شہید ملت نے شدید مالی مشکلات کے باوجود ملک کا پہلا بجٹ منافع کا دیا تھا

شہید ملت نے شدید مالی مشکلات کے باوجود ملک کا پہلا بجٹ منافع کا دیا تھا

پہلے ذکر قوم کے اس محسن کا جو ملک کا پہلا منتخب وزیراعظم بھی تھا اور قائداعظم ؒ کا دست راست بھی جو مسلمانان ہند کا قائداعظمؒ کے بعد سب سے زیادہ مقبول عام قومی رہنما تھا، جس نے قیام پاکستان کے حصول کی تاریخ ساز جدوجہد میں اپنی دولت صرف کی،جس نے مال کے بعد اپنی جان بھی پاکستان پر قربان کر دی، جس نے کہا تھا کہ مَیں اپنی ساری دولت اور جاگیر پاکستان کی خاطر ہندوستان میں چھوڑ کر آ گیا ہوں۔’’میرے پاس یہاں کوئی ذاتی گھر ہے، اور نہ ہی کوئی دولت، ایک جان ہے۔ وہ پاکستان پر قربان کر دوں گا‘‘۔

شہید ملت خان لیاقت علی خان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کا قائداعظمؒ کو برطانیہ سے واپس ہندوستان آ کر مسلم لیگ کی قیادت کرنے پر راضی کرنے میں اہم کردار تھا۔وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے مسلم لیگ کے صدر قائداعظمؒ کے بھی متفقہ رہنما تھے انہیں قائداعظمؒ نے آل انڈیا مسلم لیگ کی پارلیمانی کمیٹی کی منظوری کے بعد نئی مملکت کے لئے وزیراعظم نامزد کیا تھا۔ دستور ساز اسمبلی میں مسلم لیگ کے سو فیصد ارکان نے انہیں مُلک کا پہلا منتخب وزیراعظم بنایا تھا۔کیسی بدقسمتی ہے کہ آج جب پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم کی66ویں برسی منا رہے ہیں، تو وفاق میں اور پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ پنجاب اور رقبہ کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبہ بلوچستان میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہے ، مگر سرکاری طور پر ایوان صدر یا ایوان وزیراعظم یا پنجاب کے وزیراعلیٰ ہاؤس یا بلوچستان کے وزیراعلیٰ ہاؤس میں اس حوالے سے کسی تقریب کا اہتمام نہیں کیا گیا ہے۔ شہید ملت خان لیاقت علی خان دوسرے وزرائے اعظم کی طرح محض ایک وزیراعظم نہیں تھا، جسے اس طرح فراموش کر دیا جائے۔ وہ مسلمانانِ ہند کی طویل اور صبر آزما تاریخ ساز کامیاب سیاسی جدوجہد کا روشن ستارہ ہے۔وہ ایسا وزیراعظم تھا جس کی دیانت و امانت بھی مسلم تھی،جس کا اندازِ حکمرانی بھی اپنے حلف کے عین مطابق قواعد و ضوابط کے اندر رہ کر امورِ مملکت انجام دینے والے آئین اور قانون کے تقاضوں کی پابندی کرنے والے وزیراعظم کا تھا۔ بقول جنرل (ر) شیر علی(مرحوم) کے جس کا ذکر انہوں نے اپنی تحریری یاد داشتوں میں کیا تھا کہ وزیراعظم خان لیاقت علی خان ایسا چابک دست حکمران تھا جو گھوڑے کی لگام کو تھام کر اس پر چڑھنے اور اُترنے میں کمال درجہ کی مہارت رکھتا تھا۔ لیاقت علی خان نے ہندوستان کی عبوری حکومت میں وزیر خزانہ کی حیثیت سے غریب پرور عوام دوست بجٹ پیش کر کے ’’باگ‘‘ پر گرفت مضبوط رکھنے کی صلاحیت کا عملی ثبوت پیش کر کے دکھا دیا تھا۔قیام پاکستان کے بعد شدید مالی مشکلات کے باوجود قائداعظمؒ کی قیادت میں قائم ہونے والی خان لیاقت علی خان کی کابینہ نے ملک کا پہلا ’’سر پلس‘‘ بجٹ (خسارہ کے بغیر) پیش کر کے پاکستان کو چھ ماہ میں ختم ہونے کی پیشین گوئی کرنے والوں کے خواب چکنار چور کر دیئے تھے۔شہید ملت لیاقت علی خان نے روزِ اول سے ہی اپنی حکومت کی ترجیحات میں اپنی چادر کے مطابق پاؤں پھیلانے کی پالیسی کا تعین کر کے خود انحصاری کی منزل حاصل کرنے کا نصب العین اختیار کیا تھا جس کی وجہ سے وزیراعظم خان لیاقت علی خان جب امریکہ کے سرکاری دورہ پر گئے تو انہوں نے کسی ایک خطاب میں بھی ایسا تاثر نہیں دیا کہ وہ پاکستان کے لئے کوئی مالی امداد حاصل کرنے کی خاطر امریکہ آئے ہیں۔انہوں نے امریکی کانگرس سے خطاب میں بھی اور امریکہ کی تعلیمی درس گاہوں اور امریکہ کے نیشنل پریس کلب میں جہاں بھی خطاب کیا ہر جگہ خطاب کا موضوع ایک ہی رہا کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے الگ وطن حاصل کرنے کے لئے اتنی طویل جدوجہد کیوں کی؟ اور پاکستان کی ریاست کے پیش نظر جو مقاصد ہیں وہ کیا ہیں؟ تب ہی تو پاکستان کے پہلے وزیراعظم کی طرح کا استقبال بعد میں آنے والے کسی حکمران کو نصیب نہیں ہوا،وزیراعظم لیاقت علی خان کراچی سے براستہ لندن ایک مختصر وفد کے ساتھ امریکہ کے لئے روانہ ہوئے تھے، لندن سے امریکہ لے کر جانے کے لئے صدر امریکہ کا خصوصی طیارہ آیا تھا۔ امریکی ایئر پورٹ پر صدرامریکہ اپنی پوری کابینہ کے ساتھ لیاقت علی خان کا استقبال کرنے کے لئے موجود تھے، حالانکہ امریکہ میں سربراہان کا ایئر پورٹ پر استقبال سرکاری اہلکار کرتے ہیں اور صدر امریکہ ایوان صدر میں مہمان کا خیر مقدم کیا کرتے تھے۔ وزیراعظم خان لیاقت علی خان نے امریکی کانگریس اور امریکی یونیورسٹی میں اور امریکہ کے نیشنل کلب میں جو خطاب کیا اس پر اُس وقت کے انٹرنیشنل میڈیا کی گواہی تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ ہے۔ وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خان کا خطاب کسی حکمران سیاست دان کا خطاب نہیں، بلکہ مستقبل کی گہری بصیرت رکھنے و الے اسٹیٹس مین (مدبر) حکمران کا خطاب تھا ۔

