فطری انجام

فطری انجام
فطری انجام

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پچھلے ستر برسوں کے دوران مملکت خدا داد میں مظاہر زندگی کی فطری نمو نہیں ہو سکی،کچھ لوگ اجتماعی حیات کے ہر زاویہ کو اپنی گرفت میں رکھ کر معاشرے کی تقدیر خود لکھنے کے شوق میں ہر شعبہ زندگی میں متضاد تجربات کر کے لامحالہ بگاڑ کا سبب بنے۔

ہماری دنیا اس کائنات کی وسیع سکیم میں ایک جز کی حیثیت رکھتی ہے،اسی لئے انسان اپنی ذہنی صلاحیتوں اور اجتماعی مساعی سے ایک خاص حد تک نظام حیات کو مینج کرنے کی قدرت ضرور رکھتا ہے،مجموعی طور پر فطرت خود ہی نظام کائنات کی تدوین کا اہتمام کرتی ہے۔

پھول کی پتی میں رنگ بھرنے سے لے کر افلاک کے ثابت و سیارکی سب گردشیں اس کے تصرف میں ہیں، فطرت اس کائنات میں رونما ہونے والے چھوٹے بڑے حوادث کے ذریعے خاص ترتیب کے ساتھ حالات کے دھارے کو بدل کر حشرات الارض سے لیکر انسانوں تک کے رجحانات کا رخ متعین کرتی ہے، ہکسلے نے کہا تھا کہ ’’ہم اپنی آرزوں پر عمل کرنے میں آزاد ہیں لیکن اپنی آرزوں کا انتخاب کرنے میں آزاد نہیں‘‘،تغیر و تبّدل کے اسی بے لاگ عمل کے تحت کائنات میں فنا و بقا اور عروج و زوال کا نظام استوار رہتا ہے،یہی غیر مربوط واقعات، حالات کے دھارے کا رخ موڑ کے طاقتوروں کو کمزور اور ناتوانوں کو طاقتور بنا دیتے ہیں،واٹرلو کے میدان میں اگر نپولین شکست نہ کھاتے تو آج یورپ کا نقشہ کچھ اور ہوتا اور اگر پانی پت کی دوسری جنگ میں عادل شاہ سوری کے ہندو جرنیل ہیموبقال کو اتفاقاً آنکھ میں تیر نہ لگتا تو آج برصغیر کی تاریخ بھی مختلف ہوتی۔

بلاشبہ کچھ افراد ،طبقات اور اداروں کو ایک حد تک اپنی منشا کو عملی جامہ پہنانے کی طاقت حاصل ہو جاتی ہے لیکن وہ اپنے فیصلوں کے نتائج کو کنٹرول کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ مولانا روم نے اسی عمل کو ایک خوبصورت حکایت میں کچھ یوں پیش کیا ہے: ’’ ایک شخص نے حضرت سلیمانؑ کے پاس حاضر ہو کر آپؑ سے جانوروں کی بولیاں سکھانے کی درخواست کی،آپؑ نے انہیں جانوروں کی زبانیں سیکھنے سے منع کر دیا لیکن وہ بندہ مسلسل اصرار کرتا رہا،آخر کار اس شخص نے حضرت سلیمانؑ سے کہاکہ ان کے گھر میں پالتو کتّا اور ایک مرغا موجود ہے،حضرت مجھے صرف ان دو جانوروں کی زبان سکھا دیجئے،سلیمان علیہ السلام نے انہیں مرغے اور کتّے کی بولی سکھا دی،ایک شام اسی شخص نے اپنے گھر میں کھانا کھاتے وقت کتّے کی طرف روٹی کا ٹکڑا پھنکا،جسے اچانک مرغے نے اچک لیا،کتّے نے مرغے سے کہا کہ روٹی کا نوالہ مالک نے مجھے ڈالا تھا، لیکن تم نے چھین کے میرا حق مار لیا،مرغے نے کہا فکر نہ کریں آج رات مالک کی گائے مرنے والی ہے، صبح تو گوشت پر مزے کرے گا،کتّے اور مرغے کی گفتگو سنتے ہی مالک نے اسی شب گائے فروخت کر دی،دوسری شام پھر مرغا اور کتّا اکٹھے ہوئے تو کتّے نے کہا تو نے میرا حصہ تو چھین لیا لیکن جس گائے کی موت آنی تھی،اسے تو مالک نے راتوں رات بیچ ڈالا۔

