سرسید احمد خان دوقومی نظریے کے زبردست داعی تھے،رفیق تارڑ

سرسید احمد خان دوقومی نظریے کے زبردست داعی تھے،رفیق تارڑ

لاہور(پ ر) سرسید احمد خان مسلمانان برصغیر کے جداگانہ تشخص اور دوقومی نظریے کے زبردست داعی تھے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد انہوں نے مسلمانوں کے مفادات کی بڑی جرأت سے وکالت کی ۔ سرسید احمد خان کا ایک اہم ترین کارنامہ مسلمانان ہند کو جدید تعلیم کی طرف راغب (بقیہ نمبر45صفحہ12پر )

کرناہے۔ آپ بیک وقت مصلح‘ رہنما‘ مصنف اور ماہر تعلیمات تھے۔ ان خیالات کااظہار مقررین نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان ،لاہور میں جدوجہد آزادی کے عظیم رہنما سرسید احمد خان کے 200سالہ جشن ولاوت کے موقع پر منعقدہ ’’یوم سرسید احمد خان‘‘ کی خصوصی تقریب کے دوران کیا۔ تقریب کا اہتمام نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ اس موقع پر تحریک پاکستان کے کارکن و نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد ، چیئرمین تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ چیف جسٹس(ر) میاں محبوب احمد، ممتاز صحافی و دانشور مجیب الرحمن شامی،چیف کوآرڈی نیٹر نظریۂ پاکستان ٹرسٹ میاں فاروق الطاف، کالم نگار افضال ریحان، تحریک پاکستان کے کارکن کرنل(ر) محمد سلیم ملک، پروفیسر ڈاکٹر پروین خان، بیگم صفیہ اسحاق، ہمایوں زمان مرزا، نواب برکات محمود، انعام الرحمن گیلانی، نوازش علی بٹ، اساتذۂ کرام اور طلباء سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کثیر تعدادمیں موجود تھے۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک ‘ نعت رسول مقبولؐ اور قومی ترانے سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت عمیر آصف نے حاصل کی جبکہ اعجاز احمد اویسی نے بارگاہِ نبویؐ میں ہدیۂ عقیدت پیش کیا ۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے انجام دیے۔ تحریک پاکستان کے مخلص کارکن ،سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان و چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ نے کہا کہ سرسید احمد خان انگریزوں کے دور غلامی میں مسلمانان برصغیر کی زبوں حالی سے بہت پریشان تھے۔ انگریزوں اور ہندوؤں کا مقابلہ کرنے کیلئے انہوں نے مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف راغب کیا۔سرسید احمد خان نے علمی تحریک کے ذریعے تحریک پاکستان کے کارکنوں کی تعلیم یافتہ کھیپ تیار کی جنہوں نے اس تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔سر سید احمد خان کی خواہش تھی کہ مسلمان اپنا اسلامی تشخص برقرار رکھتے ہوئے جدید علوم حاصل کریں۔دین کے ساتھ ساتھ دنیا کی جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی حاصل کریں اور اس کا مثبت و صحیح استعمال کریں۔چیف جسٹس(ر) میاں محبوب احمد نے کہا کہ سرسید احمد خان نے انفرادی کے بجائے مسلمانان برصغیر کے اجتماعی مفادات کی حفاظت کی۔ دین اسلام بھی ہمیں اجتماعیت کا درس دیتا ہے۔ نئی نسل سرسید کی حیات وخدمات کا مطالعہ کرے اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جہد مسلسل کو اپنا شعار اور جدید علوم کے حصول کی طرف توجہ دے۔ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ سرسید کا سب سے بڑا کارنامہ مسلمانوں کی غلامی کے دور پامردی سے مقابلہ کرنا تھا۔ انہوں نے مسلمانان ہند کو آزادی دلوانے کیلئے حالات پیدا کیے۔ مسلمانوں کی اصلاح و بیداری کے لئے سرسید احمد خان کی تعلیمی تحریک دوررس اور نتیجہ خیز ثابت ہوئیں۔ مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ آج سرسید احمد خان کا 200واں یوم ولادت ہے۔نئی نسلوں کو سرسید احمد خان کی حیات وخدمات اور افکارونظریات سے آگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔ درحقیقت اگر سرسید اور ان کی فکر نہ ہوتی تو تحریک پاکستان اتنے بڑے پیمانے پر نہ چل سکتی ۔

سرسید احمد خان

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...