ورجینیامیں مسلمان لڑکی نبرہ حسنین کا قتل، ملزم پر فردِ جرم عائد

ورجینیامیں مسلمان لڑکی نبرہ حسنین کا قتل، ملزم پر فردِ جرم عائد

واشنگٹن (این این آئی)سترہ برس کی نبرہ حسنین کی عصمت دری اور قتل کے الزام پر ایک شخص پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے، جس واقع پر ورجینیا کی مسلمان برادری میں تشویش پائی جاتی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق فیرفیکس کاؤنٹی کے ایک گرینڈ جیوری نے 22 سالہ ڈارون مارٹینز ٹورس پر الزامات عائد کیے، جن پر نبرہ کی ہلاکت اور باسکیٹ بال بیٹ کے ساتھ اْن کی سہیلیوں کو پیٹنے کا الزام ہے۔رمضان میں نماز عشا کے بعد نبرہ اور اْن کی چند نو عمر سہیلیاں اسٹرلنگ کے علاقے میں واقع ایک مسجد سے نکل کر کھانے کے لیے باہر نکلی تھیں، جب نبرہ حسنین کو اغوا کر لیا گیا۔کچھ گھنٹے بعد اْن کی لاش ورجینیا کے علاقے اسٹرلنگ کے ایک تالاب سے برآمد ہوئی۔سنائے جانے والے اس فیصلے سے پتا چلتا ہے کہ حکام کا گمان ہے کہ نبرہ کے قتل سے پہلے اْن کے ساتھ جس جنسی زیادتی کی گئی تھی۔ریاست ورجینیا میں کچھ معاملات میں وکلائے استغاثہ موت کی سزا تجویز کرتے ہیں، اگر یہ طے ہوجائے کہ یہ قتل عمد کا معاملہ ہے۔ مقدمے کی کارروائی کچھ دیر کے لیے اْس وقت مؤخر ہوئی جب نبرہ کے والدین کیجذبات قابو سے باہر ہوگئے۔عینی شاہدین کی اطلاع کے مطابق اْن کے والد، محمود نے کہا کہ تم نے میری بچی کو ہلاک کیا جب کہ اْن کی والدہ سوزن غزار نے ٹورس کو جوتا دے مارا؛ جس پر پولیس نے والدین کو سماعت سے باہر بھیج دیا اور عدالتی کارروائی ایک نجی کمرے میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

مزید : عالمی منظر


loading...