنے کسی ایسے امیدوار کی حمایت نہیں کریں گے جو دھاندلی کا ارتکاب کرے گا۔ یہ تو کرنا نہیں البتہ الیکشن اصلاحات کے انبار ضرور لگانے ہیں سیاسی جماعتیں اگر صرف اتنا ہی کر لیں کہ انتخابات پر اخراجات کی جو حد الیکشن کمیشن نے مقرر کر رکھی ہے، اس کا اپنے امیدواران کو پابند کر دیں تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

ووٹ خریدنے کے کلچر کو سختی سے ممنوع قرار دے دیں اور جو امیدوارایسا کرتا پکڑا جائے تو اسے پارٹی سے نکال دیں اور ٹکٹ بھی منسوخ کریں ۔ جہاں جہاں جمہوریت مضبوط ہوئی ہے، وہاں عوام کی رائے کو ہر حال میں فطری اور حقیقی رکھنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے کیونکہ اگر آپ مصنوعی ہتھکنڈوں اور دھاندلی سے عوام کی رائے کے برعکس مینڈیٹ لے کر آ جاتے ہیں ، تو وہ کسی صورت بھی جمہوریت کو مضبوط نہیں کر سکتا، کیونکہ آپ ایسا مینڈیٹ لینے کے بعد من مانی کرتے ہیں، عوام کے اصل مسائل پر توجہ نہیں دیتے اور یوں عوام اس سسٹم سے مایوس ہونے لگتے ہیں، جو بظاہر اپنی حکومت سے تشکیل پایا ہوتا ہے۔

میں چشم تصور سے دیکھ رہا ہوں کہ اس بار انتخابات ایشوز کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک دوسرے پر سنگین الزامات کی چھتری تلے منعقد ہوں گے۔ یوں تو اس مرتبہ ایک بہت بڑا ایشو کرپشن کا بن سکتا ہے کیونکہ پچھلے چار پانچ برسوں میں سارا ذکر ہی اس کا ہوا ہے۔ خود نواز شریف کی نا اہلی بھی اس زمرے میں آتی ہے۔ مگر لگتا نہیں کہ اس بنیاد پر سیاسی و انتخابی مہمات چلائی جائیں۔ اس کی بجائے کردار کشی کا راستہ اختیار کیا جائے گا ۔ چور چور اور ڈاکو ڈاکو کی صدائیں زیادہ سنائی دیں گے۔ پچھلا الیکشن تو لوڈشیڈنگ کے نام پر ہوا تھا تاہم موجودہ الیکشن میں یہ ایشو زیر بحث نہیں آئے گا کیونکہ بڑی حد تک لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی۔ جیسا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت یہ کریڈٹ لے رہی ہے۔

ممکن ہے وہ اپنی مہم بھی اس نکتے پر چلائے لیکن دوسری طرف پاناما کیس کی وجہ سے کرپشن ایک اتنا بڑا الزام بن کر شریف فیملی کے ساتھ چیک گئی ہے کہ باقی ساری چیزیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ عمرا ن خان کے پاس ایک نعرہ ہے، نیا پاکستان، لیکن وہ خالی نئے پاکستان کی بات نہیں کر سکتے جب تک وہ ساتھ نواز شریف کی کرپشن کا تڑکا نہ لگائیں وہ یہ ضرور کہیں گے کہ نیا پاکستان اس وقت تک ممکن نہیں جب تک نواز شریف جیل نہیں جاتے یا لوٹا ہوا مال واپس نہیں لاتے۔ ملک میں اس وقت بھی بھرپور الزاماتی فضا ہے آج ہی میں ایک خبر پڑھ رہا تھا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وزراء کو فوج اور عدلیہ کے خلاف بیان دینے سے روک دیا ہے ایسا ہے تو بڑی اچھی بات ہے۔ ساتھ ہی وزیر خارجہ احسن اقبال کا بیان پڑھنے کوملا کہ تیلی لگانے والوں کو مایوسی ہو گی۔ فو ج کے ساتھ حکومت کے کوئی اختلافات نہیں دونوں ایک پیج پر ہیں۔ اب اگر کوئی ہماری سیاست کی کہہ مکرنیوں سے واقف نہ ہو تو اس قسم کے بیانات پر سر پکڑ کر بیٹھ جائے۔ اللہ کے بندے ایک طرف آپ کہتے ہیں ریاست کے اندر ریاست نہیں چلے گی، آئی ایس پی آر کے ڈی جی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ معیشت پر بات کرے اور دوسری طرف سول و عسکری قیادت میں سو فیصد معاملات پر اتفاق رائے کا اعلان کرتے ہیں۔ حیرانی اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ وزارت جیسے بڑے منصب پر فائز ہو کر بھی احتیاط کا دامن کیوں ہاتھ سے چھوڑے رکھتے ہیں جہاں ایک ایک لفظ کی قدر و منزلت ہو وہاں یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ منہ میں جو آئے کہتے چلے جائیں۔

بحث یہ بھی چل رہی ہے کہ جمہوریت کو خطرہ ہے یا نہیں، فوج کے ترجمان نے تو کہہ دیا کہ جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں، کم از کم فوج جمہوریت پر شب خون مارنے کا دور دور تک کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ البتہ خطرہ ہے تو ان غیر جمہوری رویّوں سے جو جمہوریت کے نام پر روا رکھے جارہے ہیں انہی رویوں میں ایک رویہ الزامات کی سیاست کو عام کرنا بھی ہے۔ شُستگی اور بردباری اگر سیاست سے نکل جائیں تو وہ پھکڑ پن کی آما جگاہ بن جاتی ہے۔ آج کل سیاست کا حال کچھ ایسا ہی ہے۔

ملک بے شمار مسائل میں گھرا ہوا ہے، ایک سے بڑھ کر ایک مسئلہ درپیش ہے۔ سیاست کو ان مسائل کے گرد گھومنا چاہئے نہ کہ وہ گلی محلے کی ان لڑائیوں جیسی ہو جائے جو خواتین کے درمیان ہوتی ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ تمام سیاسی جماعتیں انتخابات سے پہلے ایک جگہ مل بیٹھیں اور الیکشن مہم کا کوئی ضابطہ اخلاق مرتب کریں۔ انتخابی مہم کو اگر بے لگامی سے بجا کر کسی ضابطے اور اخلاقی اقدار کے تحت کر دیا گیا تو اس کے ہماری سیاست و جمہوریت پر مثبت اثرات پڑیں گے اور عوام کو اچھے نمائندے چننے میں بھی آسانی رہے گی۔

مزید : کالم


loading...