جہانگیرترین کی دستاویزات میں متضاد چیزیں ہیں،جن سے فریب کا تاثر ابھرتا ہے،چیف جسٹس

جہانگیرترین کی دستاویزات میں متضاد چیزیں ہیں،جن سے فریب کا تاثر ابھرتا ...
جہانگیرترین کی دستاویزات میں متضاد چیزیں ہیں،جن سے فریب کا تاثر ابھرتا ہے،چیف جسٹس

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے موکل کی جانب سے داخل کی گئی دستاویزات میں متضاد چیزیں ہیں ،بظاہر لگتا ہے کہ یہ تمام دستاویزات جعلی ہیں ،صرف لیز معاہدے سے حقائق واضح نہیں ہوئے کسی دستاویزسے ثابت کریں کہ آپ ان زمینوں پر کاشتکاری کر رہے ہیں ،کیا آپ چاہتے ہیں کہ کسی مناسب فورم سے تحقیقات کرائی جائیں؟۔چیف جسٹس نے کہا کہ جہانگیرترین کی دستاویزات سے فریب کا تاثر ابھرتاہے کیا تحقیقات کیلئے کمیشن بنایا جائے۔

اس پر جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا کہ عدالت کو 18ہزار 566ایکڑاراضی کی دستاویزات دی ہیں،اوردستاویزات رحیم یارخان اورراجن پورکے علاقے سے متعلق ہیں، جوجانتاتھاپہلے ہی عدالت کوبتاچکا، عدالت اپنی تسلی کےلئے حکم دے سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔اثاثہ جات ریفرنس، اسحاق ڈار پیشی کیلئے احتساب عدالت پہنچ گئے

مزید : قومی


loading...