آج ضرورت ہے کہ بان�ئ پاکستان کی وہ تمام تقاریر ، پیغامات اور خطوط، جو بحیثیت گورنر جنرل پاکستان تھے ان کی قومی اور تمام صوبوں کی علاقائی زبانوں میں شامل کر کے سکول کی سطح سے ہی بچوں کو پڑھنے کی طرف راغب کیا جائے اور اسی طرح پہلے وزیراعظم کی تقاریر بھی شائع کرنے کی ضرورت ہے۔

گزشتہ ہفتے کراچی میں مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ اور ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان کے باہمی اشتراک سے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے جو سیمینار ہوا تھا اس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے کلیدی خطاب میں جو نکات اٹھائے تھے اس سے کوئی ذی ہوش انکار نہیں کر سکتا ہے۔ خصوصاً بڑھتے ہوئے ہوش ربا قرضوں کے بوجھ کے حوالے سے جو کہا گیا ہے وہ پاکستان کی معیشت کے زمینی حقائق کے مطابق ہے۔ خدا کا شکر ہے سول اور عسکری قیادت کی بروقت کوشش سے وہ طوفان تھم گیا جو برپا ہو گیا تھا، ضرورت اِس امر کی ہے کہ اس کو پبلک فورم کی بجائے ریاست کے تمام اداروں کو اپنے اپنے طور پر بھی اور تمام کو باہم مل کر بھی ادارہ جاتی سطح پر تھنک ٹینک میں نہایت سنجیدگی اور کشادہ ظرفی کے ساتھ ان اسباب و علل کا جائزہ لیا جائے کہ 1947ء سے لے کر1958ء تک کے تمام قومی بجٹ اپنے محدود وسائل کے باوجود بغیر کسی خسارہ کے تھے، تو اس کی ’’کلید‘‘ کیا تھی اور 1958ء کے بعد سے یہ ملک اگر بیرونی قرضوں کے چنگل میں دھنستا چلا جا رہا ہے تو اس کے بنیادی اسباب کیا ہیں؟ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ 1958ء میں غیر ملکی قرضوں کا بوجھ نہ ہونے کے برابر تھا، جبکہ ملکی قرضوں کا حجم بھی صرف کروڑوں روپیہ کا تھا۔ 1964ء میں اس نامہ نگار نے نشتر پارک میں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے منہ سے سُنا تھا کہ انہوں نے مرحوم جنرل ایوب خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تم نے یہ کیا کہ سات ارب روپے کا غیر ملکی قرض کا بوجھ پاکستان پر لاد دیا ہے۔مادرِ ملت نے کہا تھا کہ ہم نے تو خود انحصاری کی منزل حاصل کرنے کے لئے اپنے محدود وسائل کے باوجود قیام پاکستان کے ایک سال کے اندر اندر پاکستانی سرمایہ سے ولیکا جی جیسی ٹیکسٹائل ملز کا سنگ بنیاد قائداعظم نے اپنے ہاتھوں سے رکھ دیا تھا۔ ہم نے ایک سال کے اندر اپنا اسٹیٹ بینک قائم کر لیا تھا۔ سول اور فوجی ملازمین کو تنخواہوں بھی ایک دن کی تاخیر کے بغیر ادا کیں۔ اس بحث سے قطع نظر پاکستان پر اتنے بھاری قرضوں کے بوجھ کے اسباب کیا ہیں اہم بات یہ ہے کہ جنرل ایوب خان کے دور کو بے حد ملکی ترقی کا دور کہا جائے تو غلط نہ ہو گا اور اس وقت صنعتی ترقی کی جو رفتار تھی اس کو دیکھتے ہوئے قرضوں کا حجم بھی غیر معمولی نہ تھا ۔ پاکستان پر1988ء تک بھی ملکی اور غیر ملکی قرضوں کا حجم ایسا نہ تھا جسے ہوش ربا کہا جا سکے۔ البتہ 1947ء سے1988ء تک جتنے قرضے تھے وہ 1999ء تک ڈبل ہو کر 3000ڈالر سے کچھ تجاوزکر گئے تھے،جنرل پرویز مشرف کے دور میں ڈبل ہو کر غیر ملکی قرضوں کا حجم دوگنا ہو کر6000ڈالر سے تجاوز کر گیا تھا۔ اسی عرصے میں بڑے پیمانے پر سرکاری کنٹرول میں موجود بینکوں سمیت دیگر مالیاتی اداروں، صنعتوں اور سرکاری جائیدادوں کی نجکاری کی گئی،جس کو سرکاری وسائل کی بندر بانٹ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ قرضوں کا یہ حجم آصف علی زرداری کے دورِ حکومت میں ڈبل ہو کر 12ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔اس مسلم لیگ(ن) کی موجودہ چار سالہ دور میں 2013ء کے مقابلے میں جو قرضے تھے اس سے بھی ڈبل ہو گئے، تشویش کی بات تو ہے، مگر زمینی حقائق یہ نہیں، اس کی ذمہ داری موجودہ حکومت کے دور میں قرضے کا حجم بلاشبہ آسمان کی بلندیوں کو چھو گیا ہے،مگر زمین پر کام ہوتا ہوا بھی نظر آ رہا ہے۔ دیانت داری کا تقاضہ ہے پہلے ان کا احتساب کر لیا جائے،جنہوں نے سرکاری اداروں کی نجکاری کر کے لوٹ مار میں صرف بندر بانٹ کی ہے۔اِس حوالے سے سب سے بدتر دور جنرل پرویز مشرف کی حکومت کا دور ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ1958ء کے بعد سے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف میں ملازمت کرنے والے ہمارے ملک کے وزیر خزانہ بن کر عالمی ساہو کاروں کے ریکوری منیجر کا کردار ادا کرتے رہے ہیں،جس نے ہماری معاشی تباہی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اس پر بھی تو کوئی توجہ دے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...