پُرامن احتجاج کا آئینی حق

پُرامن احتجاج کا آئینی حق

  



اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ پُرامن احتجاج ایسا حق ہے، جس کی آئین ضمانت دیتا ہے اور یہ آئینی تحفظ کی وجہ سے چھینا نہیں جا سکتا،یہ ریاست اور ریاستی اداروں کی ذمے داری ہے کہ وہ امن و امان قائم رکھیں،یہ فیصلہ کر کے اسلام آباد ہائی کورٹ نے امن وامان قائم کرنے کی ذمہ داری اسلام آباد کی انتظامیہ پر عائد کر دی ہے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آنے والے ”آزادی مارچ“ کے سلسلے میں حفاظتی انتظامات کرنا انتظامیہ کی ذمے داری ہے،اس فیصلے کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ایک ہی مضمون کی متعدد درخواستیں نپٹا دیں جو درخواست گزاروں نے آزادی مارچ روکنے کے لئے دائر کی تھیں۔

دارالحکومت یا کسی بھی بڑے شہر میں اس طرح کے احتجاج کے موقع پر عمومی طور پر ایسی درخواستیں اعلیٰ عدالتوں میں دائر کر دی جاتی ہیں،دیکھا یہی گیا ہے کہ ایسی درخواستوں کے درخواست گزار زیادہ ترمخصوص لوگ ہی ہوتے ہیں،جن کی ایسے معاملات میں ایک مخصوص شہرت ہوتی ہے۔ان میں ایسے وکیل بھی ہوتے ہیں جو عوامی مفاد کے نام پر اکثر و بیشتر ایسی درخواستیں دائر کرتے رہتے ہیں،فاضل جج صاحبان کے روبرو واپسی درخواستیں عموماً احتجاج کے مقررہ وقت سے چند روز پہلے سماعت کے لئے آتی ہیں اور وہ حالات و واقعات کی روشنی میں جو فیصلہ بھی مناسب سمجھتے ہیں،صادر کر دیتے ہیں،موجودہ فیصلہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ فاضل چیف جسٹس نے اس میں واضح کر دیا ہے کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا ایسا بنیادی آئینی حق ہے،جو کسی سے اِس لئے چھینا نہیں جا سکتا کہ آئین نے اس کے تحفظ کی ضمانت دی ہوئی ہے،اِس لئے ایسے کسی احتجاج کو روکا نہیں جا سکتا تاہم اگر احتجاج کے بارے میں کسی کو کوئی خدشات ہوں اور یہ امکان ہو کہ یہ پُرامن نہیں رہے گا، تو انتظامیہ کو پہلے سے ایسے اقدامات لینے چاہئیں جن کو کام میں لا کر احتجاج کو پُرامن بھی رکھا جائے اور کسی کو شکایت بھی نہ ہو۔

تازہ فیصلہ اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں شہریوں کے حق ِ احتجاج کو آئینی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور یہ ایسا حق ہے جو کوئی چھین نہیں سکتا اور اگر چھیننے کی کوشش کرے گا تو وہ آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا اور آزاد اور ذمے دار شہریوں کے حق کے آڑے آنے کی کوشش کرے گا،یہ فیصلہ نہ صرف مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے انعقاد کی اجازت دیتا ہے،بلکہ مستقبل کے لئے بھی ایک واضح اور روشن راستہ متعین کر دیتا ہے اور یہ قرار دے دیتا ہے کہ آئینی حق کی ضمانت موجود ہے۔البتہ اگر کسی کو کوئی خدشہ ہو کہ احتجاج پُرامن نہیں رہے گا تو یہ انتظامیہ کی ذمے داری ہے کہ وہ اسے پُرامن رکھنے کے لئے اقدامات کرے،اس فیصلے نے آئندہ کے لئے بھی ایسے احتجاج کے خلاف عدالتوں میں درخواست بازی کا راستہ بھی محدود کر دیا ہے،کیونکہ دیکھا یہی گیا ہے کہ ایسے کسی بھی موقع پر چند مخصوص درخواست گزار ایسی درخواستیں لے کر عدالتوں میں پہنچ جاتے ہیں،جن میں موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ فاضل عدالت احتجاج روک دے،کیونکہ اس سے امن و امان متاتر ہونے کا خدشہ ہے،ایسے ہی دلائل ہر بار دہرائے جاتے ہیں،اِس لئے موجودہ فیصلے میں یہ مسئلہ بھی ہمیشہ کے لئے طے کر دیا گیا ہے کہ کسی بھی شہری کو پُرامن احتجاج کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا،البتہ اگر یہ خدشہ موجود ہو کہ کوئی اجتماع یا احتجاج کسی وجہ سے پُرامن نہیں رہ سکے گا تو اس کے لئے پیشگی طور پر ایسے اقدامات کئے جا سکتے ہیں،جو امن کو یقینی بنائیں، ویسے تو انتظامیہ کی ذمے داریوں میں شامل ہے کہ وہ امن وامان قائم رکھنے کو یقینی بنائے،لیکن عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ لکھ کر کہ آنے والے آزادی مارچ کے سلسلے میں امن و امان کے اقدامات کرنا انتظامیہ کی ذمے داری ہے نہ صرف انتظامیہ کو اس کا فرض یاد دِلا دیا ہے،بلکہ تاکید مزید بھی کر دی کہ ایسے اجتماع کے موقع پر امن و امان کی ذمے داری بہرحال انتظامیہ ہی پر عائد ہو گی اور اگر کسی وجہ سے احتجاج پُرامن نہیں رہتا تو جواب دہ بھی وہی ہو گی۔