مرغے نے کتّے سے کہا گھبرائیں نہیں، وہی گائے والی موت اس کے غلام پر آ گئی ہے، آج رات اس کا فلاں غلام فوت ہو جائے گا،صبح اس کے ایصال ثواب کے لئے خیرات ہو گی،خوب پیٹ بھر کے کھا لینا،دونوں کی بات سنتے ہی مالک نے اسی رات غلام کو بھی فروخت کر دیا،تیسری شام جب مرغا اور کتّا پھر اکٹھے ہوئے تو کتّے نے پھرکہا، دیکھا ! ہمارا مالک کتنا سمجھدار ہے موت سے پہلے غلام کو بیچ کر تقدیر کو ٹال دیا،مرغے نے کہا چنتا مت کیجئے، وہی غلام والی موت مالک کے اپنے سر آن پہنچی ہے، آج رات یہ خود مر جائے گا،امیر کبیر آدمی ہے، کل اس کے ورثا ایصال ثواب کے لئے بڑی خیراتیں کریں گے، تم خوب کھا پی لینا۔

یہ سنتے ہی وہ شخص تڑپ اٹھا،بھاگتا ہوا حضرت سلیمانؑ کے پاس پہنچا اور انہیں درخواست کی، حضرت! خدا کے لئے جانوروں کی زبانوں کو سمجھنے کا علم واپس لے کر مجھے موت سے بچا لیجئے،لیکن اس وقت تک تقدیر اپنے فیصلے کر چکی تھی‘‘ بلاشبہ فطرت نے انسان کو ہر حد پھلانگ کر اپنی خواہشات کی تکمیل کی قدرت دے رکھی ہے، لیکن انسانوں کو آرزوؤں کے انتخاب اور اعمال کے نتائج کا تعین کرنے کی طاقت نہیں دی۔

پی ٹی آئی نے تبدیلی کے نعروں کے ساتھ کسی طور اقتدار تو حاصل کر لیا لیکن شاید وہ اس تغیر کے نتائج کو سنبھال نہیں پائے گی،اس پیش دستی کے انجام کا فیصلہ اب فطرت خودکرے گی،ہم کسی کی نیت پر شک نہیں کر سکتے، لیکن کل جس یقین کے ساتھ عمران، نواز حکومت کے جن اقدامات کو غلط کہہ کر مسترد کرتے تھے،آج ان کی اپنی کہی گئی باتیں ان کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہوگئیں،بلاشبہ کچھ لوگ صحیح راہ پر چلنے کے خبط میں بھٹک جاتے ہیں،حالات کے تیور بتاتے ہیں کہ وہ انکساری کے ساتھ اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے صداقت کی طرف پلٹنے کی بجائے،اپنی افتاد طبع کے عین مطابق کچھ نئے ارادوں کے ساتھ زیادہ بیباکی سے آگے بڑھنے کی جسارت کریں گے اور شاید یہی پیش قدمی اسے اپنے آخری انجام تک پہنچانے کا وسیلہ بنے۔

تاریخ گواہی دیتی ہے کہ ایک جائز اور صحت مند عمل،جسے فطرت قبول کرتی ہو، کے نتائج ناانصافی پر مبنی کام کے انجام سے مختلف ہوتے ہیں۔تحریک انصاف کی کامیابی کے نتیجے میں بظاہر سویلین بالادستی کے داعی معتوب اور معقولیت کے حامی مجروح نظر آتے ہیں لیکن وقت ہی اس تبدیلی کے منفی و مثبت نتائج کا آخری فیصلہ کرے گا۔

