ہزاروں سال بعد سونے کی تیاری کا راز سامنے آگیا

ہزاروں سال بعد سونے کی تیاری کا راز سامنے آگیا

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)سونا کیسے بنتا ہے، یہ وہ راز ہے جو ہزاروں برسوں سے کیمیا دانوں کی توجہ کا مرکز ہے اور اب آخر کار سائنسدانوں نے اس معمے کو حل کرلیا ہے۔یہ قیمتی دھات درحقیقت دو نیوٹرون ستاروں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں وجود میں آئی۔یہ ستارے آپس میں ٹکرا کر کائنات میں پھیل گئے اور بتدریج دیگر بڑے ٹھوس اجسام کے ساتھ جڑتے چلے گئے جیسے سیارے یا ستاروں کے جھرمٹ وغیرہ۔اس سے پہلے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ اس طرح کا خلائی تصادم بڑے پیمانے پر توانائی پیدا کرتا ہے جو کہ سونے، پلاٹینیم اور چاندی کی تیاری کے لیے ضروری ہے مگر اب پہلی بار جانا گیا ہے کہ یہ کیسے ہوتا ہے۔سترہ اگست کو امریکا سے تعلق رکھنے والے خلاء بازوں نے 130 ملین سال قبل ایک دوسرے سے ٹکرانے والے دو ستاروں کے تصادم کے سگنل کو پکڑا تھا۔اس تصادم کا دھچکا اتنا طاقتور تھا کہ اس نے نہ صرف خلاء کو ہلا دیا بلکہ وقت میں کشش ثقل کی لہریں بھی پیدا کیں۔جب یہ لہریں زمین پر سائنسدانوں نے پہچانی تو دنیا بھر کے خلاء بازوں نے اپنی دوربینوں کا رخ خلاء میں کردیا تاکہ جان سکیں کہ اس کی وجہ کیا ہے اور بہت جلد ہی انہوں نے تصادم کے نتیجے میں پیدا ہونے والی چمک کو دیکھا۔

۔اس رشنی کے اندر انہوں نے وہ کیمیائی نشانات دیکھیں جو کہ سونے، چاندی اور پلاٹینیم میں دیکھنے میں آتے ہیں۔یورپین سدرن آبزرویٹری کے سائنسدانوں نے سب سے پہلے دیگر افراد کو الرٹ کیا تھا کہ وہ ایک نیا ایونٹ دیکھنے والے ہیں۔واروک یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جوئی لیمین کے مطابق ہم نے ایسے عمل کو دیکھا جو انتہائی جوہری ردعمل سے پیدا ہونے والی روشنی جیسا ہوتا ہے اور اس نے ہمیں بتایا کہ بھاری دھاتیں جیسے سونا یا پلاٹینیم درحقیقت ان ستاروں کے اربوں ذرات میں سے ایک ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...