جہاں تک مولانا فضل الرحمن کے احتجاجی ”آزادی مارچ“ کا تعلق ہے اس کے بارے میں مخالفین طرح طرح کے پروپیگنڈے میں مصروف ہیں،کبھی رضا کاروں کی وردیوں کا رونا رویا جاتا ہے اور کبھی احتجاج میں ڈنڈوں کی موجودگی پر واویلا کیا جاتا ہے،حالانکہ سیاسی جماعتوں کے رضا کار ہر احتجاج کے موقع پر اسی طرح ذمے داریاں سنبھالتے ہیں،اگر کوئی جماعت نظم و ضبط کے معاملے میں بالکل ہی عاری ہے تو اس کا معاملہ الگ ہے، لیکن ہر سیاسی جماعت جب کبھی اور جہاں کہیں بھی اپنا احتجاج یا جلسہ کرتی ہے اس کے پاس ڈنڈے بھی ہوتے ہیں اور جھنڈے بھی حتیٰ کہ دینی تبلیغی جماعتوں کے اجتماعات میں بھی اب رضا کار ڈنڈوں سے ”مسلح“ ہوتے ہیں، یکم نومبر کو لاہور میں عالمی تبلیغی اجتماع ہو رہا ہے، جس کسی کا دِل چاہے وہ وہاں جائے اور ”مسلح“ ڈنڈے برداروں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے،تبلیغی اجتماع میں غیر معمولی رش کے باوجود امن وامان کی صورتِ حال اطمینان بخش ہوتی ہے اور کبھی کسی نے تبلیغی ڈنڈہ برداروں پر اعتراض نہیں کیا تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر ایسے ہی ڈنڈے مولانا فضل الرحمن کے رضا کار اُٹھا لیں تو اس میں کیا خرابی ہے، یہاں تو لوگوں نے ”کیل والے ڈنڈے“ بھی دیکھے ہیں اور ان ڈنڈوں سے پولیس افسروں کی مرمت ہوتے بھی دیکھی ہے،لیکن اب اُن ایام کو کوئی یاد نہیں کرتا،کیونکہ اتفاق سے اب وہ جماعت برسر اقتدار ہے جو اپنے احتجاج میں ہرطرح کی ”سخن گوئی“ اور مخالفانہ بیان بازی کو عین کارِ ثواب سمجھتی تھی اور اگر اس کے کارکن ٹی وی سٹیشن کی بلڈنگ میں گھس کر نشریات بند کر دیتے تھے تو اس کا کریڈٹ بھی لیتی تھی تو کیا اب کوئی ایسے ڈنڈا بردار آ رہے ہیں، جو پہلے کسی نے نہ دیکھے ہوں؟ ہر سیاسی جماعت کے جلسے اور اجتماع میں جو جھنڈے لہرا رہے ہوتے ہیں وہ بھی ایسے ہی ڈنڈوں کی وجہ سے سربلند ہوتے ہیں اگر ڈنڈے والے جھنڈے اٹھانا کوئی جرم نہیں ہے تو بغیر جھنڈے کے ایسا ہی ڈنڈا اُٹھا لینا کون سا گناہ ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کر دیا ہے کہ شہریوں کو پُرامن احتجاج کا حق ہے اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ کسی احتجاجی کو امن کے منافی اقدامات کی اجازت نہیں اور اگر وہ ایسا کرے گا تو خلافِ قانون حرکت کرے گا اِس لئے ”آزادی مارچ“ کے منتظمین کا فرض ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو پُرامن رہنے کی تلقین بھی کریں اور بطور جماعت ذمے داری کا ثبوت بھی دیں،جو کارکن احتجاج کے لئے آ رہے ہیں پُرامن رہنا اور ساتھیوں کو پُرامن رکھنا اُن کی ذمے داری ہے۔ انتظامیہ کوبھی اِس سلسلے میں معاونت فراہم کرنی چاہئے،احتجاج اگر پُرامن نہ ہو اور اشتعال کی حدود میں داخل ہو تو آئین ایسے احتجاج کی ضمانت نہیں دیتا۔

مزید : رائے /اداریہ