صنفی مساوات پاکستان کی ترقی کیلئے نا گزیر ہے ،ممتا ز تارڑ

صنفی مساوات پاکستان کی ترقی کیلئے نا گزیر ہے ،ممتا ز تارڑ

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)پلان انٹر نیشنل، بطور عالمی اقدام اور اس کے زیر اثر کمپین "کیونکہ میں ایک لڑکی ہوں "میں نوجوان لڑکیوں کی رہنمائی کرناچاہا ہے تاکہ وہ سیاسی ،معاشی اور سماجی شعبوں میں قائدانہ کردا رادا کر سکیں ،یہ اقدام لڑکیوں کی رہنمائی اور لڑکیوں کی بہتری کے موضوع " لڑکیوں کے حقوق کی تحریک اور اس سلسلے میں اقدامات کے لیے دوسروں میں عملی جذبہ بیدار کریں ۔پیرو سے جاپان تک دنیا بھر میں لڑکیوں نے وزرائے اعظم ،میئرز اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدوں کو علامتی طور پر سنبھالا اور اسی پر اس سال کا لڑکیوں کا بین ا لاقوامی دن منایا جا رہا ہے ۔ساٹھ سے زائد ممالک میں چھ سو سے زائد عہدوں کو سنبھالنے کے اس عمل سے لڑکیوں نے امتیازی سلوک اور تعصب کے خلاف سیاسی اور سماجی انقلاب کا تقاضہ کیا ہے جن کی وجہ سے وہ نجی اور سرکاری شعبہ میں پیچھے تھی ۔اس سلسلے میں پاکستان نے چار لڑکیوں نے وزارت انسانی حقوق ،اقوام متحدہ ہیڈ آفس ،آئی جی پولیس / اسلام آباد آفس اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ؔ ٹیلی نار میں اہم عہدوں کی زمہ داریاں سنبھالیں۔ عا لمی سطح پر عہدے سنبھالنے کے ساتھ ساتھ پلان انٹر نیشنل پاکستان وزارت انسا نی حقوق حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر ایک عالمی رپورٹ" لڑکیوں کی صلاحیتوں کا فروغ ہے "سترہ اکتوبر 2017 کو جاری کی ہے ۔ یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ حالات اور صلاحیتیں کچھ بھی ہوں لڑکیوں کو معاشرے میں پیچھے دھکیلا گیا ہے فرسودہ مفروضوں کا مقابلہ کیسے کر سکتی ہیں۔اس رپورٹ میں زو ر دیا گیا ہے کہ گھروں ، سکولوں اور معاشرے میں ہر جگہ لڑکیوں کو مواقع فراہم نہیں کیے گئے ان کو سنا جائے اور توجہ دی جائے۔ یہ صنفی عدم مساوات معاشرے کے ہر حصے میں موجود ہے اور ہمارے سیاسی نظام لڑکیوں اور نوجوان عورتوں سے امتیازی سلوک کرتے ہیں ۔اس موقع پر پلان انٹرنیشنل کی چیف ایگزیکٹو آفیسر این بیرگٹ البرکٹسنی نے کہا کہ دنیا بھر میں لڑکیوں کو اپنی ترقی اور خوابوں کی تعبیر میں ایک فرضی دیوار کا سامنا ہے اور اکثر ان کو اپنے فیصلوں اور انتخاب میں کوئی اختیار نہیں ہوتا ۔ Girls take over اقدام لڑکیوں کے اختیار اور صلاحیت کا ایک منفرد موضوع ہے ۔کنٹری ڈیریکٹرپلان انٹر نیشنل پاکستان عمران یوسف شامی نے کہا کہ جب لڑکیوں کو زندگی میں مساوی مواقع ملتے ہیں تو ہی وہ اپنی زندگیاں اور معاشرے بہتر بنا سکتیں ہیں۔ امشال جاوید جو کہ اسلام آباد کی رہائشی ہے نے وزارت انسانی حقوق میں سیکریٹری کی پوزیشن سنبھالی اس نے کہا کہ میں دنیا کو بتانا چاہتی ہوں کہ ،اس کی نسل ،مذہب ،ثقافت ،یا صلاحیت کچھ بھی ہو اپنے خوابوں کی تکمیل کا اختیا رکھتی ہے۔ 17 اکتوبر کو پلان انٹرنیشنل پاکستان نے حکومت اور میڈیا میں عالمی سطح کے حقوقِ نسواں کے کارکنوں کو صنفی مساوات پر بہتر انداز سے عمل درآمد کے لیے اسلام آباد میں مدعو کیا ۔ اس موقع پر عزت مآب جناب وزیر انسانی حقوق ممتاز احمد تارڈ نے کہا کہ " پاکستان کی ترقی کے لیے صنفی مساوات ضروری ہے پلان انٹرنیشنل کا عالمی سطح پر مختلف عہدوں اور زمہ داریوں کو عا لمی پوزیشن حاصل کرنے کا اقدام معاشرے میں چیلنجنگ پوزیشن حاصل کرنے میں لڑکیوں کو بہترین مواقع فراہم کرتا ہے ۔موجودہ حکومت نے بچوں کے تحفظ کے لیے خصوصی طور پر زور دیا ہے کہ گھروں ، معاشرہ اور کام کی جگہوں پر بچوں کے تشدد کے خاتمے کے لیے ہم نے قانونی اور انتظامی اصلاحات بھی کی ہیں"۔صنفی مساوات کا حصول ان عالمی مقاصد میں سے ایک ہے جن پر عالمی قائدین نے 2015 پر اتفاق کیا کہ 2030 تک دنیا کو تبدیل کرنے کا وعدہ کیا ۔ پلان انٹرنیشنل خبردار کرتی ہے کہ سیاسی اور سماجی رویوں میں بڑی تبدیلی کے بغیر یہ مقصد اور دیگر مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے۔پلان انٹرنیشنل پاکستان کے پروگرام ڈائریکٹر عدنان لئیق نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ ہم جانیں کہ لڑکیاں کیا کر سکتی ہیں اور ان کو کیا اجازت ہے ان کے دونوں صورتوں کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے اور دنیامیں لڑکیوں کی ناقابل یقین صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے ۔پلان انٹرنیشنل پاکستان کی جینڈر سپیشلسٹ صوفیہ نے کہا کہ ہاں ہمیں خود کو یقین دلانا ہے کہ آگے بڑھنے سے پہلے بچوں کے حقوق بالخصوص لڑکیوں کے حقوق کے نامکمل ایجینڈے کو غور سے دیکھنا ہے۔ ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو لڑکیوں کی شادی کے سدباب کے لیے اصلاحات / قانون سازی کی ضرورت ہے ۔ لڑکیوں کی تعلیم ، تمام امتیازی سلوک کا خاتمہ، بدسلوکی اور غفلت میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...