یہ بھی ممکن ہے کہ ان تمام تغیرات کی کوکھ سے کہیں خیر برآمد ہو جائے، اگر ایسا ہوا تو اس خیر کے حامل عمران خان نہیں کوئی اور ہوں گے۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہماری اشرافیہ نظام زندگی کو اپنے قبضہ قدرت میں رکھنے کی خاطر کائنات کے اٹل اصولوں کو توڑنے کی بجائے خود کو فطرت سے ہم آہنگ رکھنے کی کوشش کرتی۔
چین اور کیوبا سمیت آج بھی دنیا کے کئی ممالک میں استبدادی حکومتیں قائم ہیں، لیکن وہ اپنے ملک کے بہترین رجال کار کے قدر دان اور عوام کے بنیادی،سماجی اور معاشی حقوق کے امانت دار ہونے کی وجہ سے کروڑوں انسانوں کے لئے قابل قبول ہیں، ہمارا معاشرہ آج بھی جمہوریت کی کبریائی صلاحیتوں پر شک کرتے ہوئے ہمہ وقت کسی نجات دہندہ کا منتظر رہتا ہے،اگر ہمارے ہاں آمریتیں ڈلیور کرتیں تو سماج انہیں بخوشی قبول کر لیتا،لیکن افسوس کہ سات عشروں پر محیط مختصر تاریخ بتاتی ہے کہ ہماری مقتدرہ کی ہر منصوبہ بندی وقت کی صرف ایک ہی کروٹ کے ساتھ بیکار ہوتی گئی،آزادی کے ابتدائی ایام کے طاقتوروں نے انتہائی نیک نیتی کے ساتھ اس وقت کے کہنہ مشق سیاستدانوں کو نااہل اور غلط کار کہہ کر ریاستی امور کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور ذولفقار علی بھٹو سمیت کئی روشن خیال سیاست دانوں کی ایک نئی کھیپ تیار کر کے انہیں پروموٹ کرنے کی منصوبہ بندی کی۔

انہی تجربات کے دوران مملکت دولخت ہوگئی،لیکن بدقسمتی سے ذوالفقار علی بھٹو کو جن قوتوں نے آگے بڑھایا وہ انہی کے خلاف مزاحمت کی علامت بن کے ابھرے، پھر ذوالفقار علی بھٹوکے آسیب سے نجات پانے کی خاطر اصغر خان کی تحریک استقلال،مذہبی جماعتوں اور آخر میں میاں نوازشریف کی دستار بندی کرائی گئی،آخر کار وہ بھی اپنے تخلیق کاروں کی توقعات کے برعکس نکلے،چنانچہ انہیں واپس اپنے سائز میں پہنچانے کی خاطر شطرنج کے مہرے کی طرح ایک بار پھر ذولفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر کو آگے بڑھانے کی چال چلی گئی،پھر نواز شریف اور بے نظیر ،دونوں کو پسپا کرنے کی خاطر ایم کیو ایم، مسلم لیگ(ق) اور ایم ایم اے کو اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچایا گیا،اسی اُدھیڑ بُن کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ایم ایم اے،ایم کیو ایم اورمسلم لیگ(ق) جیسی محبوب جماعتیں بیکار ہو گئیں، چنانچہ حاکمان قضا و قدر نے نئی دنیا کی تخلیق کی خاطر عمران خان کی امیج سازی کر کے تحریک انصاف کی صورت میں ایک نئی قوت کی تخلیق کے ذریعے اپنی کبھی نہ ختم ہونے والی آرزوؤں کو عملی جامہ پہنانے کی راہ نکالی۔

سوال یہ ہے کہ اگر یہ بھی ناکام ہو گیا تو پھر کیا ہو گا؟ کیا مملکت کی تقدیر کے مالک تعمیر ملت کے عظیم مقصد کو چھوڑ کے تاحشر قیادتوں کو بنانے اور مٹانے کے محوری سفر میں سرگرداں رہیں گے اور وہ کبھی اس کائنات میں کارفرما عروج و زوال کے اٹل اصولوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کریں گے۔

مزید :

رائے -کالم -