مقبوضہ کشمیر کی قانون ساز کونسل کو باضابطہ طور پر ختم کردیا گیا

مقبوضہ کشمیر کی قانون ساز کونسل کو باضابطہ طور پر ختم کردیا گیا
مقبوضہ کشمیر کی قانون ساز کونسل کو باضابطہ طور پر ختم کردیا گیا

  



سری نگر(صباح نیوز)مقبوضہ کشمیر کی حکومت نے 31 اکتوبر کو جموں و کشمیر کے یونین ٹیریٹری علاقہ بننے سے قبل جمعرات کو 36 رکنی قانون ساز کونسل کے ایوان بالاکو باضابطہ طور پر ختم کردیا۔مقننہ کے ایوان بالا کو تحلیل کرنے کا باضابطہ حکم جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (جی اے ڈی)نے جاری کیا ہے۔جموں وکشمیر بھارت کی ان ریاستوں میں شامل تھا جس میں مقننہ کے دو ایوان تھے۔

نیوز ایجنسی ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق حکومتی آرڈر کے مطابق کہا گیاہے کہ قانون ساز کونسل کے ایک اضافی سکریٹری اور تین ڈپٹی سیکرٹریوں سمیت116رکنی عملہ22اکتوبر تک جی اے ڈی کو رپورٹ کرے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ قانون ساز کونسل کے ذریعہ وقتا فوقتا خریدی گئی تمام گاڑیاں ڈائریکٹر اسٹیٹ موٹر گیراج ، عمارت ، فرنیچر اور الیکٹرانک گیجٹس کو ڈائریکٹر اسٹیٹ اور سرکاری ریکارڈ کومحکمہ قانون وانصاف کے سپرد کیا جائے۔قانون ساز کونسل ، جو 62 سال پہلے 1957 میں تشکیل دی گئی تھی ،اس کی تحلیل کا بل5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کیا گیا تھا۔ قانون ساز کونسل کے خاتمے کا مطالبہ اس سے پہلے بھی وقتا فوقتا اٹھایا جاتا رہاکیونکہ یہ ایک سفید ہاتھی بن گیا تھا جو حکمران سیاسی جماعتوں اور ان کے شکست خوردہ ایم ایل اے کے پسندیدہ افراد کی بحالی کے لئے استعمال ہوتا تھا۔

مزید : علاقائی /آزاد کشمیر /مظفرآباد